ردھانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ردھانی (Radhani)[1] قبیلہ اعوان خاندان کا ذیلی قبیلہ ہے۔ اعوان حضرت علی رض کی غیر فاطمی اولاد ہیں جنہیں علوی کہا جاتا ہے اور علوی اعوان پنجاب میں 520 ہجری میں وادی سون میں آکر آباد ہوئے.

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب تیسری شادی کا ارادہ کیا تو اپنے بھائی حضرت عقیل (رض) سے مشورہ لیا کہ مجھے کسی ایسے خاندان کا رشتہ بتائیں جس سے بہادر بچے پیدا ہوں، حضرت عقیل انساب العرب کے ماہر تھے۔ انہوں نے بنو کلاب کی ام البنین (رض) کا مشورہ دیا۔ ام البنين کے بیٹے حضرت عباس (رض) سے حضرت علی کی غیر فاطمی اولاد علوی/اعوان آگے چلی.


اعوان خاندان کے کچھ قبیلے وادی سون سے وادی نمل جو موسی خیل کی ڈھک والی پہاڑیوں کے قریب واقع ہے، وہاں رکھی کے پاس آباد ہوئے. وہاں پر ایک خاندان سیلو بھی آباد تھا۔ وادی نمل میں قحط پڑا تو یہاں کے اعوان اور سیلو قبیلہ نے نقل مکانی کر کے بوری خیل کے پہاڑوں کے پاس اپنے جانوروں کیساتھ پڑاؤ ڈالا. وہاں شاید ایک دو مہینے ہی رہے تھے کہ بوری خیل کے بزرگوں نے انہیں اپنے علاقے سے نکالنے کے لیے دریائے سندھ کے کنارے کچہ کی آبادی کا راستہ دکھایا کہ یہاں آپکے مویشیوں کو چارہ بھی ملے گا اور جگہ بھی کھلی ہے، یہاں آسانی سے رہ سکیں گے. یوں اعوان اور سیلو دریائے سندھ کے کنارے کندیاں شہر کی دوسری طرف آباد ہوئے جس کا نام سیلواں پڑا. اب بھی وادی نمل میں سیلواں کے کھولے نامی جگہ موجود ہے. عمران خان کے نمل کالج کے لیے نمل کے قریب رکھی کے سیلو قبیلے کے لوگوں نے اپنی زمین بھی دی ہے۔ یہاں موجود نمل جھیل 1913 میں انگریز دور میں بنائی گئی۔

وادی سون اور وادی نمل ایک ریاست کی طرح ہیں اور وہاں جھیلیں، پہاڑ، ندی نالے اور مختلف گاؤں آباد ہیں۔ ان گاؤں کو ڈھوک بھی کہتے ہیں۔ ان ڈھوکوں میں اکثر اعوان خاندان کی مختلف گوئتیں آباد ہیں۔

نمل سے سیلواں تک[ترمیم]

نمل سے نکلنے والے اعوان پہلے پہل بوری خیل گئے تو انہوں نے انہیں کچہ کا علاقہ دکھایا اور وہاں سے نکال دیا، اب یہ لوگ وتہ خیل کے قریب دریا کیساتھ آ بیٹھے، یہاں وتہ خیلووں سے نہ بن پائی تو یہ لوگ ہمت شاہ یعنی پیر پتنگ کے قریب (اس وقت نہیں معلوم یہ پیر پتنگ کا مزار تھا یا نہیں) آ بسے، یہ علاقہ کندیاں کی حدود میں آتا تھا۔ یہاں کندیاں کے لوگوں سے جھگڑے ہوئے تو بالآخر یہاں سے بھی نقل مکانی کرنی پڑی. اب اعوانوں کی بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ میاں سلطان ذکریا کے پاس جاتے ہیں اور ان سے اپنے لیے علاقہ کی درخواست کرتے ہیں۔ یوں چند بزرگ میاں سلطان ذکریا رح کے پاس گئے، سلطان زکریا نے انہیں بتایا کہ دریا کے پار ایک جگہ ایک اینٹ لگی ہے، یہ جگہ کندیاں، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، عیسی خیل کی حد ہے۔ آپ لوگ اس کے آس پاس پڑاؤ ڈالو، جب کندیاں کے لوگ جگہ کا مطالبہ کریں تو انہیں کہیں کہ یہ تو ڈیرہ اسماعیل خان کا علاقہ ہے اور جب ڈیرہ کے لوگ آئیں تو انہیں عیسی خیل کا علاقہ کہ دیں اور یوں آپ اس جگہ پر مستقل رہائش حاصل کر لوگے. بحرحال دریا کے پار جب اعوانوں نے پڑاؤ ڈالا تو اسی کا نام سیلواں پڑ گیا، اس کے بعد عیسی خیل کے نواب/خوانین بھی شروع میں علاقہ حاصل کرنے کی کوشش میں رہے لیکن بعد میں ان کے کافی اچھے تعلقات ردھانی قبیلے سے استوار ہو گئے۔ کندیاں اور وتہ خیل کے لوگوں سے کئی دفعہ باقاعدہ لڑائی ہوئی. بالآخر یہ جگہ اعوانوں نے آباد کر لی اور یہ سیلواں سے مشہور ہو گئی۔ تقریباً یہ 1700 عیسوی کے قریب قریب کا واقعہ ہوگا.

اب تک کی تحقیق کے مطابق 1700 کے قریب قریب موسی خیل میں ڈھک والی پہاڑی کے قریب کھوکھر اعوانوں کے گھرانے آباد تھے۔ جنہیں پہلے 1760 کے قریب موسی خیل نیازیوں نے یہاں سے لڑائی کر کے نکالا اور بعد میں سکھوں نے اس جگہ پر قبضہ کر لیا. سکھوں نے 1792 میں ڈھک والی پہاڑی پر موجود مشہور درہ/قلعہ پر قبضہ کیا. (بحوالہ تاریخ علو والی از اعجاز علو والوی اور تاریخ نیازی قبائل از محمد اقبال خان تاجہ خیل)

نمل رکھی کے قریب سیلواں کے کھولے اور ان کھوکھر اعوانوں میں کوئی ربط ہے یا نہیں، اس پر ابھی تحقیق جاری ہے.

سیلواں[ترمیم]

اب جب نمل اور بوری خیل سے سیلو اور اعوان کندیاں شہر سے دریا کی دوسری طرف آباد ہوئے تو اس آبادی کا نام سیلواں پڑ گیا۔ یہ سیلواں کا علاقہ اس وقت عیسی خیل کے نواب کرنل اسلم خان جو بیگم زکیہ شاہ نواز (ہمشیرہ ببلی خان) کے سسر تھے، ان کے دادوں پردادوں کے کنٹرول میں تھا، لیکن کرنل اسلم خان کے بزرگوں نے اتنی زیادہ تعداد میں نقل مکانی کر کے آنے والے لوگوں سے لڑائی کرنا مناسب نہ سمجھا اور یہ علاقہ یوں اعوانوں نے آباد کر لیا. یہ سیلواں کندیاں کچہ کا حصہ تھا۔ کچھ بزرگوں کا خیال ہے کہ سیلواں ڈیم کی نذر ہونے سے کم از کم اڑھائی سو سال پہلے یعنی 1720-1700 کے قریب آباد ہوا. سیلواں شہر جب کے دریا کنارے آباد ہوا تو وہاں کے لوگ میانوالی میں وتہ خیل کے علاقے کے قریب اپنے کاروبار وغیرہ کے لیے آتے تھے اور آج بھی وہاں چنگی سیلواں موجود ہے۔ سیلواں کے سیلو اور اعوان اپنے مردوں( میتوں) کو پہلے پہل کنڈل کے پہاڑوں کے قریب دفناتے تھے۔ کنڈل میں آج بھی سیلواں کا قبرستان موجود ہے۔ اور بعد میں کشتی کے ذریعے دریا پار کر کے کندیاں میں گھنڈی کے مقام پر دفنانا شروع کر دیا۔ سیلواں میں تریڑ اعوان، سیلو اعوان، سنگوال اعوان اور ڈرہال اعوان بھی آباد تھے۔ ضلع گزٹ میانوالی 1915 میں صفحہ نمبر 60 پر اعوانوں کے ذیلی قبائل کی مثال دیتے ہوئے ڈرہال اعوانوں کا ذکر بھی موجود ہے۔ سیلو بھی ایک اعوان قبیلہ ہے۔ جس میں محمد خیل سیلو ایک زیلی قبیلہ ہے۔ ضلع اٹک کی تحصیل فتح جھنگ میں ایک گاؤں ڈھوک سیلو ہے، یہاں سیلو اعوان آباد ہیں۔ اسی طرح ضلع نارووال تحصیل شکر گڑھ میں بھی میلو سیلو نامی گاؤں میں اعوان آباد ہیں۔

ضلع میانوالی گزٹ 1915 کے صفحہ 44 پر سیلواں کو ایک محفوظ گاؤں کہا گیا ہے۔ صفحہ 79 پر سیلواں میں ایک مزار گجن شاہ کا ذکر بھی موجود ہے۔ سیلواں میں رہنے ردھانیوں کے کچھ گھرانے گجن شاہ سے مذہبی نسبت بھی رکھتے تھے۔ اور اب بھی ان میں سے کچھ لوگ دریا پار کر کے گجن شاہ کے مزار پر حاضری دینے جاتے ہیں۔ گجن شاہ کے مزار کے ساتھ ایک مسجد بھی موجود ہے۔ سیلواں میں گجن شاہ کا ذکر 1972 کی مردم شماری رپورٹ ضلع میانوالی میں بھی صفحہ 18 پر موجود ہے. [2]

میانوالی ڈسٹرکٹ سٹیٹسٹیکل ٹیبل 1935 کے صفحہ 86 کے مطابق سیلواں گاؤں میں 113 ایکڑ پر جنگل تھا. [3]


ڈسٹرکٹ بنوں گزٹ 1883 کے صفحہ 153 پر پنجاب Femine رپورٹ آف 1879 کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ سیلواں اور گانگی گاؤں میں کشتیوں کے رکنے اور جانے کے لیے ایک سٹیشن تھا. [4]

اس وقت مجاہد ٹاؤن میانوالی میں پرائمری سکول گانگی موجود ہے۔ یہی لفظ گانگی اور گانگوی ملتے جلتے ایک ہی گاؤں کے نام تھے۔ گانگی جو سیلواں کے شمال پر ایک میل کے فاصلے پر واقع تھا، اس گاؤں میں مولانا احمد الدین گانگوی ولد مولانا غلام علی مرحوم 1853 میں پیدا ہوئے اور سیلواں کے مولانا علی محمد سے ابتدائی تعلیم حاصل کی.

اب محلہ قادر آباد میانوالی میں گانگوی گلی اور ایک گانگوی محلہ بھی ہے۔ وہاں سے مشہور گانگوی مسجد اور گانگوی علما بھی ہیں۔

مولانا حکیم محمد امیر علی شاہ گانگوی نے ابتدائی تعلیم سیلواں گاؤں کے گل محمد قریشی سے حاصل کی. ((بحوالہ تاریخ میانوالی از ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی، صفحہ 260) گل محمد قریشی کندیاں محلہ سیلواں میں آباد مولوی نجم الدین (جنہیں مولوی محمد) بھی کہا جاتا ہے، ان کے چچا مرحوم تھے۔ مولوی محمد قریشی اس وقت حیات ہیں اور کندیاں شہر میں ردھانیوں کے زیر انتظام مسجد رحمانیہ حنفیہ کے امام رہے ہیں اور اب بزرگ ہونے کی وجہ سے جمعہ اور عیدین پر تشریف لاتے ہیں۔

مولانا شیر محمد قریشی، مولانا غلام محمد قریشی اور مولانا گل محمد قریشی کا ذکر سیلواں کے علما کے طور ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی کی کتاب تاریخ میانوالی میں درج ہے۔ اس وقت کندیاں شہر محلہ سیلواں میں گل قریشیوں کی مسجد امیر حمزہ بھی ردھانی اور قریشی قبیلہ کے مشترکہ زیر انتظام ہے۔

FAFEN کی رپورٹ کے مطابق موجودہ NA-96 اور سابقہ NA-72 میں موضوع سیلواں شامل ہے. [5]

مولانا حسین علی الوانی رح (1867-1944) (واں بھچراں والوں) نے ابتدائی تعلیم سیلواں کے مدرسے سے حاصل کی. (بحوالہ تاریخ میانوالی از ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی، صفحہ 261)

اعجاز علووالوی نے اپنی کتاب تاریخ علو والی کے صفحہ 191 پر لکھا ہے کہ علو والی کے مشہور "مولوی اکبر سرور خیل جن کی وفات 1938 میں ہوئی، انہوں نے بھی قرآن و حدیث کی تعلیم سیلواں گاؤں میں قریشی خاندان سے حاصل کی." (تاریخ علو والی صفحہ 191 از اعجاز علو والوی)

دریا سندھ موضع سیلواں کے دونوں طرف بہتا تھا۔ سیلواں دریا کے درمیان میں ایک اونچی جگہ تھی.

سیلواں کی اقوام[ترمیم]

سیلواں گاؤں میں سیلو، محمد خیل، پھلے خیل، سنگوال، صدی خیل، باجے خیل، تریڑ، ڈرہال، ھیر، ردھانی ،پ پٹھان، خوچی، نائی، لوہار، ماچھی، مسلی، مراثی، حافظ خیل، ترکھان، کمھار، قصائی اور قریشی آباد تھے۔

1951 کی مردم شماری کے مطابق سیلواں گاؤں میں 600 گھر اور 2820 افراد کی آبادی تھی، سیلواں گاؤں کا رقبہ 18 مربع میل تھا.[6]

1961 کی مردم شماری کے مطابق سیلواں گاؤں میں 678 گھر اور 3282 افراد کی آبادی تھی. 1673 مرد اور 1609 عورتوں میں سے 131 لوگ خواندہ یعنی تعلیم یافتہ تھے۔ سیلواں گاؤں کا رقبہ 11975 ایکڑ تھی. اس مردم شماری میں سیلواں کو "سلوان" لکھا گیا ہے اور انگریزی میں Silwan لکھا ہے۔ سیلواں گاؤں میں ڈاک خانہ، پرائمری سکول بھی تھا۔ یہ دونوں ادارے بعد میں کندیاں شہر منتقل ہو گئے. [7] گورنمنٹ ہائی سکول سیلواں کندیاں 1908 میں قائم کیا گیا تھا.[8]

1972 کی مردم شماری ضلع میانوالی رپورٹ کے مطابق موضوع سیلواں کا حدبست نمبر 105 تھا، اس کے پٹوار سرکل کا رقبہ 11975 ایکڑ تھا۔ سیلواں گاؤں کی آبادی 9406 افراد تھی، جس میں 4933 مرد اور 4473 خواتین تھیں. جن میں سے 137 افراد خواندہ تھے۔ 3420 افراد شادی شدہ تھے۔ 9404 مسلم اور 4 غیر مسلم تھے۔ گھروں کی تعداد 1410 تھی، جن میں اوسط 6.7 افراد رہتے تھے.[9]

1981 کی مردم شماری ضلع میانوالی رپورٹ 1984 کے صفحہ 117 کے مطابق موضع سیلواں کا رقبہ 12085 ایکڑ تھا۔ اس مردم شماری میں آبادی وغیرہ کا ذکر نہیں تھا کیونکہ اب سیلواں اپنی جگہ پر آباد نہیں تھا. [10]

1998 کی مردم شماری کے مطابق سیلواں گاؤں کا نام تو ہے لیکن اور کوئی معلومات درج نہیں.

ڈسٹرکٹ گزٹ میانوالی 1915 کے آخری صفحہ پر نقشہ نمبر تین میں بھی سیلواں گاؤں میں ایک پرائمری سکول موجود ہے

سیلواں پرانے نقشے میں. .jpg

سیلواں گاؤں میں ہندو بھی آباد تھے۔ جنہیں کراڑ کہا جاتا تھا۔ برصغیر کے بٹوارے کے وقت یہ لوگ دہلی چھوڑ گئے۔ انہوں نے دہلی میں میانوالی نگر نامی کالونی بسا رکھی ہے.

موضع سیلواں کے نمبردار[ترمیم]

موضع سیلواں کی پانچ بڑی برادریوں کے پانچ مالکان اعلی یعنی نمبردار تھے۔

ردھانی اعوان قوم کے خان زمان نمبردار، ہیر برادری کے پہاڑا نمبردار، ڈرھال اعوان قوم کے یوسف نمبردار، پھلے خیل اعوان قوم کے گل شیر نمبردار اور محمد خیل سیلو اعوان قوم کے سلمان نمبردار تھے.

لفظ ردھانی[ترمیم]

لفظ ردھانی کے متعلق تین قیاس آرائیاں مشہور ہیں۔ پہلی یہ ہے ردھانال نامی قبیلہ پہلے سے ہی اعوانوں میں موجود تھا۔ اور اس کی دلیل آج بھی وادی سون میں نوشہرہ نامی گاؤں میں ردھنال اعوان رہتے ہیں۔ ان اعوانوں کی پنڈی سے اوچالی ردھانال ایکسپریس نامی ٹرانسپورٹ سروس بھی ہے۔ اوچالی وادی سون کی ایک جھیل اور گاؤں ہے۔ وادی سون کے شہر نوشہرہ میں ایک محلہ ردھانال بھی ہے۔ ردھانال لفظ ایک بزرگ سعید رادھن کے نام سے منسوب ہے۔ بزرگ سعید رادھن کی قبر بھی وادی سون میں موجود ہے۔ شوکت محمود اعوان صاحب جو ادارہ تحقیق اعوان کے جنرل سیکرٹری ہیں، ان کے مطابق بزرگ محمد سعید رادھن سے شجرہ نسب یوں ہے :محمد سعید رادھن (رادھنال) بن دریا خان بن علی ہمت بن محمدبلکان عرف بٹھا بن سلطان سرور بن محمد اکبر بن محمد حسن بن خلاص بن جنگ باز بن گہر شاہ بن محمد اجل بن سعادت علی بن درج اللہ بن مست بن محمدغازی بن بدوس بن بہادر علی بن حسن دوست بن احمد علی بن عبد اللہ عرف گولڑہ بن حضر ت قطب شاہ اعوان علوی.

علوی اعوان[ترمیم]

قطب شاہ اعوان سے آگے افکار الاعوان کے رہنماء محترم شاہ دل اعوان کی کتاب تحفة الاعوان اور منظر سون میں شجرہ یوں درج ہے: عون قطب شاہ بن قاسم علی بااللہ بن حضرت ھمزہ علوی بن حضرت طیار علوی بن قاسم علوی بن علی علوی بن حضرت جعفر علوی بن ھمزہ اول بن حسن بن حضرت عبد اللہ بن حضرت عباس بن شاہ علی رضی اللہ شیر خدا.

دوسری رائے یہ موجود ہے کہ دریا کے کنارے جس علاقے میں سیلو اور اعوان آباد ہوئے، وہاں ایک ردھان نامی جڑی بوٹی تھی، اسے اعوانوں کے ایک گھرانے نے ختم کر کے اس جگہ کو آباد کر لیا، یوں اس گھرانے کے لوگ ردھانی کہلانے لگے. دھان اب بھی چاول کی ایک قسم ہے۔ لفظ "ردھونی" بنگالی زبان میں اجمود/اجوائن کو بھی کہتے ہیں۔ اسی ردھونی/اجوائن/اجمود کو بوٹینکل سروے آف انڈیا کے والیم 3 جو 1908 میں شائع ہوا، کے صفحہ 219 پر( Radhani) لکھا ہے۔ لیکن سیلواں میں موجود پودے کے متعلق کچھ یقینی نہیں کہا جاسکتا.

تیسری رائے یہ ہے کہ اعوان قبیلے کے جو لوگ شروع میں آئے انہوں نے دریا کے کنارے کافی ساری جگہ پر قبضہ کر لیا. اور اسے کاشت کاری کے قابل بنایا. کچے والی ھندکو سرائیکی میں کہتے ہیں "انہاں کنڑک رادھ چھوڑی ہے" اس رادھ کا مطلب ہے کچھ کاشت کرنا اور اس علاقے میں کاشتکاری کرنے کی وجہ سے انہیں ردھانی ردھانی کہنا شروع کیا گیا۔ اور زیادہ بہتر رائے یہی تیسری ہی ہے.

اعوان کاری[ترمیم]

اس کچے والی ھندکو زبان کو اعوان کاری بھی کہتے ہیں، اعوان کاری وادی سون سے وادی نمل کے درمیان اس علاقے کو بھی کہتے ہیں یہاں اعوان اکثریت میں آباد ہیں۔ یہ اعوان کاری اتراد، چکڑالہ، رکھی، سون، نمل وغیرہ پر مشتمل ہے۔ یہ لفظ اعوان قاری بھی استعمال ہوتا ہے۔

ردھانی اعوان سیلواں گاؤں کی سب سے بڑی آبادی تھے اور سب سے زیادہ علاقہ بھی انہی کے قبضہ میں تھا۔ 1938 میں ردھانی اعوان قبیلے کے سردار خان زمان ردھانی اعوان نمبردار تھے۔ انہوں نے جولائی 1937 میں دریا کے قریب گرنے والے جہاز کو بچانے میں مدد کی جس پر 5 اکتوبر 1938 میں ڈپٹی کمشنر میانوالی نے انہیں سراہا اور ایک سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا.

چشمہ بیراج[ترمیم]

جب 1966 میں ایوب خان صدر پاکستان نے چشمہ کے مقام پر ڈیم اور بیراج بنانے کا فیصلہ کیا تو سیلواں کا گاؤں بھی اس ڈیم کی ضد میں آیا. موضع سیلواں سمیت کل 32 موضع جات چشمہ بیراج کے لیے حکومت نے حاصل کیے تھے۔ چشمہ بیراج سے دو نہریں نکالی گئیں؛ چشمہ جہلم لنک کینال اور چشمہ رائیٹ بینک کینال.

تاریخ علو والی کے صفحہ 239 کے مطابق چشمہ بیراج کے متاثرین کو زیر کاشت رقبہ جات کا 100 روپئے فی کنال، بنجر زمین کا 60 روپئے فی کنال اور دریا برد رقبہ کا 30 روپئے فی کنال کے حساب سے رقم ادا کی گئی. (تاریخ علو والی از اعجاز علو والوی)

اس پر حکومت نے وہاں کے ردھانی اعوانوں اور سیلو قوم کو کندیاں نقل مکانی کرنے پر زرعی زمین اور کیش مالیت ادا کی. اب علو والی شہر، کندیاں شہر اور دوآبہ گاؤں میں نئی آبادی سیلواں نامی محلے ہیں۔ کندیاں شہر میں گورنمنٹ بوائز ہائی سکول سیلواں نامی ادارہ بھی ہے جسے عرف عام میں "چٹا" سکول کہتے ہیں۔ یہ سکول پہلی دفعہ 1908 میں قائم کیا گیا.[11]

سیلواں سے کندیاں تک[ترمیم]

سیلواں سے نقل مکانی کرنے والے اکثر قبائل مختلف جگہ پر آباد ہوئے. ان میں ردھانی شروع میں کندیاں آئے. کندیاں میں انہیں کئی جگہوں پر بڑا اہم رقبہ ملتا تھا لیکن بزرگوں نے نہ لیا، انکا خیال تھا کہ ہم جلد واپس سیلواں چلے جائیں گے. البتہ جب حکومت نے چشمہ بیراج کی وجہ سے سیلواں کو خالی کرنے کا کہا تو عیسی خیل کے خوانین جن کے ردھانی قبیلہ سے اچھے تعلقات تھے، انہیں آفر کی کہ بھکر کے علاقہ منکیرہ میں ان کی کافی زمین ہے، آپ لوگ وہاں شفٹ ہوجائیں اور اس کی قیمت آہستہ آہستہ بعد میں اتار دینا. اس پر ردھانی قبیلے کے چند بزرگ ریاست منکیرہ کا وہ علاقہ دیکھنے گئے لیکن ان کے بقول یہ مٹی کے ٹیلے ہیں اور یہ رہائش کے قابل جگہ نہیں، یوں انہوں نے منکیرہ نہ جانے کا فیصلہ کیا اور بعد میں کندیاں منتقل ہو گئے۔ ریاست منکیرہ کا وزٹ کرنے جانے والوں میں علی خیل قبیلہ کے خان زمان ردھانی مرحوم بھی شامل تھے.

رہائش پزیر[ترمیم]

سیلواں سے نکل مکانی کرنے والے ردھانی اعوان کندیاں شہر میں جرنیلی روڈ کے قریب آباد ہوئے. اسی طرح کندیاں شہر میں چشمہ کندیاں لنک روڈ کے ساتھ محلہ حاجی آباد نزد کندیاں ریلوے شیڈ بھی ردھانی اعوان خاندان کے چند گھر آباد ہیں۔ انکا شہر سے باہر اپنا ایک ڈیرہ بھی ہے جسے ردھانیوں والا بھانڑ کہتے ہیں۔ چند گھر جرنیلی روڈ پر جامع مسجد حنفیہ رحمانیہ کے قریب بھی آباد ہیں۔ کافی تعداد فیصل آباد 586 چک جا کر آباد ہو گئی، لیکن 586 چک فیصل آباد جانے والے ردھانی پاکستان بننے سے بھی پہلے حکومت سے ملنے والی زمین کو آباد کرنے کے لیے نقل مکانی کر گئے تھے۔ 1ML کے قریب رکھ نصیر والا کیساتھ ایک ڈیرہ ردھانیاں اعواناں والا موجود ہے اور اسی طرح کچھ گھر 3DB, 2DB, جوہر آباد کے قریب روڈا گاؤں، بلند گاؤں اور میکن گاؤں میں بھی آباد ہیں۔ کندیاں شہر میں ردھانیاں والا بھانڑ کے قریب جرنیلی روڈ پر ردھانی قبیلے کے لوگوں کا پٹرول پمپ "ملک پٹرولیم" کے نام سے موجود ہے۔

کندیاں میں ردھانیاں والے ڈیرے پر گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول ردھانیاں والا کے نام سے ایک ادارہ موجود ہے۔ یہ سکول 1992 میں قائم کیا گیا.[12]

ضلع گزٹ میانوالی 1915 کے صفحہ 46 پر 1911 کی مردم شماری کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ 4987 افراد ایسے تھے جو ضلع میانوالی کی حدود میں پیدا ہوئے لیکن اس وقت لائلپور (فیصل آباد) میں سکونت اختیار کیے ہوئے تھے۔ لائلپور نقل مکانی کرنے والوں میں ردھانی، ڈرہال، پٹھان اور ان کے علاوہ بھی کئی قبائل تھے. [13]

انگریزوں نے غیر آباد زمینوں کو آباد کرنے کے لیے 9 عدد Punjab Canal Colonies بنائیں. ان میں سب سے بڑی Lower Chenab Canal Colony تھی. اس میں لائلپور کا علاقہ بھی شامل تھا۔ مختلف علاقوں سے لوگوں کو یہاں منتقل کیا گیا، جس میں ضلع بنوں کے لوگ بھی یہاں آکر آباد ہوئے. اس وقت موجود ضلع میانوالی ایک تحصیل تھا ضلع بنوں کی. لوئر چناب کینال کالونی 1892 میں بنائی گئی۔

1ML ڈیرہ ردھانیاں اعواناں والے پر ایک پرائمری سکول گورنمنٹ امیر خان والا کے نام سے موجود ہے۔ اب یہ سکول حکومت نے غزالی ٹرسٹ کو دے دیا ہے۔ امیر خان ردھانی نے شروع کے چند سال اپنے گھر میں سکول کا نظام چلائے رکھا، پھر دو کینال زمین سکول کے لیے وقف کی، حکومت نے یوں سکول ان کے نام سے منسوب کر دیا۔ یہ سکول 1979 میں قائم کیا گیا. [14]

محلہ نئی آبادی سیلواں[ترمیم]

1970 کے الیکشن میں نواب آف کالاباغ نواب زادہ ملک مظفر NW 44 Mianwali I سے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑے اور کل 53202 ووٹ لے کر تقریباً 5 ہزار ووٹوں کے مارجن سے مولانا عبد الستار خان نیازی سے جیت گئے۔ اپنی انتخابی مہم میں نواب اسد خان اپنے بھائی کے لیے ووٹ مانگنے کندیاں شہر میں رہنے والے سیلواں گاؤں کے اعوان قبائل کے پاس حاضر ہوئے اور ان کے ساتھ عیسی خیل کے خوانین بھی تھے۔ سیلو اعوان قبائل گل شیر ڈرھال کے گھر جمع ہوئے. سب قبیلوں نے نواب آف کالاباغ کی حمایت کا اعلان کیا اور اسی موقع پر متفقہ فیصلہ سے اس محلہ کا نام محلہ نئی آبادی سیلواں رکھ دیا گیا. [15]

ثقافت[ترمیم]

اس قبیلے کے اکثر لوگ سادہ اور قبائلی ثقافت رکھتے ہیں۔ عموماً شادیاں اپنے خاندان میں کرتے ہیں اور وہ بھی قریبی خون کے رشتوں یا ردھانیوں کے اندر موجود اپنے ذیلی قبیلہ میں کرتے ہیں۔ ہر جگہ بہت سارے گھر اکھٹے مل کر رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں میں شریک ہوتے ہیں۔ سیلواں سے نقل مکانی کے بعد کافی سارے لوگ سرکاری ملازمت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اب کئی نوجوان اعلیٰ تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ ہو رہے ہیں۔ چند بزرگ جو اب بھی زندہ ہیں وہ منجھلی پہنتے ہیں، جبکہ ان کے بعد میں آنے والے سب لوگ اب شلوار قمیض پہنتے ہیں۔

ادب[ترمیم]

ردھانی اعوان قوم کے تین افراد باقائدہ شاعری کا ذوق رکھتے ہیں۔ اور انہوں نے یہ شاعری موقع کی مناسبت سے اپنے خیالات کے اظہار کے لیے استعمال کی ہے۔ ملک احمد نواز ردھانی، ملک رمضان ردھانی اور حکیم عطاء ردھانی شعرا میں شامل ہیں۔ حکیم عطاء ردھانی تو شاعری کے استاد ہیں اور باقی لوگوں کو سکھاتے بھی ہیں۔ یہ شاعری سرائیکی/ھندکو زبان پر مشتمل ہے.

ذیلی قبیلے[ترمیم]

ردھانی اعوان خاندان کے مزید ذیلی قبیلے یہ ہیں؛ عبد اللہ خیل، علی خیل، فاضل خیل، انور خیل، شالم خیل، یونی، ودے خیل، حسین خیل، خواجہ خیل، رحمان خیل. حامد خیل.

شجرہ نسب[ترمیم]

علی خیل قبیلے کا شجرہ نسب ہمارے دوست ملک محمد طارق ردھانی اعوان کی کوششوں سے جمع ہوچکا ہے۔ جو یوں ہے طارق بن نور محمد بن حسین بن احمد بن بہادر بن محمد بن علی (علی خیل). مرحوم بزرگ ملک بہادر کی وجہ سے انہیں "کھو" والے ردھانی بھی کہتے ہیں، کیونکہ ملک بہادر نے سیلواں میں ایک کنواں کھدوایا تھا۔ علی خیل قبیلہ میں مزید خواجہ خیل، رحمان خیل، احمد خیل اور حسین خیل کی تقسیم موجود ہے۔

عبد اللہ خیل قبیلے کا شجرہ نسب ان کے سب سے کمسن بچے سے یوں ہے، مصعب بن احمد بن رفیق بن صدیق بن حیات بن محمد بن عبد اللہ (عبد اللہ خیل)

انور خیل/نمبردار قبیلے کا شجرہ نسب یوں ہے شیراز احمد بن امیر بن وزیر بن خان زمان (نمبردار) بن انور (انور خیل ردھانی) بن خان محمد بن خیر محمد.

یونی خیل قبیلہ ایک بزرگ ہمایوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ ہمایوں کے آخری حروف "یوں" سے یونی مشہور ہوئے.

اسی طرح ودھے خیل قبیلہ ایک بزرگ اللہ ودھایا کی اولاد سے ہے۔ اور شالم خیل قبیلہ ایک بزرگ شاہ عالم کی اولاد میں سے ہے.

لفظ "جٹ" اور "ملک" کا استعمال[ترمیم]

لفظ "ملک" عربی کا لفظ ہے جو تین حروف م ل ک پر مشتمل ہے، جسے ثلاثی مجرد کہتے ہیں۔ علامہ راغب اصفہانی نے اپنی کتاب مفردات القرآن میں ملک کا مطلب بادشاہ کا لکھا ہے یا وہ شخص جس میں انتظام سنبھالنے کی صلاحیت ہو اسے ملک کہتے ہیں۔ یہ نام عرب دنیا میں بادشاہوں کے لیے عام ہے۔ البتہ برصغیر میں یہ نام حضرت علی رضی اللہ عنہ کی غیر فاطمی اولاد یعنی علوی اعوانوں کے لیے خطاب کے طور پر مستعمل رہا ہے۔ لیکن انگریز دور میں جب زمینوں کا ریکارڈ اور جمع بندیاں تیار ہوئیں تو جس موضع میں کوئی قوم اکثریت سے آباد تھی یا جس قوم کے پاس زمین زیادہ تھی، وہ مالکان اعلی کہلائے اور نمبردار بھی انہی سے منتخب ہوجاتے تھے۔ یوں یہ مالکان اعلی بعد میں ملک کے خطاب سے مشہور ہو گئے۔ اور اب کئی خاندان جو اعوان نہیں ہیں وہ بھی اسی وجہ سے ملک کہلواتے ہیں.

"جٹ" لفظ اس شخص یا قبیلے کے لیے استعمال ہوتا تھا جو پیشے کے اعتبار سے کھیتی باڑی سے منسلک تھا۔ یہ لفظ عموماً پنجاب کے کسانوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ لیکن انگریز دور میں مالکان اعلیٰ اور نمبرداروں کے پاس کیونکہ اکثر قابل کاشت رقبہ زیادہ ہوتا تھا، یوں انگریزوں نے ہر دوسری قوم کیساتھ جٹ لکھا ہے۔ اسی طرح میانوالی کے حوالوں میں اعوانوں کے ساتھ بھی لفظ جٹ کا استعمال کیا ہے اور کئی جگہ جٹ اعوان کی اصطلاح بھی استعمال کی ہے۔

اسی وجہ سے ردھانی اعوان خاندان کے لوگ بھی اپنے نام کیساتھ ملک اور جٹ دونوں کے سابقے اور لاحقے استعمال کرتے آئے ہیں۔ یہ لفظ جاٹ بھی استعمال ہوتا ہے.

رشتہ داریاں[ترمیم]

ردھانی اعوان خاندان کے لوگوں کی باہر کی درج ذیل قوموں میں رشتہ داریاں ہیں: چھینہ، بھابھڑے، وٹو، قصائی، مسلی، نائی، بھچر، بوک، صدیقی، سنگوال(اعوان)، پختون، ڈرھال (اعوان)، انوترے، موچی، ساندھ، کانجو ،بھمب، سیلو (اعوان)، ہیر. آرائیں، مرزے خیل، بلوچ.

مذہب[ترمیم]

ردھانی اعوان قبیلہ ایک مذہبی اور سیاسی گھرانہ ہے۔ سیلواں گاؤں میں قریشی قبیلہ کے ساتھ مل کر لوگوں کو قرآن پڑھاتے رہے. سیلواں میں (میاں) محمد حسین ردھانی اعوان اور محمد اسماعیل ردھانی اعوان قرآن ناظرہ اور حفظ پڑھاتے تھے۔ مذہبی نسبت شیخ حسین علی الوانی رح واں بھچراں والے سے تھی. سیلواں میں ردھانی قبیلے کا اکثر رجحان دیوبند کی طرف تھا۔ اس وقت کندیاں شہر محلہ سیلواں میں رہنے والے ردھانی اور 1ML کے اکثر لوگ دیوبند سے منسلک ہیں۔ کندیاں شہر میں ردھانیوں والے ڈیرے اور 2DB,3DB کے اکثر لوگ مسلکاً بریلوی ہیں.

سیاست[ترمیم]

حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کندیاں شہر سے ملک محمد فیض ردھانی اعوان کونسلر منتخب ہوئے. اس سے پہلے 1980 کی دہائی میں بھی ملک محمد زمان ردھانی اعوان مرحوم کندیاں یونین کونسل کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔ 2000 کی دہائی میں ملک سلطان محمود ردھانی اعوان مرحوم بھی الیکشن میں امیدوار رہے ہیں۔ 1990 کی دہائی میں ملک شیر احمد ردھانی اعوان بھی بلدیاتی انتخابات میں 1ML ڈیرہ ردھانیاں اعواناں والے سے کامیاب ہو چکے ہیں۔ سابق ممبر زمان ردھانی کے بیٹے ملک احمد نواز اس وقت تحریک انصاف کے ایم پی اے احمد خان بھچر کے (PA) ہیں۔ اور اسی طرح 1ML سے ملک اصغر ردھانی سابق ایم پی اے ملک فیروز جوئیہ کے سیکرٹری ہیں۔

آج کل کندیاں شہر، ردھانیاں والا بھانڑ کندیاں اور 1ML کے ڈیرہ کے ردھانی سب جوئیہ گروپ اور روکھڑی گروپ کے ووٹر ہیں۔ البتہ 3DB کے ردھانی صوبائی وزیر سبطین خان کے حمایتی ہیں.

ملتے جلتے نام[ترمیم]

برصغیر میں ایک ریاست ردھان پور کے نام سے موجود تھی جو اب ہندوستان کا حصہ ہے۔ اس ریاست کا نام ردھان خان کی وجہ سے ردھان پور ہے۔

ضلع بہاولپور تحصیل روجہان میں خدا بخش ردھانی نامی سکول ہے۔ اس ردھانی کی وجہ تسمیہ جاننے کی کوشش جاری ہے۔

صوبہ سندھ، ضلع دادو کی تحصیل مہر میں ایک گاؤں رادھن نامی موجود ہے۔ اس کا اصل نام راہ دھان تھا جس کا مطلب ہے پیسے کمانے کا راستہ. یہی نام سندھی قوم کا ہے۔ یہاں ایک رادھن ریلوے اسٹیشن بھی ہے۔ رادھن موئنجو دڑو ایک روڈ بھی جاتا ہے۔

1901 کی مردم شماری میں بلوچستان میں ایک قوم کا نام ردھانی لکھا گیا ہے۔ The Musalman Races found in Sindh Balochistan and Afghanistan نامی کتاب میں بھی ردھانی بلوچ قوم کا ذکر ہے۔ اسی طرح وکی ونڈ پر جٹ بلوچوں کی ایک قوم لالانی ردھانی کا ذکر بھی موجود ہے۔

ضلع سرگودھا کی تحصیل ساہیوال میں ایک موضع رادھن نامی موجود ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ ایک ہندو عورت رادھا ہے۔

بھارتی اداکار ہرتیک روشن کے بیٹے کا نام ردھان ہے۔

ہندوؤں کے دیوتا کرشنا کی محبوبہ کا نام بھی رادھا تھا۔

البتہ ان تمام ملتے جلتے ناموں کا ضلع میانوالی میں آباد ردھانی اعوان قوم سے کوئی تعلق نہیں.

ایک کوشش[ترمیم]

سیلواں موضع اور قوم ردھانی اعوان کی معلومات اور تاریخ کو اکھٹا کرنے کی ذمہ داری ابو مصعب اعوان اور ملک طارق ردھانی نے اٹھا رکھی ہے۔ اگر کسی ساتھی کے پاس اس حوالے سے کوئی معلومات ہوں تو وہ ضرور ہم سے تبادلہ خیال کرے. رابطہ نمبر: 03027957242


[16]