پشاور اسکول میں قتل عام، 2014ء پر رد عمل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یہ میرے بچے ہیں اور یہ میرا نقصان ہوا ہے۔[1]

نواز شریف، وزیراعظم پاکستان

حکومت پاکستان نے تین روز تک سوگ کا اعلان کیا۔ اس دوران پاکستانی پرچم سرنگوں رہے گا[2]۔ وزیر اعظم پاکستان نے پاکستان میں پھانسی کی سزا پر عمل درامد کی پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، یہ پابندی صرف دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پانے والوں کے لیے ختم کی گئی ہے۔[3]

صدر پاکستان، ممنون حسین، نے مذمت کی اور کہا: "ایسے بزدلانہ حملے قوم کے حوصلے اور عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے ہیں"۔[4]

رہنماء متحدہ قومی مومنٹ الطاف حسین، پاکستان تحریک انصاف کے عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے رہنماء محمد طاہر القادری نے سانحے کی مذمت کی ہے۔[5]

نوبل امن انعام یافتہ پاکستانی، طالبہ ملالہ یوسفزئی نے مذمت کرتے ہوئے کہا: میں اس بے حس حرکت پر رنجیدہ ہوں، ہم نے اس سے پہلے پشاور میں خون سرد کرنے والا ایسا کوئی واقعہ نہیں دیکھا۔[6]

بین الاقوامی[ترمیم]

  • Flag of افغانستان افغانستان - صدر اشرف غنی سانحہ کی مذمت کی اور کہا: "اسلام معصوم بچوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا۔" [7] نیز صدر اشرف غنی نے وزیر اعظم نوازشریف کو فون کر کے ان سے بات کی اور بچوں کے قتلِ عام کے بے رحمانہ واقعے کی مذمت کی اور ان سے تعزیت کی۔[8]
  • Flag of ترکی ترکی - ترکی صدر جناب طیب اردگان صاحب نے پورے ترکی میں ایک دن یوم سوگ منانے کا اعلان کر دیا اور شہداء کی تعزیت کی۔
  • Flag of مملکت متحدہ برطانیہ - وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے ٹوئٹر کھاتہ پر حملے کی مذمت اور سانحہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا:پاکستان سے خبر انتہائی افسوس ناک ہے۔ بچے صرف اسکول جانے کی وجہ سے مارے جا رہے ہیں۔ یہ ہولناک ہے۔[9]
  • Flag of جرمنی جرمنی - وزیر خارجہ فرینک والٹر سٹینمائر نے ایک بیان میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ہم پاکستانی عوام کے ساتھ غم کا اظہار کرتے ہیں، اس خونی دہشت گرد حملے پر ہم دلی طور پر متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں ۔[10]
  • Flag of بھارت بھارت - وزیراعظم نریندر مودینے کہا کہ پشاور میں ایک اسکول پر بزدلانہ حملے کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔ یہ ناقابلِ بیان وحشت پر مبنی بے حس حملہ ہے جس نے معصوم ترین انسانوں کی جان لی ہے جو اسکول جانے والے بچے ہیں۔ مجھے اس واقعے میں ہلاک ہونے والے لوگوں کی جانوں کے ضیاع پر بہت دکھ ہوا۔ ہم ان کا دکھ سمجھتے ہیں اور اس میں برابر کے شریک ہیں[11]
    • بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ:میں پشاور میں اسکول پر حملے کی سخت مذمت کرتا ہوں۔ یہ غیر انسانی حملے دہشت گردی کا اصل چہرہ بے نقاب کرتے ہیں۔ مجھے ان بچوں کے خاندانوں سے دلی ہمدردی ہے جو پشاور میں دہشت گردوں کا شکار بنے۔[12]
    • بھارت کے سبھی تعلیمی اداروں میں پشاور میں مرنے والے طلبہ کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اور دعائیہ اجتماعات کا اہتمام کیا گیا جب کہ ریاستی اسمبلیوں میں اظہاریکجہتی کی قراردادیں منظور کی گئی ہیں۔[13]
  • Flag of ریاستہائے متحدہ امریکا - امریکی سفیر برائے پاکستان رچرڈ اولسن نے پشاور میں دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا۔ اپنے بیان میں امریکی سفیر نے کہا کہ وہ امریکی عوام کی جانب سے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا بے وجہ اور غیر انسانی حملے میں طالب علموں اور اساتذہ پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور وہ پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے جو دہشت گردی کے خطرے کا مقابلہ کر رہی ہے۔ رچرڈ اولسن نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ دنیا میں کم ہی لوگ دہشت گردی سے اتنے متاثر ہوئے جتنے کہ پاکستانی عوام، اس لیے یہ امریکا اور پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ خطے کے امن اور استحکام کو مستحکم کرنے کے لیے اپنا کام جاری رکھیں۔" [14]
  • Flag of فرانس فرانس - صدر فرانسوا اولاندنے اپنے ایک بیان میں حملے کی مذمت کی:کوئی القاظ نہیں جو اس سانحہ کے لیے استعمال ہوں، دہشت گرد رسوا ہوئے ہیں۔ اور فرانس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ اور بچوں کے والدین سے اظہار یکجہتی کرتا ہے۔
    [15]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Pakistan Prime Minister Nawaz Sharif: 'These Are My Children And It Is My Loss'"۔ Headlines & Global News۔ مورخہ 9 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. "At least 126 dead in Taliban school attack in Peshawar"۔ ARY News۔ مورخہ 9 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 دسمبر 2014۔
  3. دہشت گردوں کو سزائے موت پر عمل درآمد کی منظوری - BBC News اردو
  4. "84 killed, 83 injured as army-run public school attacked in NW Pakistan"۔ Xinhua۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 دسمبر 2014۔
  5. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ 500held نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  6. "Heartbroken by senseless and cold blooded act of terror: Malala Yousafzai"۔ India Today۔ مورخہ 9 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 دسمبر 2014۔
  7. "Quotes Reacting to Pakistan Attacks"۔ ABC News۔ 16 دسمبر 2014۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 دسمبر 2014۔
  8. http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/12/141216_army_public_school_attack_taliban_r
  9. "Taliban Storms School In Peshawar, Pakistan; Kills Over 100, Including 84 Children"۔ International Business Times۔ 16 دسمبر 2014۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 دسمبر 2014۔
  10. "Pakistan school attack: live updates"۔ Deutsche Welle۔ 16 دسمبر 2014۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 دسمبر 2014۔
  11. "PM Narendra Modi condemns Peshawar terror attack"۔ Zee News۔ 16 دسمبر 2014۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 دسمبر 2014۔
  12. آرمی پبلک سکول پر حملہ، کب کیا ہوا؟ - BBC News اردو
  13. بھارت نے پشاور سکول پر حملے کے تناظر میں اپنے تعلیمی اداروں کی سکیورٹی ہائی الرٹ کردی‘ سانحے پر اظہار ایکجہتی کے لیے سکولوں میں دو منٹ کی خاموشی ‘ تمام صوبائی اسمبلیوں میں قرار۔..
  14. "Ambassador Olson Extends Condolences to Families of Army Public School Attack Victims"۔ Embassy of United States, Islamabad۔ Embassy of United States, Islamabad۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 دسمبر 2014۔
  15. "Hollande condemns 'vile' Peshawar school attack"۔ Business Recorder۔ 16 دسمبر 2014۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 دسمبر 2014۔