رسالہ قشیریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

رسالہ قشیریہ امام قشیری کی سب سے مشہور کتاب رسالہ قشیریہ ہے جو آپ نے 437ھ میں صوفیاء کی جماعت کیلئے لکھا.

سرورق کتاب روح تصوف اردو ترجمہ الرسالۃ القشیریۃ

اہمیت کتاب[ترمیم]

اگرچہ اس سے پہلے تصوف پر بہت کتابیں لکھی گئیں لیکن کوئی کتاب ایسی نہ تھی جو تصوف کے ہر پہلو کو زیر بحث لائےاس کتاب میں ہر پہلو کو زیر بحث لایا گیا اسی وجہ سے تمام طبقہ میں مقبولیت حاصل ہے

ترتیب کتاب[ترمیم]

اس کتاب کے ابتداء میں صوفیاء کے عقائد پھر اکابر صوفیاء کا تعارف اس کے بعد اصطلاحات صوفیاء کا ذکر،اس کے بعد احوال واقوال اور تعلیمات کو خوبصورت انداز میں ذکر کیاجبکہ آخر میں کرامات اولیاء اورمرشد و مرید کا تعلق ذکر کیا گیا ہے [1] تصنیف, ابو‌القاسم عبد‌الکریم بن ہوازن قشیری ; ترجمہ, مقدمہ و تعلیقات, پیر محمد حسن ادارہ تحقیقات اسلامی, بین‌الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد, 2009[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. رسالہ قشیریہ صفحہ 35،مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور2009ء
  2. http://ci.nii.ac.jp/ncid/BB14488916