دبویا افعی

دبویا سانپ یا رسل کا افعی ( Daboia russelii ) برصغیر پاک و ہند سے تعلق رکھنے والے افعی (وائپریڈی) خاندان کا ایک زہریلا سانپ ہے اور ہندوستان کے بڑے چار سانپوں میں سے ایک ہے۔
اس کا اسمِ جنس یا سائنسی نام "daboia" اردو اور ہندی سے آتا ہے۔ دبویا یعنی دبا ہوا یا چُھپا ہوا۔ دبویا کی جھاڑی, لمبی گھاس اور پتھروں کے بیچ چھپنے کی عادت ہے۔
دبویا سانپ برصغیر ہند کے سب ملکوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ پاکستان میں بھارت - پاکستان کی سرحد سے لے کر سندھ اور پنجاب کے صوبوں میں وادی سندھ تک پائے جاتا ہے۔ اس کی توسیع کراچی سے راولپنڈی تک کم بلندی والے علاقوں تک ہے۔ یہ پورے ہندوستان سے لے کر بنگلہ دیش تک، ہندوستان کے جزیرہ نما علاقوں اور سری لنکا تک پھیلا ہوا ہے۔ اس نوع کا کوئی مخصوص مسکن نہیں ہے لیکن وہ گھنے جنگلوں کو گریزکرتا ہے۔ عام طور پہ وہ کھلے کھلے علاقوں جیسے گھاس یا جھاڑی والے میدان اور کسانوں کے کھیتیوں میں پایا جاتا ہے جہاں وہ پیڑ پودوں اور گھاس کے گچھوں میں خاموشی اور بے حرکتی سے لیٹتا ہے۔ یہ چوہوں کے بلوں ، پرانے دیمک کے ٹیلوں، چٹانوں کے ٹکڑوں، پتوں کے انبار یا دوسرے ملبے میں پناہ لیتا ہے۔ عام طور پر یہ سانپ راستوں کے کناروں پر اگی لمبی گھاس اور سایہ دار جھاڑیوں کے اندر چُھپا رہتا ہے، جہاں ان کی اپنی جسمانی رنگ اور نباتات سے مشابہت کی وجہ سے ان کا نظر آنا مشکل ہوتا ہے۔
یہ شب گرد سانپ بنیادی طور پر رات (خاص طور پر گرم موسم کے دوران) کو متحرک ہوتے ہیں اور دن کے وقت سست۔ دبویا زیادہ تر چوہے کھاتا ہے مگر اس کے غذا میں کئی اور چھوٹے جانور بھی شامل ہے جیسے کہ بچھو اور کیڑے۔ دبویا اکثر شکار کی تلاش میں انسانی آبادی کے قریب بھی مل سکتے ہیں۔ دوسرے افعی کے طرح وہ اپنے شکار کو پکڑنے کے لیے اور اپنے حملاہ ور سے بچنے کے لیے دبویا انھیں مسموم کر دیتا ہے اپنے ناب (نوکیلا دانت) کے ذریعے۔ اس سانپ کا مزاج اتنا جارحانہ والا اور اس کا بس اتنا خطرناک ہوتا ہے کہ یہ سانپ ہندوستان اور پاکستان کے بڑے چار سانپوں میں مانا جاتا ہے۔