رسول نگر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ضلع گوجرانوالہ ،تحصیل وزیر آباد میں واقع پاکستانی پنجاب کا ایک تاریخی قصبہ جو گوجرانوالہ سے 28 میل مغرب میں دریائے چناب کے بائیں کنارے واقع ہے۔ نور محمد چھٹہ نے سترھویں صدی عیسوی میں آباد کیا۔ سکھوں اور انگریزوں کی آخری لڑائی 1849ء میں یہیں لڑی گئی۔ یہاں رنجیت سنگھ کی ایک بارہ دری موجود ہے۔ کہتے ہیں کہ رنجیت سنگھ گرمیاں یہیں گزارتا تھا۔ نمک کی منڈی بھی ہے۔ قادر آباد بیراج اس شہر سے چھ میل کے فاصلے پر ہے۔ سکھوں سے لڑا ئی میں بر طا نو ی فو ج کے 4 جنر ل 2بر یگیڈیئر اور 2کرنل ہلا ک ہو ئے ،جن کی عمودی قبریں بھی سرکاری توجہ کی طالب جامکے چٹھہ (ڈاکٹر قمر زمان سے)مہا راجا رنجیت سنگھ پنجاب میں سکھ سلطنت کا بانی تھا ۔ پنجاب میں اس کا اقتدار 1799ء تا 1849ء تک رہا ۔ اس نے 1822ء میں دریائے چناب کے کنارے شہر رسول نگر سے 2 کلومیٹر مشرق کی جانب اپنے دور کی خوبصورت ترین بارہ دری تعمیر کی ۔ 25 ایکڑ پر پھلوں کے باغات اور 64 کنال کی چار دیواری کے علاوہ دریائے چناب میں اتر نے کے لیے زیر زمین سر نگ تعمیر کی جس میں اس کے اہل خانہ نہانے کے لیے اترتے تھے ۔ خوبصورت ترین اس بارہ دری کے بارہ دروازے بنائے گئے جو چاروں اطراف سے آنے جانے کے لیے تھے اس بارہ دری سے شہر رسول نگر تک 2کلو میٹر زیر زمین سر نگ بنا ئی گئی جو رنجیت سنگھ کے محل سے خواتین بارہ دری تک آنے کے لیے استعما ل کر تی تھیں ۔ مہا راجا رنجیت سنگھ ہر سا ل 3ما ہ کے لیے اس با ر ہ در ی میں قیا م کر تا تھا۔ اسی مقام پر خالصہ فو ج اور بر طا نو ی فو ج کے در میان لڑا ئی میں بر طا نو ی فو ج کے 4 جنرل 2 بریگیڈیئر اور 2 کرنل رینک کے آفیسر ہلاک ہو ئے جن کی قبر یں علا قہ بھر میں کھڑی قبروں کے نا م سے مشہور ہیں ، انگر یز فو ج کے جنر ل چا ر لس را بر ٹ ، لا ر ڈ کو چ ، ویلیم ہیولاک ، بر یگیڈیئر سی آ رکریٹون 1848ء میں خالصہ آرمی کے ساتھ جنگ کے دور ا ن ہلا ک ہو ئے جن کی قبر یں محفوظ ہیں اس جنگ میں انگر یز آرمی کے 16 آفیسرز ہلاک 64 زخمی اور 14 لاپتہ ہو ئے تھے جن کی عمودی قبریں بنائی گئیں۔علاوہ ازیں یہاں سکھوں کی مڑیاں بھی موجود ہیں۔قیام پاکستان کے بعد رنجیت سنگھ کے ما لی کو کچھ رقبہ آلاٹ کیا گیا آج یہ عالیشان بارہ دری ملکی اثاثہ ہونے کی بجا ئے عدم توجہ کا شکار ہے ۔ [1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

حوالہ جات

  1. http://m.dunya.com.pk/index.php/city/gujranwala/2018-01-19/1186164