رشوت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
زیمبیا میں رشوت کی روک تھام کے لیے مہم

رشوت بد عنوانی کی ایک قسم ہے جس میں پیسے یا تحفہ دینے سے وصول کنندہ کا طرزِ عمل تبدیل ہوتا ہے۔ رشوت کو جُرم سمجھا جاتا ہے۔ قانونی لغتی معنوں میں کسی سرکاری افسر یا کسی عوامی یا قانونی امور کے مجاز کے عمل کو متاثر کرنے کے لیے کسی قدر کی شے کی پیشکش، دینا، وصولی یا مانگنا رشوت کہلاتا ہے۔ رشوت کا مقصد وصول کنندہ کے اعمال پر اثر انداز ہونا ہوتا ہے۔ رشوت پیسہ، چیز، جائداد، ترجیح، استحقاق، معاوضہ، قدر کی شے، فائدہ یا محض کسی سرکاری یا عوامی اہلکار کے عمل یا ووٹ پر اثر انداز ہونے یا ترغیب دینے کا وعدہ یا عہد، کسی بھی شکل میں دی جا سکتی ہے۔

دنیا کے مختلف حصوں میں بعض قسم کی رشوت کو قدرے قبولیت حاصل ہے۔ مثلاً امریکا میں سیاست دانوں کو نقد رقوم بطور سیاسی مدد دی جا سکتی ہیں جو بعض دوسرے ممالک میں غیر قانونی رشوت تصور ہوگی۔ عرب ممالک میں اہلکاروں کو "بخشیش" ادا کی جاتی ہے جو غیر قانونی نہیں سمجھی جاتی۔ بد ترین قسم کی رشوت وہ ہے جو قیدیوں کے لواحقین سے وصول کی جاتی ہے اور اس کے بدلے قیدیوں سے بدسلوکی نہیں کی جاتی۔ اس کا رواج پرانے زمانہ میں برطانیہ جیسے ممالک میں بھی رہا ہے[1] اور موجودہ زمانہ میں پاکستان اور ہندوستان جیسے ممالک میں بھی ملتا ہے۔[2]

رابرٹ کلائیو نے میر جعفر کو رشوت دے کر 1757ء میں پلاسی کے میدان میں سراج الدولہ کو شکست دی اور اس کے بعد میر جعفر کو بنگال کا نواب بنا دیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. neal stephenson, "The System of the World (The Baroque Cycle, Vol. 3)", 2004
  2. بی بی سی، 24 جون 2010ء "دعا کرو مجھے موت آجائے"