رشید احمد صدیقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رشید احمد صدیقی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1894[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جونپور ضلع  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 1977 (82–83 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش علی گڑھ  ویکی ڈیٹا پر رہائش (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ علی گڑھ  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ڈاکٹری طلبہ ابواللیث صدیقی  ویکی ڈیٹا پر ڈاکٹورل شاگرد (P185) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصنف  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  (برائے:غالب کی شخصیت اور شاعری)
IND Padma Shri BAR.png پدم شری اعزاز برائے ادب و تعلیم   ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
رشید احمد صدیقی
P literature.svg باب ادب

رشید احمد صدیقی یوپی کے ضلع جونپور کے ایک گاؤں مڑیا میں 1894ء میں پیدا ہوئے۔ میٹرک تک جونپور میں رہے، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ آ گئے۔ مالی حالت سے مجبور ہو کر کچہری میں ملازمت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ چنانچہ ملازمت کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی جاری رکھی اورفارسی میں ایم اے کیا۔ آپ نے طالب علمی کے زمانے سے مزاحیہ مضامین لکھنا شروع کیے۔ علی گڑھ میگزین کے ایڈیٹر رہے۔ 1922ء میں وہیں کالج میں پروفیسر ہو گئے اور جب یونیورسٹی بنی اور اردو ادبیات کا شعبہ قائم تو رشید احمد صدیقی کو صدر شعبہ بنا دیا گیا۔ وہ شعروادب کا بڑا ستھرا ذوق رکھتے ہیں ادب کے بڑے اچھے استاد ہیں ان کی زندگی شرافت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا بہترین نمونہ ہے۔ 1977ء میں ان کا انتقال ہوا۔

تصانیف[ترمیم]

آرا[ترمیم]

؛آل احمد سرور

اکبر کے بعد اردو میں طنزیاتی روح سب سے زیادہ رشید احمد صدیقی کے یہاں ہے، ان کی سوجھ بوجھ بہت اچھی ہے اور ان کا تخیّل خلاق ہے، وہ معمولی باتوں میں مضحک پہلو بہت جلد دیکھ لیتے ہیں وہ قولِ محال یا Paradox کے ماہر ہیں اور الفاظ کے الٹ پھیر سے خوب کام لیتے ہیں۔ ان میں ایک سولیٹ کی تیزی، برناڈشاہ کی بُت شکنی، جسٹرٹن کی طباعی تینوں کے نمونے ملتے ہیں۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/83683 — بنام: Rashīd Aḥmad Ṣiddīqī — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. تنقیدی اشارے، آل احمد سرور، ص 163-64، ایڈیشن 1955، ناشر: ادارہ فروغِ اردو، امین آباد پارک، لکھنؤ، مطبع: سرفراز قومی پریس، لکھنؤ

بیرونی روابط[ترمیم]

مضامین