رشید احمد صدیقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
رشید احمد صدیقی
رشید احمد صدیقی
پیدائش 1894ءمیری یاہو، جونپور، اتر پردیش
وفات 1977
عہد بیسویں صدی
شعبہ عمل
دستخط
Rasheed Ahmad Siddiqi.jpg

رشید احمد صدیقی یوپی کے ضلع جونپور کے ایک گاؤں مڑیا میں 1894ء میں پیدا ہوئے۔ میٹرک تک جونپور میں رہے، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ آگئے۔ مالی حالت سے مجبور ہو کر کچہری میں ملازمت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ چنانچہ ملازمت کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی جاری رکھی اورفارسی میں ایم اے کیا۔ آپ نے طالب علمی کے زمانے سے مزاحیہ مضامین لکھنا شروع کیے۔ علی گڑھ میگزین کے ایڈیٹر رہے۔ 1922ء میں وہیں کالج میں پروفیسر ہو گئے اور جب یونیورسٹی بنی اور اردو ادبیات کا شعبہ قائم تو رشید احمد صدیقی کو صدر شعبہ بنا دیا گیا۔ وہ شعروادب کا بڑا ستھرا ذوق رکھتے ہیں ادب کے بڑے اچھے استاد ہیں ان کی زندگی شرافت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا بہترین نمونہ ہے۔ 1977ء میں ان کا انتقال ہوا۔

تصانیف[ترمیم]

آرا[ترمیم]

؛ آل احمد سرور

اکبر کے بعد اردو میں طنزیاتی روح سب سے زیادہ رشید احمد صدیقی کے یہاں ہے ، ان کی سوجھ بوجھ بہت اچھی ہے اور ان کا تخیّل خلاق ہے ، وہ معمولی باتوں میں مضحک پہلو بہت جلد دیکھ لیتے ہیں وہ قولِ محال یا Paradox کے ماہر ہیں اور الفاظ کے الٹ پھیر سے خوب کام لیتے ہیں۔ ان میں ایک سولیٹ کی تیزی، برناڈشاہ کی بُت شکنی، جسٹرٹن کی طباعی تینوں کے نمونے ملتے ہیں۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تنقیدی اشارے ، آل احمد سرور، ص 163-64، ایڈیشن 1955، ناشر: ادارہ فروغِ اردو، امین آباد پارک، لکھنؤ، مطبع: سرفراز قومی پریس، لکھنؤ

بیرونی روابط[ترمیم]

مضامین