رصفہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رصفہ بنتِ ایاہ
رصفہ اپنے بیٹوں کی لاشوں کی حفاظت کرتے ہوئے
نام: رصفہ
پیدائش: تقریباً 1119 یا 1059 قبل مسیح
وفات: (؟) قبل مسیح
والدین: ایاہ (والد)
شوہر: ساؤل (رصفہ ساؤل کی حرم تھی)
اولاد: ارمونی اور مفیبوست

رصفہ (انگریزی: Rizpah ؛ جدید: Ritspah ؛ عبرانی: רִצְפָּה ؛ یعنی ”کوئلہ، گرم پتھر“) ایاہ کی بیٹی تھی اور ساؤل کی داشتہ (انگریزی: Concubine) تھی۔

ساؤل کی وفات کے بعد[ترمیم]

ساؤل کی وفات کے بعد ابنیر نے رصفہ سے شادی کرلی تھی جس کا الزام اشبوست نے ابنیر پر لگایا تھا:

ساؤل کی ایک داشتہ تھی جس کا نام رِصفہ تھا اور وہ ایّاہ کی بیٹی تھی۔ اشبوست نے ابنیر سے کہا ، ”تم نے کیوں میرے باپ کی داشتہ سے جنسی تعلقات رکھے“۔ ابنیر ناراض ہو گیا جب اس نے اشبوست کے الفاظ سنے ابنیر نے کہا، ”میں ساؤل اور اس کے خاندان کا وفادار رہا ہوں۔ میں نے تمہیں داؤد کے حوالے نہیں کیا۔ میں نے اس کو تمہیں شکست دینے نہیں دی۔ میں یہوداہ کے لیے کام کرنے وا لا باغی نہیں ہوں لیکن تم ایک عورت(رصفہ) کے متعلق مجھ پر کچھ بُرا الزام لگا رہے ہو۔“[1]

اشبوست کے الزام کی وجہ سے ابنیر بہت افسردہ ہوا۔ یہ الزام کی وجہ اشبوست کے زوال اور داؤد کی بادشاہت کا باعث بنی:

ابنیر نے یہ خبر اسرائیل کے قائدین کو بھیجی اس نے کہا، ”ماضی میں تم لوگ داؤد کو اپنا بادشاہ بنانا چا ہتے تھے۔ اب تم داؤد کو بادشاہ بنا سکتے ہو کیونکہ خداوند نے داؤد کے بارے میں کہا تھا، میں اسرائیلیوں کو فلستیوں سے اور دوسرے تمام دشمنوں سے بچاؤں گا۔ میں ایسا میرے خادم داؤد کے ذریعہ کروں گا۔“ ابنیر نے ان ساری باتوں کو بنیامین خاندان کے گروہ کے لوگوں سے کہا۔ ابنیر نے جو باتیں کہیں اس سے بنیامین خاندان کا گروہ اور سبھی بنی اسرائیل رضا مند تھے۔ ابنیر نے بھی یہ ساری باتیں داؤد سے حبرون میں کہیں۔ ابنیر داؤد کے پاس حبرون آیا ابنیر بیس آدمیوں کو اپنے ساتھ لایا۔ داؤد نے ابنیر کے لیے اور اس کے ساتھ جو آدمی آئے تھے ان سب کے لیے دعوت کی۔ ابنیر نے داؤد سے کہا، ”میرے آقا اور بادشاہ مجھے تمام اسرائیلیوں کو تمہارے پاس لانے دو۔ تب وہ تم سے معاہدہ کریں گے اور تم تمام اسرائیل پر حکومت کرو گے جیسا کہ تم چاہتے تھے۔“[2]

رصفہ کے بیٹوں کی موت[ترمیم]

داؤد کے دورِ بادشاہت میں شدید قحط سالی پڑی۔ یہ قحط سالی کا زمانہ تین سال تک رہا۔ داؤد قحط کی وجہ سے بے حد پریشان تھا اس نے خداوند سے دعا کی اور خداوند نے اس کی دعا سن لی اور اس کو جواب دیا۔ خداوند نے کہا:

ساؤل اور اس کے قاتلو ں کا خاندان اس قحط سالی کا سبب ہے۔ یہ قحط سالی اس لیے آیا کیوں کہ ساؤل نے جبعونیوں کو مار ڈا لا۔

اس کے بعد داؤد (بادشاہ) نے جبعونیوں کو اپنے دربار میں بلوایا اور داؤد نے جبعونیوں سے کہا:

میں تمہارے لیے کیا کر سکتا ہوں؟ اسرائیل کے گناہوں کو مٹانے کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟ تا کہ تم خداوند کے لوگوں کو دُعا دے سکو۔

جبعونیوں نے داؤد سے کہا:

ساؤل اور اس کے خاندان کے پاس اتنا سونا اور چاندی نہیں ہے کہ وہ اس کام کو جو انہوں نے کیا اس کے بدلے میں دے سکیں۔ لیکن ہم کو اسرا ئیل کے کسی آدمی کو مار نے کا حق نہیں ہے۔

داؤد نے کہا:

بہتر ہے میں تمہا رے لیے کیا کر سکتا ہوں؟

جبعونیوں نے بادشاہ داؤد سے کہا:

ساؤل نے ہمارے خلاف منصوبہ بنایا۔ اس نے ہمارے لوگوں کو جو اسرائیل میں رہتے تھے تباہ کرنے کی کوشش کی۔ ہم کو ساؤل کے سات بیٹے دو۔ ساؤل خداوند کا چُنا ہوا بادشاہ تھا۔ اس لیے ہم اس کے بیٹوں کو خداوند کے سامنے جبعہ کی پہاڑی کی چوٹی پر پھانسی پر چڑھا دیں گے۔

بادشاہ داؤد نے کہا:

ٹھیک ہے میں تمہیں انکو دوں گا۔

مختلف مؤرخین اور کتاب سموئیل کے مطابق، داؤد نے ارمونی اور مفیبوست کو جبعونیوں کے حوالے کیا تھا۔ جو ساؤل اور اس کی حرم(داشتہ) بیوی رصفہ کے بیٹے تھے۔ ساؤل کی ایک اور بھی بیٹی تھی اس کا نام میرب تھا۔ اس کی شادی عدری ایل نامی شخص سے ہوئی تھی۔ جو محویلا کے برزلی کا بیٹا تھا۔ اس لیے داؤد نے میرب اور عدری ایل کے پانچ بیٹوں کو لیا۔ داؤد نے ان ساتوں آدمیوں کو جبعونیوں کو دے دیا۔ جبعونی انہیں جبعہ کی پہاڑ پر لائے اور خداوند کے سامنے پھانسی پر لٹکا دیا۔ وہ ساتوں آدمی ایک ساتھ مر گئے۔ جن میں رصفہ کے دو بیٹے بھی تھے۔[3]

لاشوں کی حفاظت[ترمیم]

رصفہ بنتِ ایاہ نے ٹاٹ لیا۔ وہ کپڑا چٹان پر پانچ مہینوں تک پڑا رہا۔ رصفہ دن رات لاشوں کو دیکھتی رہتی تھی۔ دن میں وہ جنگلی پرندوں کو لاش پر بیٹھنے نہیں دیتی اور رات میں جنگلی جانوروں کو لاشوں پر آنے نہیں دیتی تھی۔ لوگوں نے یہ سب دیکھا اور اس کی خبر داؤد کو کری کہ ساؤل کی داشتہ رصفہ دیوانوں کی طرح لاشوں کی حفاظت کر رہی ہے۔ تب داؤد نے جلعاد کے آدمیوں سے ساؤل اور یونتن کی ہڈیاں لیں (فلستیوں نے بیت شان کی دیوار پر ساؤل اور یونتن کا قتل کرکے جسموں کو لٹکایا تھا۔ لیکن یبیس جلعاد کے آدمی وہاں گئے اور وہاں سے لاشوں کو چرالیا۔) داؤد نے ساؤل اور ان سات آدمیوں کی لاشوں کو بھی لیا جو جبعونیوں کے ہاتھوں پھانسی پر لٹکائے گئے تھے جن میں رصفہ کے دو بیٹے ارمونی اور مفیبوست بھی تھے۔ داؤد نے ساؤل، اس کے بیٹے یونتن اور ان سات افراد کی ہڈیوں کو بنیامین کے علاقے میں دفن کیا تھا۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. عہدِ عتیق (عہد نامہ قدیم) کتاب سموئیل دوم۔ 8-3:7
  2. عہدِ عتیق (عہد نامہ قدیم) کتاب سموئیل دوم۔ 21-3:17
  3. عہدِ عتیق (عہد نامہ قدیم)کتاب سموئیل دوم۔ 9-21:1
  4. عہدِ عتیق (عہد نامہ قدیم) کتاب سموئیل دوم 14-21:10