رضیہ بٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رضیہ بٹ
پیدائش رضیہ
19 مئی 1924ء
وزیرآباد، پاکستان
وفات 4 اکتوبر 2012ء (88 سال)
لاہور، پنجاب، پاکستان
پیشہ مصنفہ، ڈراما نویس، ناول نگار
قومیت پاکستانی
اصناف فکشن
موضوع سوشلزم، رومانیت
نمایاں کام صاعقہ، نائلہ، بانو، ناجیہ

رضیہ بٹ (پیدائش: 19 مئی 1924ء4 اکتوبر 2012ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والی اردو کی مشہور ناول نگار اور کہانی نویس تھیں۔ انھیں پاکستانی خواتین میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی ناول نگار ہونے کا درجہ حاصل ہے۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

دسویں جماعت میں اُردو میں 100 فیصد نمبر حاصل کیے، جس پر اُستاد خاتون نے کہا کہ اگر میرے بس میں ہوتا تو ایک سو نمبروں میں سے ایک سو پچاس نمبر دیتی۔

قیام پاکستان کے بعد ان کا ناول "بانو" منظرِعام پر آیا تو اس نے مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ برسوں بعد اس ناول کو ٹیلی ویثرن پر پیش کیا گیا۔

کا رہائے نمایاں[ترمیم]

رضیہ بٹ نے 1940ء کے عشرے میں لکھنا شروع کیا - اب تک 50؍ سے زائد ناول تصنیف کیے ہیں۔ ان میں سے 6، 7 پر فلمیں بن چکیں جنھیں مقبولیت ملی۔ فکشن نگاری میں خاص مقام حاصل ہے۔

رضیہ بٹ کے ناولوں پر ایک سرسری نگاہ ڈالنے سے بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ پاکستانی معاشرے میں عورت کے کردار کو مرکزی اہمیت دیتی ہیں۔ مثلاً ان کے ناول نائلہ، صاعقہ، انیلہ، شبو، بانو، ثمینہ، ناجیہ، شائنہ، سبین، رابی اور بینا سب کے سب عورت کے مرکزی کردار کے گرد بُنے گئے ہیں۔

مغربی پاکستان کی پہلی رنگین فلم نائلہ انہی کے ایک ناول پر مبنی تھی۔

وفات[ترمیم]

5 اکتوبر، 2012ء کو ان کا انتقال لاہور میں ہوا ۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

BBC Urdu۔ ناول نگار رضیہ بٹ انتقال کر گئیں