رفع الیدین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پیغمبر اسلام جب نماز پڑھتے تو تکبیر تحریمہ، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد کندھوں یا کانوں تک اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے۔[ا] اسے عرف عام میں رفع الیدین کہتے ہیں۔ رفع یدین مالکی (صرف کچھ)، شافعی، حنبلی، زیدیہ، ظاہری اور اہل حدیث/سلفی مکاتب فکر میں رائج ہے۔ اور جعفریہ مکتب فکر میں بھی کچھ تبدیلی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

دلائل

  • اہل سنت کی مستند کتب احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عمر سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے، جس وقت رکوع کرتے اس وقت بھی اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت بھی کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے“۔[1][2]

امام محمد بن اسمعیل بخاری نے رفع الیدین کے متعلق ایک الگ سے کتاب تصنیف کی ہے اور اس کا نام رکھا ہے: ”جزء رفع الیدین“ انہوں نے اس میں ان دونوں جگہوں پر رفع الیدین کرنے کو ثابت کیا ہے اور اس موقف کی مخالفت کرنے والوں کی تردید کی ہے۔

  • ہمیں خبر دی اسمعیل بن ابی اویس نے: مجھے حدیث سنائی عبد الرحمٰن بن ابی الزناد نے عن موسیٰ بن عقبہ ہرمز الاعرج عن عبید اللہ بن ابی رافع عن علی بن ابی طالب (کی سند ہے کہ) بے شک جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کے لیے تکبیر (تحریمہ) کہتے تو رفع الیدین کرتے تھے اور جب رکوع کا ارادہ کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے اور رکعتوں سے اٹھتے تو اسی طرح (رفع الیدین) کرتے تھے۔[3]

یہ روایت بلحاظ سند حسن ہے۔ مسند احمد بن حنبل[4] وغیرہ میں بھی موجود ہے۔ اسے ابو عیسیٰ محمد ترمذی[5] نے حسن صحیح کہا ہے اور ابن خزیمہ[6] اور ابن حبان[7] اپنی صحیحین میں لائے ہیں۔ امام احمد بن حنبل نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔ اس کے راوی عبد الرحمٰن بن ابی الزناد جمہور محدیثین کے نزدیک صدوق و حسن الحدیث ہیں۔ شمس الدین الذہبی نے کہا: ”حديثة من قبيل الحسن“ (ھو حسن الحديث وبعضهم يراه حجة)[8] امام بخاری کے استاد محمد بن مدینی نے روایت کو قوی قرار دیا ہے۔ یہ روایت ابن ابی الزناد کے حافظہ بگڑنے سے پہلے کی ہے۔[9]

درج ذیل صحابہ کرام نے رفع الیدین کی مرفوع روایت بیان کی ہے:

  1. عبد اللہ بن عمر[12]
  2. مالک بن حویرث[13]
  3. وائل بن حجر[14]
  4. ابو حمید الساعدی[15]
  5. ابو قتادہ[16]
  6. سہل بن سعد[17]
  7. ابو اسید الساعدی[17]
  8. محمد بن مسلمہ[17]
  9. ابو بکر صدیق[18]
  10. عمر بن خطاب[19]
  11. علی بن ابی طالب[20]
  12. ابو ہریرہ[21]
  13. ابو موسیٰ اشعری[22]
  14. عبد اللہ بن زبیر[23]
  15. جابر بن عبد اللہ[24]
  16. انس بن مالک[25]

دو سجدوں کے درمیان رفع الیدین

محدثین رفع الیدین بین السجدتین پر بھی احادیث اپنی کتب میں لائے ہیں، لیکن علما کا احادیث کے درمیان تطبیق سے متعلق اختلاف ہے کہ ابن عمر کی روایت میں سجدوں کے دوران رفع الیدین کی ممانعت ہے،[26][27] جبکہ انس اور مالک بن حویرث والی روایت کا مطلب یہ ہے کہ سجدوں میں بھی رفع الیدین کیا جاتا تھا۔ چنانچہ کچھ علما کہتے ہیں کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی سجدوں کے درمیان بھی رفع الیدین کر لیا کرتے تھے، لیکن اکثر نہیں کرتے تھے۔[28]

  • مالک بن حویرث بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع و سجدوں میں اپنے ہاتھوں کو کانوں کی لو تک اُٹھاتے تھے۔“[29]
  • انس بن مالک سے مروی ہے کہ: ”نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع اور سجود میں رفع الیدین کرتے تھے“۔[30][پ]
  • موسیٰ بن اسماعیل نے حدیث بیان کی۔ ہمیں حماد بن سلمہ نے یحیی بن (ابی) اسحاق سے حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا ”میں نے انس بن مالک کو دیکھا آپ دونوں سجدوں کے درمیان ہاتھ اٹھا رہے تھے۔“[32] (امام) بخاری نے فرمایا: (میرے نزدیک) نبی صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث زیادہ راجح ہے۔[ت]
  • ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت تکبیر تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک بلند کرتے، پھر جب رکوع کرتے تو اس وقت بھی ہاتھوں کو کانوں کے برابر بلند کرتے اور جب رکوع سے اٹھتے ہوئےسمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو تب بھی اسی طرح ہاتھ اٹھاتے، جب آپ سجدہ کرتے اور جس وقت سجدے سے سر اٹھاتے تب بھی اپنے ہاتھوں کو کانوں کی لو تک اٹھاتے۔“[33] اس پر حافظ ابن حجر نے کہا "سجود میں رفع الیدین کرنے سے متعلق صحیح ترین روایت نسائی کی ہے۔"[34]

ترک رفع الیدین

احناف اور جمہورِ مالکی ترک رفع الیدین کے قائل ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ رفع یدین والی احادیث دیگر ان احادیث سے معارض ہیں جن میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین چھوڑنے کا ذکر ہے:

  • براء بن عازب سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے اور پھر ایسا نہ کرتے تھے۔[35]

اس حدیث کو سفیان بن عیینہ، محمد بن ادریس شافعی، امام بخاری کے استاد عبد اللہ بن زبیر حمیدی، احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین، عبد الرحمن دارمی اور امام محمد بن اسماعیل بخاری سمیت دیگر ائمہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔

  • عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ: ”کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں؟“ تو انہوں نے نماز پڑھائی اور انہوں نے صرف ایک بار رفع یدین کیا۔[36]

اس حدیث کو عبد اللہ بن مبارک، احمد بن حنبل، محمد بن اسماعیل بخاری، ابو بکر بیہقی اور علی بن عمر دار قطنی سمیت متعدد علما نے ضعیف قرار دیا ہے۔

احناف اور مالکی اکثریت کا یہ موقف ہے کہ صِرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہی رفع الیدین کرنا نماز کی سنت میں سے ہے، جبکہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ تمام تکبیروں میں رفع الیدین کو غیر شرعی عمل قرار دیتے ہیں۔[37] حنفی علما اس موقف کے لیے ابو حنیفہ سے مروی روایت کو دلیل بناتے ہیں۔[38] جبکہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ دیگر تکبیروں کے ساتھ رفع الیدین سے متعلق مجموعہ احادیث کو حنفی منسوخ سمجھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رفع الیدین آخری عمر میں ترک کر دیا تھا، شروع میں آپ رفع الیدین کرتے رہے ہیں۔[39]

علما کی آرا

حامی

  • عبد اللہ بن مبارک: جو شخص نماز میں ہاتھ اٹھاتا (رفع الیدین کرتا) ہے تو اُس کی حدیث ابن عمر ثابت ہے جسے زہری نے بواسطہ سالم اُن کے والد سے روایت کیا۔ سیدنا ابن مسعود کی وہ حدیث[ٹ] ثابت ہی نہیں ہے کہ نبی ﷺ صِرف نماز کے آغاز میں ہی ہاتھ اٹھاتے تھے۔[40]
  • محمد بن ادریس شافعی: ”علی اور ابن مسعود سے یہ (رفع الیدین نہ کرنے والی روایت) ثابت نہیں ہے۔“[ث][41] اور ایک مرتبہ فرمایا کہ ”رفع الیدین کا مطلب یہ ہے کہ تعظیم الٰہی اور اتباع سنت نبوی کی جائے، پہلی جگہ رفع الیدین کرنے کا بھی وہی مطلب ہے جو دیگر جگہوں یعنی رکوع جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھتے ہوئے رفع الیدین کرنے کا ہے، جنہیں تم تسلیم نہیں کرتے، مزید برآں (رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع الیدین نہ کر کے) تم نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابن عمر سے مروی شدہ روایت کی مخالفت کی ہے، نیز اس عمل کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تیرہ یا چودہ افراد نقل کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کئی صحابہ کرام سے متعدد اسانید کے ذریعے رفع الیدین کا ثبوت ملتا ہے، لہذا جو شخص رفع الیدین نہیں کرتا وہ سنت سنتن ترک کرنے والا ہے۔“[42][43]
  • علی بن مدینی: ”اس حدیث[ج] کی وجہ سے مسلمانوں پر حق بنتا ہے کہ وہ رفع الیدین کریں۔“[44]
  • احمد بن حنبل: ”جو لوگ رفع الیدین نہیں کرتے، ان کی نماز فی نفسہ نقص والی (ناقص) ہے۔“[45][46]
  • محمد بن اسماعیل بخاری: ”نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی بھی صحابی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے رفع یدین نہیں کیا۔“[47][48]
  • ابو داؤد: انہوں نے بھی سیدنا ابن مسعود کی اسی حدیث پہ لکھا: ”یہ حدیث اِن الفاظ کے ساتھ صحیح نہیں۔“[49]
  • ابو الحسن علی بن عمر دار قطنی: میں نے ابو جعفر احمد بن اسحاق بن بہلول کو بیان کرتے سنا اور انہوں نے ہمیں یہ روایت املا کرائی۔ انہوں نے فرمایا: ”میرا مذہب اہل عراق والا ہے۔ مجھے خواب میں نبی ﷺ کی زیارت ہوئی تو آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، تو میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ پہلی تکبیر میں پھر جب رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع یدین کرتے تھے“۔[50]
  • غزالی نے اپنی تصنیف کیمیائے سعادت میں رفع الیدین کے ساتھ نماز کا طریقہ لکھا ہے۔[51]
  • عبد القادر جیلانی نے اپنی تصنیف غُنیۃُ الطابین میں رفع الیدین کو ہیئات نماز میں لکھا ہے۔[52]

معتدل

  • شاہ ولی اللہ دہلوی: ”رفع الیدین ان ہیئات مستحبہ میں سے ہے جن کو کبھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمل میں لائے اور کبھی ان کو ترک کیا ہے۔ چنانچہ اس کا فعل اور ترک دونوں سنت ہیں اور ہر ایک صحابہ اور تابعین اور دیگر علمائے مجتہدین کی ایک جماعت نے عمل کیا ۔۔۔۔۔۔۔ اور بہت ممکن ہے کہ ابن مسعود کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ آپ ص کا آخری عمل رفع نہ کرنا تھا۔ کیونکہ یہ نظریہ وہ آنحضرت ص سے اخذ کر چکے تھے کہ نماز کی بنا اعضا کے سکون پر ہے۔ لیکن یہ نکتہ ان کی نظر سے اوجھل رہا کہ رفع یدین ایک فعل تعظیمی ہے اور یہی وجہ ہے کہ نماز کے آغاز پر اس کا عمل میں لانا سب کے نزدیک بالاتفاق سنت ہے یا ممکن ہے کہ ان کا خیال ہو کہ رفع یدین میں ترک کا اشارہ پایا جاتا ہے اس لیے نماز کے دوران میں اس کا عمل میں لانا مناسب نہیں۔ لیکن یہ بات شاید ان کی سمجھ میں نہ آئی کہ ترک ماسوائے اللہ کے اشارہ کو بار بار دہرانا اور ہر ایک فعل تعظیمی کی ابتدا اسی سے کرنا نماز کے اصول مطلوبہ میں سے ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم“[53]
  • رشید احمد گنگوہی: ”جو سنت کی محبت سے بلاشر و فساد آمین بالجہر اور رفع الیدین کرے، اس کو برا نہیں جانتا۔“[54]

مخالف

مزید دیکھیے

حواشی

  1. جیسا کہ متواتر احادیث سے ثابت ہے۔
  2. عربی متن کے منهم سے ظاہر ہے کہ یہاں سترہ صحابہ کے پورے نام نہیں ہیں واللہ علم، اگر درج بالا صحابہ کرام کے ساتھ عمر، علی اور ام الدرداء کو بھی شامل کیا جائے تو سترہ کی تعداد پوری ہو جاتی ہے۔
  3. شیخ البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔[31]
  4. سجود کے درمیان رفع الیدین نہ کرنا
  5. جامع ترمذی: 257
  6. یعنی ابن مسعود اور علی سے جو نقل کیا جاتا ہے کہ آپ دونوں نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ کسی جگہ رفع الیدین نہیں کرتے تھے، یہ ثابت نہیں ہے۔
  7. صحیح بخاری: 739

حوالہ جات

  1. صحیح بخاری 735
  2. صحیح مسلم 390
  3. جزء رفع الیدین از محمد بن اسماعیل بخاری، مترجم زبیر علی زئی ص 32
  4. مسند احمد بن حنبل 1 /93 ح 717
  5. سنن ترمذی 3423
  6. صحیح ابن خزیمہ 584
  7. عمدۃ القاری 5/ 277
  8. سیر اعلام النبلاء، ج 8، ص 168، 170
  9. نور العینین از زبیر علی زئی ص 83 — 84
  10. جزء رفع الیدین از محمد بن اسماعیل بخاری، مترجم زبیر علی زئی ص 33
  11. جزء رفع الیدین از محمد بن اسماعیل بخاری، مترجم زبیر علی زئی ص 45
  12. صحیح بخاری، صحیح مسلم و جزء رفع الیدین: 2
  13. صحیح بخاری، صحیح مسلم اور جزء رفع الیدین: 7
  14. صحیح مسلم اور جزء رفع الیدین: 10
  15. صحیح ابن حبان اور جزء رفع الیدین: 3
  16. جزء رفع الیدین: 3
  17. ^ ا ب پ جزء رفع الیدین: 5
  18. السنن الکبریٰ بیہقی 2/ 3 اور منتقی حدیث العبدوی 2/ 316 ح 24
  19. الخلافیات البیہقی اور نور العینین ص 194 ۔ 203 طبع دوم
  20. جزء رفع الیدین: 1
  21. صحیح ابن خزیمہ: 295، 294
  22. سنن دار قطنی 1/ 296
  23. السنن الکبریٰ بیہقی 2/ 73
  24. سنن ابن ماجہ: 868 اور مسند السراج: 92
  25. ابو یعلیٰ فی مسندہ: 3793 اور جزء رفع الیدین: 8
  26. صحیح بخاری 735
  27. صحیح مسلم 390
  28. فتح الباری از ابن رجب 6/ 354
  29. مسند احمد بن حنبل: 20014
  30. مصنف ابن ابی شیبہ: 2449
  31. ارواء الغلیل از البانی 2/68
  32. جزء رفع الیدین از محمد بن اسماعیل بخاری، مترجم زبیر علی زئی ص 105 – 106
  33. سنن نسائی: 1085
  34. فتح الباری از ابن حجر عسقلانی 2/ 223
  35. سنن ابی داؤد 479
  36. سنن ابی داؤد: 748
  37. المبسوط از شمس الائمہ سرخسی 1 / 23
  38. المبسوط از شمس الائمہ سرخسی 1 / 24
  39. بدائع الصنائع از علاؤ الدین کاسانی 1 / 208
  40. جامع ترمذی: 256 کے تحت
  41. السنن الكبرى البيهقي، ج 2، الصفحة 81
  42. کتاب الام از شافعی 7/266
  43. اعلام الموقعین از ابن قیم الجوزیہ 2/288
  44. ابن الجوزي، الموضوعات من الأحاديث المرفوعات - ج 2، كتاب الصلاة 16، ص 388
  45. مسائل الإمام أحمد رواية أبي داود السجستاني ص 33
  46. المنهج الأحمد ج 1، ص 159
  47. كتاب المجموع شرح المهذب للشيرازي، لإمام أبي زكريا يحيى الدين بن شرف النووي، ج 3 – الصلاة، ص 368، مكتبة الإرشاد
  48. تلخيص الحبير للحافظ ابن حجر 1/221-223
  49. سنن ابو داؤد: 746 کے تحت
  50. سنن دار قطنی، امام ابو الحسن علی بن عمر دار قطنی، مترجم حافظ فیض اللہ ناصر، ج 1 ص 378، ادارہ اسلامیات لاہور – کراچی پاکستان
  51. کیمیائے سعادت از حجۃ الاسلام امام غزالی، مترجم: مولانا سعید احمد نقشبندی، اشاعت اول، ص 133، پروگریسیو بکس 40-بی اردو بازار لاہور
  52. غنیۃ الطالبین از سید شیخ عبد القادر جیلانی، مترجم حافظ مبشر حسین لاہوری، ص 61، نعمانی کتب خانہ، حق اسٹریٹ اردو بازار لاہور
  53. حجۃ اللہ البالغہ از شاہ ولی اللہ دہلوی، مترجم مولانا عبد الرحیم، ص 119، الفیصل ناشران و تاجران، اردو بازار لاہور
  54. تذکرۃ الرشید از محمد عاشق الٰہی 175/2