رمضان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(رمضان المبارک سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
رمضان
هلال رمضان.jpg
کریسنٹ رنگا رنگ رنگا رنگایا اور رمضان کے دوران خوبصورت طور پر روشن کیا جاتا ہے.
منانے والے مسلم
قسم مذہبی
تقریبات اجتماعی افطاریاں اور اجتماعی نمازیں (تراویح)
رسومات
آغاز 1 رمضان
اختتام 29، یا 30 رمضان
تاریخ مُتغیرہ (بمطابق اسلامی تقویم)
2018ء  تاریخ 17 مئی – 15 جون[1]
2019ء  تاریخ 6 مئی – 3 جون[1]
منسلک عید الفطر، لیلۃ القدر

رمضان اسلامی تقویم کا نواں مہینہ ہے۔ اسے رمضان المبارک بھی کہا جاتا ہے۔اس ماہ مبارک میں قرآن کا نزول ہوا ہے۔جیسا کہ قرآن کی سورہ قدر میں ہے(اناانزلناه فى ليلة القدر، ) مسلمانوں کے لیے اس پورے مہینے ميں روزے رکھنے فرض ہيں۔ اسى ميں ايک رات ايسى ہے جس کو شب قدر کہا جاتا ہے۔ قرآن کے مطابق جس (رات) کى عبادت ہزار مہینوں کى عبادت سے بہتر ہے۔


جنت کو رمضان کے لیے پورا سال مزین کیا جاتا ہے


إِنَّ الْجَنَّةَ تُزَخْرَفُ لِرَمَضَانَ مِنْ رَأْسِ الْحَوْلِ إِلَى حَوْلِ قَابِلٍ» . قَالَ: فَإِذَا كَانَ أَوَّلُ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ هَبَّتْ رِيحٌ تَحْتَ الْعَرْشِ مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ عَلَى الْحُورِ الْعِينِ فَيَقُلْنَ: يَا رَبِّ اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِكَ أَزْوَاجًا تَقَرَّ بِهِمْ أَعْيُنُنَا وَتَقَرَّ أَعْيُنُهُمْ بِنَا . . ” جنت کو رمضان کے لیے پورا سال مزین کیا جاتا ہے۔فرمایا: جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش کے نیچے جنت کے پتوں سے ہوا چلتی ہوئی حورعین تک پہنچتی ہے تو وہ کہتی ہیں: رب جی! اپنے بندوں میں سے ہمارے شوہر بنادے، ہم ان سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور وہ ہم سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں۔“ (شعب الإیمان للبیهقي: 3633)


ضعیف : یہ ضعیف روایت ہے، کیونکہ؛ 1: اس کا راوی ولید بن ولید مختلف فیه ہے لیکن اس کا ضعیف ہونا راجح ہے۔ ٭امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کو روایت کرنے میں عبد الرحمٰن بن ثابت بن ثوبان عمرو بن دینار سے متفرد ہیں اور ابن ثوبان سے روایت لینے میں ولید بن ولید متفرد ہے اور وہ منکر الحدیث ہے۔ حافظ ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سے حجت لینا جائز نہیں۔ (العلل المتناهیة ، کتاب الصیام: 881) ٭ اس حدیث کے بہت سے شواہد بھی ہیں جو سب کے سب باطل ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح بتحقیق زبیر علی زئی: 1967)

اثنا عشری شیعیت میں[ترمیم]

محمد بن سنان کی روایت میں ہے جسے انہوں نے حذیفہ بن منصور سے اور انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ماہ رمضان ہمیشہ تیس(30) دن کا ہو گا۔ اس سے کم تا ابد نہ ہو گا۔[3]

وفیات[ترمیم]

11 ھ - 3 رمضان کو خاتون جنت فاطمہ زہرا کی وفات۔

58 ھ - ام المومنین عائشہ بنت ابی بکر نے 17 رمضان کو انتقال فرمایا .

50 ھ - ام المومنین صفیہ بنت حیی بن اخطب نے 60 سال کی عمر میں انتقال فرمایا .

40 ھ - علی بن ابی طالب نے 21 رمضان کو شہادت پائی۔

واقعات[ترمیم]

2 ھ - 17 رمضان کو جمعہ کے دن غزوۂ بدر ہوا۔

8 ھ -20 رمضان کو مکہ فتح ہوا اور مکہ میں پہلی مرتبہ اذان دی گئی۔

58 ھ - 17 رمضان کو روضہ رسولﷺ کا دروازہ بند کیا گیا۔

1366 ھ- 27 رمضان 1947 کو اسلامی جمہوریہ پاکستان وجود میں آیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ "The Umm al-Qura Calendar of Saudi Arabia"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 مئی 2017۔
  2. "رمضان کا آغاز مئی 27 یا مئی 28"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 مئی 2017۔
  3. من لا یحضرہ الفقیہ جلد دوم صفحہ 120 حدیث نمبر 2040