رمیز راجہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
رمیز راجہ
تفصیل= Raja in 2022
تفصیل= Raja in 2022

35th Chairman of Pakistan Cricket Board
صدر Arif Alvi
وزیر اعظم Imran Khan
Shehbaz Sharif
Ehsan Mani
Najam Sethi
معلومات شخصیت
پیدائش 14 اگست 1962ء (62 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فیصل آباد  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد راجہ سلیم اختر  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
تعليم
مادر علمی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور
ایچی سن کالج
صادق پبلک اسکول  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ کرکٹ کھلاڑی،  کھیل مبصر،  ٹی وی پروڈیوسر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کھیل کرکٹ  ویکی ڈیٹا پر (P641) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کھیل کا ملک پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P1532) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

رمیز حسن راجا (پیدائش: 14 اگست 1962ء لائل پور (اب فیصل آباد)، پنجاب)ایک راجپوت گھرانے میں ہوئی۔ان کے بقول انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے گھر میں ہی منفرد انداز میں حاصل کی۔ ان کے والد راجا سلیم اختر ایک سینئر بیوروکریٹ تھے اور انھوں نے کچھ فرسٹ کلاس میچز کھیل رکھے تھے رمیز راجا کرکٹ کے راجا وسیم راجہ جنہیں کسی سیریز میں 14 چھکے لگانے کی شہرت حاصل تھی کے چھوٹے بھائی ہیں, وہ کرکٹ مبصر ، یوٹیوبر اور سابق کرکٹ کھلاڑی ہیں جو 1980ء کی دہائی اور 1990ء کی دہائی کے دوران میں پاکستان کی کپتان کی حیثیت سے نمائندگی کرتے تھے۔ کرکٹ سے سبکدوشی ہونے کے بعد سے، وہ بین الاقوامی کرکٹ میچوں میں تبصرہ نگار رہے ہیں۔ وہ اپنے یوٹیوب چینل رمیز اسپیکس پر بھی کرکٹ کے بارے میں بات کرتے رہے اور موجودہ وقت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمیں کی حثیت سے اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں رمیز حسن راجا نے پاکستان کے علاوہ الائیڈ بینک ، اسلام آباد کرکٹ ایسوسی ایشن،لاہور، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ،پنجاب، سروس انڈسٹریز کی طرف سے کرکٹ کھیلی۔

فرسٹ کلاس کرکٹ[ترمیم]

رمیز راجا نے 1978ء میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں قدم رکھا، اس نے لسٹ اے میں 9000 سے زیادہ رنز بنائے اور پہلی کلاس میچوں میں 10،000 رنز بنائے۔ وہ پاکستان میں 10،000 فرسٹ کلاس رنز تک پہنچنے میں صرف چند لوگوں میں سے ایک ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف اسے قومی کال ملی۔ ان کا شمار پاکستان کے ڈومیسٹک سرکٹ میں کھیلنے والے مایہ ناز بلے بازوں میں ہوتا ہے

انٹرنیشنل کیرئیر[ترمیم]

رمیز راجا نے 13 سال تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلی، 57 ٹیسٹ میچوں میں اپنے جوہر دکھائے ان کے کیریئر کی اوسط 31.83 ہے اور اس نے 2 سنچریاں اسکور کیں۔ ایک روزہ بین الاقوامی میدان میں، انھوں نے 198 میچ کھیلے اور 9 سنچریاں بنائیں۔ وہ اس قومی ٹیم کے رکن تھے جو 1987ء کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچی تھی۔ انھوں نے 1992ء کے ورلڈ کپ میں 2 سنچریاں اسکور کیں، جو آسٹریلیا میں منعقد ہوا تھا، اس میں نیوزی لینڈ کے خلاف ایک سنچری بھی شامل تھی، جو اس عرصے میں ناقابل شکست رہا تھا۔ انھیں میچ جیتنے والی کارکردگی پر مین آف دی میچ سے نوازا گیا جس نے پاکستان کو ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں جگہ ملی۔ میں فائنل انگلینڈ کے خلاف، رمیز فائنل کیچ لینے کا اعزاز جیت لیا ہے جس میں پڑا ورلڈ کپپاکستان کے لیے۔ یہ ان کے کرکٹنگ کیریئر کا اہم عہد بن گیا، جیسا کہ اس فتح کے ایک سال کے اندر ہی وہ فارم ہار گیا تھا اور اسے قومی ٹیم سے باہر کر دیا گیا تھا۔

رمیز اسپیکس[ترمیم]

رمیز حسن راجا اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے 36 ویں چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بطور کھلاڑی، راجا نے 1980ء سے 1990ء کی دہائی کے دوران پاکستان کی نمائندگی کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد سے وہ بین الاقوامی کرکٹ میچوں کے کمنٹیٹر رہے ہیں۔ وہ اپنے یوٹیوب چینل رمیز اسپیکس پر بھی کرکٹ کے بارے میں بات کرتے ہیں۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

رمیز راجا ایک راجپوت گھرانے میں پیدا ہوئے، جن کی جڑیں ان کی اہلیہ کی طرف سے بھارتی ریاست راجستھان کے شہر جے پور سے ہے جب کہ اس کی ساس دہلی اور اس کے سسر کرنال سے ہیں۔ رمیز راجا صادق پبلک اسکول بہاولپور، ایچی سن کالج لاہور اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے طالب علم رہے ہیں۔

ڈومیسٹک کیریئر[ترمیم]

رمیز نے اپنے فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز 1978ء میں کیا، لسٹ اے میں 9,000 سے زیادہ رنز اور فرسٹ کلاس میچوں میں 10,000 رنز بنائے۔ وہ پاکستان میں 10,000 فرسٹ کلاس رنز تک پہنچنے والے چند لوگوں میں سے ایک ہیں۔ انھیں انگلینڈ کے خلاف قومی کال ملی۔ ان کا شمار پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں کھیلنے والے نمایاں بلے بازوں میں ہوتا تھا۔

بین الاقوامی کیریئر[ترمیم]

انھیں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیلنے کا موقع ملا۔ ان کی کارکردگی غیر متاثر کن تھی، کیونکہ وہ ہر اننگز میں 1 رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ تاہم، پاکستانی اسکواڈ میں کئی کھلاڑیوں کی ریٹائرمنٹ اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنے برسوں کے تجربے کی مدد سے، راجا قومی ٹیم میں جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔رمیز نے 13 سال تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلی، 57 ٹیسٹ میچوں میں ان کا کیریئر اوسط 31.83 ہے اور انھوں نے دو سنچریاں اسکور کیں۔ ایک روزہ بین الاقوامی میدان میں انھوں نے 198 میچ کھیلے اور 9 سنچریاں اسکور کیں۔ وہ 1987ء کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک پہنچنے والی قومی ٹیم کے رکن تھا۔ انھوں نے 1992ء کے ورلڈ کپ میں 2 سنچریاں اسکور کیں جو آسٹریلیا میں منعقد ہوا جس میں نیوزی لینڈ کے خلاف سنچری بھی شامل تھی جو اس عرصے میں ناقابل شکست رہی تھی۔ انھیں ان کی میچ وننگ کارکردگی پر مین آف دی میچ سے نوازا گیا جس نے پاکستان کو ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں جگہ دلائی۔ انگلینڈ کے خلاف فائنل میں رمیز کو فائنل کیچ لینے کا اعزاز حاصل ہوا جس نے پاکستان کو ورلڈ کپ جتوایا۔ یہ ان کے کرکٹ کیریئر کا عروج بن گیا، کیونکہ اس فتح کے ایک سال کے اندر ہی وہ فارم کھو چکے تھے اور قومی ٹیم سے باہر ہو گئے تھے۔

میدان میں رکاوٹ ڈالنا[ترمیم]

رمیز ون ڈے انٹرنیشنل کی تاریخ کے پہلے کھلاڑی بن گئے جنہیں 1987ء میں کراچی میں کھیلے گئے میچ میں انگلینڈ کے خلاف "فیلڈ میں رکاوٹ" دیا گیا تھا۔ انگلینڈ نے اپنی 44 اوور کی اننگز میں 6 وکٹوں پر 263 رنز بنائے تھے۔ پاکستان کی جانب سے راجا نے بیٹنگ کا آغاز کیا اور میچ کی آخری گیند پر 98 رنز تک پہنچ چکے تھے، پاکستان کو آخری اوور میں جیت کے لیے 25 رنز درکار تھے۔ اس آخری اوور کے دوران، اس نے گیند کو نشانہ بنایا اور دو رنز تک دوڑ گئے جس سے اسے ان کی سنچری مل سکتی تھی، لیکن وہ کریز سے کافی دور تھے جب فیلڈر کی واپسی اس کی طرف آئی اور راجا نے گیند کو اپنے بلے سے گرا دیا اور اسے آؤٹ کر دیا۔ اسے"میدان میں رکاوٹ" قرار دی گیا۔

دیر سے کیریئر[ترمیم]

انھیں پاکستان ٹیم میں واپس بلایا گیا اور وہ 1996ء کے کرکٹ ورلڈ کپ میں کھیلا۔ 1995-1996ء کے سیزن کے دوران، پاکستان کی سری لنکا سے پہلی ہوم سیریز ہارنے کے بعد، انھیں کپتانی سے ہٹا دیا گیا۔ پاکستان کے لیے ایک ٹیسٹ میچ میں ان کا آخری کھیل بطور کپتان 1996-1997ء سری لنکا کے دورے میں تھا، تاہم ٹیم سیریز کے دوران کوئی میچ جیتنے میں ناکام رہی۔ انھوں نے 1997ء میں تمام طرز کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی اور اس کے بعد سے وہ ایک ٹیلی ویژن مبصر اور پاکستان اور بین الاقوامی کرکٹ دونوں کے منتظم کے طور پر سرگرم ہیں۔

کمنٹری کیریئر[ترمیم]

رمیز راجا نے 2006ء میں پاکستان کے خلاف انگلینڈ کی ٹیسٹ سیریز کے دوران ٹیسٹ میچ اسپیشل اور اسکائی اسپورٹس پر کمنٹیٹر کے طور پر کام کیا ہے۔ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں، لیکن میڈیا کے بڑھتے ہوئے وعدوں کا حوالہ دیتے ہوئے اگست 2004ء میں اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے دوروں کے ساتھ ساتھ بہت سے ڈومیسٹک ٹورنامنٹس اور آئی سی سی کے بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں کمنٹری فراہم کرتے رہتے ہیں۔

ذاتی زندگی اور خاندان[ترمیم]

راجا کی ساس اور سسر کا تعلق کرنال، ہریانہ سے ہے۔ ان کے والد راجا سلیم اختر برطانوی نوآبادیاتی دور میں کرکٹ کھلاڑی تھے اور ملتان کے لیے کھیلتے تھے جب کہ ان کے دونوں بھائی وسیم راجا اور زعیم راجا بھی کرکٹ کے کھلاڑی تھے۔ رمیز راجا نے پاکستان کے علاوہ الائیڈ بینک، اسلام آباد کرکٹ ایسوسی ایشن، لاہور، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن، پنجاب اور سروس انڈسٹریز کی طرف سے کرکٹ مقابلوں میں حصہ لیا۔

اعداد و شمار[ترمیم]

رمیز حسن راجا نے 57 ٹیسٹوں کی 94 اننگز میں 5 دفعہ ناٹ آئوٹ رہ کر 2833 رنز سکور کیے۔ 31.84 کی اوسط سے بننے والے ان رنزوں میں 122 اس کا زیادہ سے زیادہ سکور تھا۔ 2 سنچریاں اور 22 نصف سنچریاں اس مجموعے میں مددگار ثابت ہوئی تھیں۔ رمیز راجا نے 198 ایک روزہ مقابلوں کی 197 اننگز میں 15 مرتبہ ناٹ آئوٹ رہ کر 5841 رنز بنائے جس میں 119 ناٹ آئوٹ اس کا سب سے زیادہ انفرادی سکور تھا جس کے لیے انھیں 32.09 کی اوسط حاصل ہوئی۔ 9 سنچریاں اور 31 نصف سنچریاں بھی ان کے ریکارڈ میں شامل ہیں جبکہ 183 فرسٹ کلاس میچوں کی 304 اننگز میں 20 مرتبہ ناٹ آئوٹ رہ کر انھوں نے 10392 رنز سکور کیے۔ 36.59 کی اوسط سے ترتیب پانے والے اس مجموعے میں 300 ان کا کسی ایک اننگ کا سب سے بڑا انفرادی سکور تھا۔ 17 سنچریاں اور 63 نصف سنچریاں بھی اس کے ریکارڈ میں شامل تھیں۔ رمیز راجا ایک اچھے فیلڈر بھی تھے، انھوں نے ٹیسٹ میں 34، ون ڈے میں 33 اور فرسٹ کلاس میں 103 کیچز تھامے۔ رمیز راجا نے 1987ء میں انگلینڈ کے خلاف کراچی کے مقام پر نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے جو ایک عام سی بات تھی لیکن ان کا آئوٹ ہونا ایک تاریخی واقعہ تھا۔ وہ فیلڈنگ میں مداخلت کے حوالے سے آئوٹ قرار دیے گئے، وہ اس سانحے کا شکار ہونے والے دنیا کے سب سے پہلے کرکٹ کھلاڑی تھے۔ بعد ازاں مزید 7 کھلاڑی اسی طریقے سے آئوٹ دیے گئے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]