رند بلوچ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

رند بلوچ :

میر چاکر رند

رند دور جو 1430ءسے 1600ءتک کے عرصے پر محیط ہے۔ خوانین کا دور جس کی مدت 1600ءسے 1850ءتک ہے۔ برطانوی دور جو 1850ءسے شروع ہوا اور اگست 1947ءمیں تمام ہوا۔ بلوچوں میں رندوں کے تعارف کے متعلق ضرورت نہیں۔ کیونکہ میر جلال ہان رند کی سر کرد گی میں بلوچونکے چوالیس مختلف قبیلے سیستان سے مکران آئے تھے۔ اور وہاں سے وہ بلوچستان سندھ پنجاب اور گجرات میں پھیل گئے۔ اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ میر چاکر کے زمانے تک جب تک یہ منظم رہے من حیث الکل بلوچوں کی سرداری رندوں میں رہی۔ لاشارئیوں سے تیس سالہ جنگ کے بعد اور پھر پنجاب میں دودھائیوں سے لڑائی کے بعد بلوچوں کی تنظیم منتشر ہو گئی۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی سرداری بھی تقسیم ہو کر رہ گئی۔ اور ہر قبیلے نے نیم خود مختارانہ حیثیت حاصل کر لی۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے زمانے میں قبیلے کی کمزوری کی وجہ سے رندوں کی سرداری منقسم ہو گئی۔ جب میر بجار پژ رند پنجاب میں میر چاکر سے علاحدہ ہوا اور دودائی قبیلہ سے لڑائی شروع کی تو اس نے اپنے آپ کو رندوں کا بادشاہ کہلوایا۔ میر چاکر رند اور بلو چوں کے دوسرے مشہور رہنما سب کے سب رندوں کے پژ گروہ سے متعلق تھے۔ غرض اس طرح بلوچوں میں قبائلیت اور علیحدگی کی ابتداءہوئی۔ بلوچوں میں یہ عام دستور سا ہوگیاہے۔ کہ ان میں سے ہر ایک قبیلہ رند ہونے کا دعویٰ کرتاہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر کا رند ہونے سے متعلق کوئی تعلق نہیں۔ رندوں کی شمشیر زنی کی شہرت اور اس قبیلے میں عظیم شخصیتوں اور ہستیوں کی موجودگی کی وجہ سے اس قبیلے سے اپنے آپ کو متعلق کر دینا یقیناً قابل عزت بات ہے۔ تقریاً آدھے رند پنجاب میں مقیم ہیں۔ ان کے آباو اجداد میر چاکر رند کے ساتھ وہاں گئے تھے۔ میر چاکر رند نے وہیں ضلع ساہیوال میں انتقال کیا اور وہیں دفن ہوئے۔ بہر حال رندوں کی ایک خاص تعداد نے میر چاکر رند سے علاحدہ ہو کر میر بجار کو اپنا سردار مان لیا۔ میر بجار نے پنجاب میں دودائیوں کے خلاف بہت سی لڑائیاں لڑیں۔ اور اس کے بعد وہ سندھ سے ہوتا ہوا بلوچستان واپس آگیا۔ اس کے ساتھ جو قبیلے واپس بلوچستان چلے گے تھے ان میں چھلگری چولانی دیناری مورانی اور روانی قبائل تھے اس کے بہت سے پیروکار اور ساتھیوں نے ڈیرہ غازیخان سندھ اور بلوچستان میں سکونت اختیار کرلی اور اپنے آپ کو مختلف ناموں سے موسوم کیا۔ رند کی قبیلہ کی ایک مشہور شاخ چنگوانی جو چوٹی زیریں میں آباد ہوئی آب بھی ان کی بہادری اور شجاعت دیدنی اور مثالی تصور کی جاتی ہے ایک کے سرداروں میں نمایاں مقام جناب سردار نوتک خان چنگوانی جس کے نام سے نوتک مہمید رکھا گیا لیکن وہ ہمیشہ اپنے رند ہونے پر فخر کرتے رہے اور اب بھی کرتے ہیں۔

شجرہ رند قبیلہ

  • بادینی(رخشانی)
  • جمالدینی(رخشانی)
    • بجارانی
    • بزدار
    • نتکانی
    • چاکرانی
    • دان گن زئی
    • اسحاق زئی
    • بھولو زئی
    • چھلگری
    • چولانی
    • دیناری
    • پیرو زئی
    • گبول
    • گادئی (سراٹی)
    • گدری
    • غلام بولدک
      • عالیانی
      • چولیانی
      • عسبانی
      • خیانی
      • مندانی
      • گورشیانی
      • گور گیثر
      • گرزئی
      • ہڈدار
      • ہوتان زئی
      • اندارا
      • عیسیانی
      • جمالی
      • سرائی
      • چامرا
      • جلگاری
      • مودارانی
      • نیوری دن
    • احمدانی
      • شریفانی(تمن دار)
      • رسیدانی
      • مورانی
      • جاڑے
      • کوڑے
      • غلبی
      • منگلے
    • جتوئی
      • براہمانی
      • بولانی
      • حاجیان زئی
      • جمالانی
      • کھور زئی
      • پیروزانی
      • شیہہ
    • کھہیر
    • کلوانی
    • کرموزئی
    • کھوسہ
      • کھوسہ
      • بکھرانی
      • گنانی
      • ساکھانی
      • شاسانی
      • عمرانی
    • کلوئی
    • کولاچی
    • سیال رند
    • کچک
      • چوٹئی
      • سیاہ پاد
      • جلمبانی
      • چنگوانی
    • لیغاری
    • لاشاری
    • لنڈ
    • روانی بلوچ
    • مسوری
    • مغیری
    • مراد خیل
    • ناہر
    • لاکھی زئی
    • نوشیروانی
    • نندوانی
    • پیندازئی
    • فردکانی
    • پیتافی
    • پھگ **
      • جوگی
    • پھژ
    • راہیجہ
      • شھکانی
  بادیازئی 	
      • ساہاکانی
      • سنانی
      • سیتانی
    • رامی زئی
    • روزی
    • رستمانی
    • سوہریانی
      • بازر زئی
      • حاجن زئی
      • نندوانی
    • سرخی
    • شاہیجہ
    • شر
    • سند

جو کوٹ ادو ڈیرہ غازی خان سخی سرور کوٹ چھٹہ میں کافی تعداد میں رہتے ہیں طالب دعا محمد اکبر خان لاشاری جلالپور پیروالہ ضلع ملتان ٘https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2240116162884314&id=100006578561323