روحانی اسفار اور ان کے ثمرات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سفر اور حقیقت سفر پر شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی جانب سے لکھا گیا ایک نایاب رسالہ جس میں آپ نے سالکینِ راہ طریقت و حقیقت کے لیے روحانی اَسفار کے حقائق آشکار کیے ہیں۔ اس کتاب میں آپ نے روحانی اسفار کو تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ یہ اُس ذات میں، اُس ذات تک اور اُس ذات سے سفر ہی ہیں۔ مکمل کتاب مقدمے اور 17 اسفار پر مشتمل ہے جن میں مختلف انبیائے کرام کے ظاہری اسفار کو اپنے نفس کے آئینہ میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سفر لوط  میں فرماتے ہیں: (اس کتاب میں ) ہر وہ سفر جس کا میں تذکرہ کرتا ہوں، میں اِس میں اپنی ذات کی بات کرتا ہوں، میرا مقصد اُن لوگوں کے حق میں اس واقعے کی تفسیر بیان کرنا نہیں۔ یہ اسفار تو بنائے گئے وہ پل ہیں جن کو پار کر کے ہم اپنی ذوات اور خود سے مخصوص اپنے احوال تک پہنچتے ہیں اور اسی میں ہمارا فائدہ ہے۔

اشاعت[ترمیم]

ابن العربی فاؤنڈیشن کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ اس اشاعت میں کتاب کو مکمل تحقیق شدہ عربی متن اور سہل معاصر اردو ترجمے کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ کتاب کی اشاعت میں بین الاقوامی معیار کو پیش نظر رکھا گیا ہے اور اسے شیخ اکبر پر تحقیق کرنے والے بین الاقوامی اداروں کے اشتراک سے شائع کیا گیا ہے۔ کتاب کے عربی متن کی تحقیق کے لیے شیخ اکبر کے ہاتھ سے لکھے قلمی نسخے پر بھروسا کیا گیا ہے جس کی وجہ سے عربی عبارت کتابت کی غلطیوں سے پاک ہے۔ ترجمہ شستہ رکھا گیا ہے اور مشکل مقامات پر حواشی میں بات سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ امید ہے علوم شیخ اکبر کے بہتر فہم میں یہ کتاب آپ کی معاون و مددگار ہو گی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]