رودکی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رودکی

رودکی فارسی شاعری کا باوا آدم خیال کیا جاتا ہے۔

ولادت[ترمیم]

اگرچہ رودکی کی ولادت کے بارے میں کوئی مستند حوالہ ہمیں نہیں ملتا ہے جبکہ بعض مورخین نے 873ء کو رودکی کی ولادت کا سال قراردیا ہے ۔[1]لیکن اس بات میں تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ تیسری صدی ہجری کے دوسرے حصے میں یعنی جس وقت فارسی شعر اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل سے گزر رہاتھا اس وقت فارسی زبان و ادب کے اس معمار یعنی ’’ابو عبداللہ جعفر محمد رودکی سمر قندی‘‘نے اس دنیا میں آنکھ کھولی۔آپ کو ’’رودکی‘‘ اس لیے کہا جاتاہے ہے کہ آپ سمر قند کے ایک ’’رودک‘‘ نامی گاؤں میں پیداہوئے اور وہی پر نشونما پائی ہے ۔

نام[ترمیم]

پورا نام ابو عبد اللہ جعفر بن محمد رودکی سمر قندی تھا۔ عبدالکریم بن محمد السمعانی نے رودکی کا پورا نام ’’ابوعبداللہ جعفر بن محمد بن حکیم بن عبدالرحمن بن آدم‘‘ لکھا ہے ۔[2]

ابتدائی حالات[ترمیم]

جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ رودکی کی تاریخ ولادت کے حوالے سے کوئی معتبر حوالہ دستیاب نہیں ہے ۔البتہ مورخین نے آپ کے ابتدائی حالات کے بارے میں لکھا ہے کہ آپ بچپن ہی سے اس قدر ذکی اور تیز فہم تھے کہ آٹھ سال کی عمر میں نہ صرف قرآن مجید کو حفظ کیا تھا بلکہ بچپن ہی سے شعر گوئی میں بھی کمال حاصل کیا تھا اس لیے لوگ آپ کی بہت قدر کرتے اور احتراما ’’استاد‘‘ کہہ کر پکارتے تھے ۔آپ کی آواز میں بھلا کی کشش پائی جاتی تھی ۔رودکی کی بصارت سے محرومی کے بارے میں مورخین کے درمیان اختلاف ہے کہ آیاوہ پیدائشی نابینا تھا یا بعد میں کسی وجہ سے نابینا ہوئے تھے ۔بعض انہیں مادر زاد نابینا سمجھتے ہیں جبکہ دوسرے بعض مورخین کا خیال ہے کہ وہ پیدائشی نابینا نہیں تھے بلکہ بعد میں کسی وجہ سے نابینا ہوئے تھے ۔ادب نامہ ایران کے مصنف اس دوسری رائ یعنی رودکی کے بعد میں نابینا ہونے کی حمایت میں لکھتا ہے کہ :یہی بات درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ رودکی کے اشعار میں بعض تشبیھات ایسی بھی ہیں جنہیں وہی شخص لکھ سکتاہے جو بصارت کی دولت سے بہرہ ور رہ چکا ہو ۔[3]لیکن استاد بدیع الزمان فروزانفر اس دلیل سے اتفاق نہیں کرتے ہیں اور عربی کے ایک پیدائشی نابینا شاعر بشار بن برد کے دیوان سے ایسی متعدد مثالیں پیش کرتے ہیں جن میں شاعر دیکھنے اور رنگوں کی بات کرتا ہے یا ایسی تشبیہیں دیتاہے جن کا تعلق بصارت سے ہے ۔ان کے خیال میں پیدائشی نابینا شاعر بھی اپنے تخیل کے زور سے اور طرز بیان کے عام سانچوں کو استعمال کرتے ہوئے ایسی باتیں کہہ سکتاہے

تعلیم و تربیت[ترمیم]

آٹھ سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا اور قرات کا فن بھی سیکھا۔آواز اچھی تھی تو شاعری کے ساتھ ساتھ موسیقی کی جانب بھی رجوع کیا۔ بربط خوب بجاتا تھااور شعر بھی خوب کہتا تھا۔اس لیے موسیقی کے باعث اس کی شہرت دور دور پہنچی۔آپ کی شاعری اور خوش الحانی سے متاثر ہونے والوں میں سے ایک نصر بن احمد سامانی بھی تھا ۔نصر بن احمد سامانی پر رودکی کے اشعار کے اثرات کے حوالے سے ایک انتہائی دلچسپ واقعہ بیان کیا جاتاہے ہے کہ کہ ’’ایک مرتبہ کسی سفر کے دوران جب امیر نصر بن احمد سامانی ایک خوبصورت سرسبز مقام پر پہنچا تو وہاں پرپڑھاؤ ڈالا ۔کافی عرصہ بعد جب وہاں پر اقامت کا دورانیہ طویل ہوگیا تو آپ کے کافلے میں شامل لوگوں کو گھر بار اور بیوی بچوں کی یاد ستانے لگی لیکن ان میں سے کسی کو یہ ہمت نہیں ہورہی تھی کہ وہ شاہ سے واپسی کے بارے میں بات کرسکیں یہاں تک کہ ان سب نے رودکی کا دامن تھامااور ان سے کہا کہ کسی طریقے سے شاہ کو واپسی کے لیے تیار کرے اس وقت رودکی نے ’’بوی جوی مولیان‘‘ نامی قصیدے کو اس طرح خوش الحانی اور خوبصورتی کے ساتھ شاہ کو سنایا کہ وہ جوتے پہلے بغیر ہی گھوڑے پر سوار ہوکر بخارا کی طرف روانہ ہونے لگاتھا۔‘‘[4] بوی جوئی لولیان آید ہمی یاد یار مہربان آید ہمی اکثر شعراء اور تذکرہ نویسوں نے لکھا ہے کہ رودکی مادر زاد اندھا تھا[5] جبکہ بعض دوسرے مورخین کا یہ ماننا ہے کہ آپ بعد میں کسی وجہ سے نابینا ہو گئے تھے ۔[6]

رودکی کا شمار فارسی کے عظیم ترین شعرامیں ہوتاہے ،بعد کے شعرا نے اسے استاد شعرایا سلطان شعرا کے نام سے یاد کیا ہے ۔رودکی فارسی کا پہلا شاعر ہے جس نے فارسی کے وسیع امکاناک کی نشاندہی کی ۔کہا جاتاہے کہ رودکی بہت ہی پر گو شاعر تھا ۔رشیدی سمر قندی کے بقل اس نے ایک لاکھ تیس ہزار شعر کہے لیکن استاد سعید نفیسی مرحوم بڑی کاوش کے بعد رودکی کے جو اشعار جمع کئے ہیں ان کی تعداد بمشکل ایک ہزار تک پہنتی ہے ۔[7]

غزل کا پہلا شاعر[ترمیم]

ان کے شاعری کا دیوان قصیدوں، رباعیوں، مثنویوں اور قطعات پر مشتمل ہے۔ انھیں فارسی کا ابو الآباء سمجھا جاتا ہے۔ رودکی نے ابوالفضل بلعمی کی فرمائش پر کلیہ و دمنہ کا فارسی میں منظوم ترجمہ کیا تھا۔ یہ تصنیف اب ناپید ہے۔ کچھ اشعار فرہنگِ اسدی اور تحفت الملوک میں ملتے ہیں۔ ان کو غزل کا پہلا شاعر بھی سمجھا جاتا ہے۔ وہ نصر بن احمد شاہ بخارا کا درباری شاعر تھا۔

رودکی کے ہم عصر شعرا[ترمیم]

رودکی کے ہم عصر شعرا کے نام حسب ذیل ہیں :شہید بلخی ،فرالاوی،مرادی،ابوالعباس،ربخجنی،ابوالمثل،بخرارائی،ابواسحاق جوئباری ،ابوالحسن اغجی،طمخاری،خبازی نیشاپوری،ابوالحسن کسائی ،دقیقی،ابوذراعہ،گرگانی ،استغنائی نیشاپوری، ابوعبداللہ جنیدی ،عمارہ مروزی وغیرہ۔[8]

رودکی سے ہم عصر شعراء کی رقابت[ترمیم]

رودکی کو ایران کا سب سے بڑا شاعر مانا جاتاہے کیونکہ اس شاعر کے نہ صرف ایسے اشعار جو اس کی فضیلت اور اس کی بلند خیالی کو ثابت کرتے ہیں ،گذشتہ اور اس کے ہم عصر شارعوں سے زیادہ باقی ہیں بلکہ تمام تذکرہ نویسوں نے اس کا سی طرح ذکر کیا ہے ۔اس کے سوا بہت سے شاعروں نے اور خاص کر اس کے ہم عصر شعراجیسے شہید بلخی اور معروف بلخی وغیدہ نے اس کی بڑی تعریف کی ہے اور ان لوگوں نے جو اپنے آپ کو بڑا شاعر گردانتے تھے رودکی کے ساتھ رقابت کا اظہار کیا ہے ۔چنانچہ معمری گرگانی جو اپنے آپ کو بہت بڑا اور کامل شاعر سمجھتا تھا اور اس کے اشعار سے بھی اس کی قوت سخن آزادگی اور بے نیازی آشکار ہے رودکی کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے اور کہتا ہے ۔
اگر بدولت بارودکی نہ نمسانم عجب کہ من سخن از رودکی نہ کم دانم عنصری جو قصیدہ کا استاد تھا،غزل میں رودکی کی ہنر مندی اور استادی کی تصدیق کرتا ہے اور اس طرح اس کی تعریف کرتا ہے ۔ غزل رودکی وار نیکو بود غزل ہائے من رودکی وار نیست عالمی اور فاضلوں نے بھی رودکی کی تعریف کی ہے ۔اسماعیل بن احمد سامانی کے مشہور وزیر ابوالفضل بلعمی کا قول ہے کہ عرب اور عجم میں رودکی کا جواب نہیں ۔[9]

رودکی کا سبک اور شاعری[ترمیم]

رودکی کو قصیدہ ،رباعی،مثنوی،قطعہ،غزل،غرض تمام فنون سخن اور انواع شعر میں مہارت حاصل تھی اور وہ ہر طرز میں کامیاب رہاہے ۔خاص کر قصیدہ سرائی میں وہ سب کا پیش روہے ۔اس لحاظ سے کہنا چاہیے کہ رودکی بعد اسلام ایران کا بڑا شاعر ہے جس نے نہایت بلند پایہ اور محکم قصیدے لکھے ہیں ۔رودکی نہ صرف سخن پردازی اور الفاظ کے تناسب کا استاد تھا بلکہ اس نے نہایت دقیق معانی سے بھی کام لیا ہے اور عبرت آمیز قطعات اور حکیمانہ اشعار اپنی یاد گار چھوڑے ہیں ۔[10]رودکی کے قصیدوں میں ایک قصیدہ ہے جو اس نے اپنے بڑھاپے کے زمانے میں اپنی حالت پر لکھا ہے ۔اس قصیدے میں اس نے جوانی کے دنوں کے مزوں اور بڑھاپے کے دنوں کے ضعف کا نقشہ کھینچا ہے ۔اسی قصیدے کے سلسلہ میں اس نے اپنی شاعری ،اپنی شاعری کی شہرت اور اس کے اثر و نفوذ کا بھی ذکر کیا ہے ۔[11]

رودکی کے ممدوحین[ترمیم]

رودکی کا اولین ممدوح نصر بن احمد سامانی ہے ۔جس کے دربار کا وہ شاعر تھا۔رودکی کے اشعار میں نصر بن احمد کا نام نہیں آتاہے۔رودکی کا ایک اور ممدوح امیرابوجعفر حاکم سیستان تھا ۔رودکی کے ممدوحین میں ایک اور نام ابو طیب مصعبی کا بھی آتاہے جو نصر بن احمد کا ایک نامور وزیر تھا اور علم و سخاوت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔[12]

رودکی کے بارے میں کتابیں[ترمیم]

  • صدرالدین عینی اور سیمینوف۔ پروفیسر روداکی (فارسی اور لاطینی زبان میں) ، اسٹالن آباد 1940
  • روڈاکی (روسی زبان میں) ای ایس بریگنسکی کے تعارف کے ساتھ ، ژاوین ، اسٹالن آباد 1955 میں ترجمہ کیا۔
  • م. زند۔ کیران کے مصنف ماسٹر روداکی ہیں ، (فارسی اور سیرلک میں) - اسٹالن آباد 1957۔
  • عبد الغنی مرزائیف۔ رودکی اور شام کے 10-15 (تاجک فارسی میں) ، اسٹالن آباد 1957 کی شام کو شاعری کی شاعری کی نشوونما۔
  • عبد الغنی مرزائیف۔ روڈکی ، (تاجک فارسی میں) میں افسانوی داستانوں کا نمونہ۔ اسٹالن آباد 1958۔
  • پوپک نیک طلب۔ سرو سمرگھنڈ (سمرقند کا دیودار) ، رودکی کی نظموں کی مستقل ترجمانی ، تہران 2020 [13]

انتقال[ترمیم]

رودکی نے 304ھ بمطابق 940ء میں وفات پائی۔[14]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ادب نامہ ایران،مرزا مقبول بیگ بدخشانی،نگارشات لاہور،۲۰۰۰ء،ص۹۴
  2. ایضا
  3. ادب نامہ ایران،ص۹۵
  4. تاریخ ادبیات ایران،از داکٹر رضا زادی شفق،مترجم سید مبارزالدین رفعت،ندوۃ المصنفین دہلی،۱۹۶۹ءص۶۶
  5. استاد بدیع الزمان فروزانفر
  6. استاد سعید نفیسی
  7. فارسی ادب کی مختصر ترین تاریخ از ڈاکٹر محمد ریاض ،ڈاکٹر صدیق شبلی،لاہور،سنگ میل پبلی کیشنز،۲۰۱۱ء،ص۲۴
  8. ادب نامہ ایران،ص۹۷
  9. تاریخ ادبیات ایران،ص۶۲
  10. ایضا،ص۶۳
  11. تاریخ ادبیات ایران،ص۵۶
  12. ادب نامہ ایران،ص۹۶
  13. https://en.wikipedia.org/wiki/Rudaki#Books_about_Rudaki
  14. لطائف اشرفی جلد 3 صفحہ 572