روزہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ضد ابہام صفحات کے لیے معاونت زیر نظر مضمون فاقہ کشی اور روزہ کے عمومی استعمال/ادیان و مذاہب عالم میں روزہ سے متعلق ہے۔ دیگر استعمالات کے لیے روزہ دیکھیے۔

روزہ بنیادی طور پر کسی مذہبی حکم کی بنا پر کسی خاص کام کرنے، چیز استعمال کرنے، خاص کھانے یا تمام کھانے، پینے کی اشیاء سے مخصوص وقت تک خود کو اپنی مرضی سے روکے رکھنے کا نام ہے۔
اسلام میں دن بھر تمام کھانے، پینے کی اشیاء سے اور دیگر چند کاموں سے مخصوص وقت تک خود کو اپنی مرضی سے روکے رکھنے کا نام روزہ ہے۔
مسلمانوں پر، اسلامی مہینے رمضان میں پورا مہینہ روزے رکھنا فرض ہے۔[1] روزہ ہر دور میں دنیا کے مختلف خطوں میں مذہبی یا توہماتی نظریات کی وجہ سے رکھا جاتا رہا ہے۔ ہر قسم کے کھانے، پینے اور جماع کرنے سے رکنے کا روزہ اس وقت صرف اسلام میں ہے، باقی مذاہب میں مخصوص ایام میں ہی روزہ رکھا جاتا ہے، اور اس میں کچھ چیزوں کی پابندی ہوتی ہے کچھ کی اجازت۔مسیحیت میں روزہ ایک اختیاری چیز ہے۔[2]

تاریخ[ترمیم]

قدیم جنگلی قبائل میں بھی ایک مخصوص دورانئے کے لئے کھانے پینے سے اجتناب کی روایت ملتی ہے۔ قدیم مذاہب میں روزہ رکھنے کا یہ رواج عموماً مذہبی پروہتوں تک محدود ہوتا تھا اور اسے دیوتا تک رسائی کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ کچھ قدیم مذاہب میں یہ نظریہ بھی رائج تھا کہ دیوتا اپنا آفاقی پیغام خواب میں صرف اس وقت ظاہر ہو کر پروہت کو منتقل کرتا ہے جب کہ خواب دیکھنے والا روزے کی حالت میں ہو۔ کچھ قبائل میں روزہ رکھنے کی روایت زرخیزی کے دیوتا کو بہار کی آمد پر نیند سے بیدار کرنے کے لئے رائج تھی ۔قدیم یونان کے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ کھانا کھانے سے شیطانی قوتیں جسم میں داخل ہو جاتی ہیں، شائد اسی نظریے نے ان میں کھانے پینے سے اجتناب یعنی روزہ رکھنے کو رواج دیا۔اسلام کی آمد سے پہلے بھی عرب قبائل میں روزہ رکھنے کا رواج موجود تھا اورعرب بت پرست کم وبیش اسی نمونے پر روزہ رکھتے تھے جیسے کہ مسلمان۔ عراقی سابی بھی روزہ رکھتے تھے۔ پارسی مذہب غالباً ایسا واحد مذہب ہے جس میں روزہ رکھنے کی ممانعت ہے۔ پارسی مذہب کے پیروکاروں کے خیال میں یہ عمل انہیں کمزور کرتا ہے اور نتیجتاً وہ برائی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ روزہ صرف یہودیت، عیسائیت اور اسلام کا حکم نہیں، بلکہ زمانہ قدیم سے رائج ہے۔روحانیت کے حصول کے لئے روزے کو ایک ذریعہ مانا جاتا تھا۔ تاہم یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ زیادہ تر مذاہب اپنے پیروکاروں پر کسی قسم کی پابندی لاگو نہیں کرتے اور یہ ماننے والے کی اپنی صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا تھا کہ آیا وہ روزہ رکھنا چاہتا ہے یا نہیں۔ مزید برآں روزوں کے مہینے، اوقات اور تعداد کا تعین بھی کم ہی مذاہب میں کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کا روزہ عیسائیو ں یا ہندووں کے روزے سے اس طرح بھی مختلف ہے کہ اسلام کے برعکس ان مذاہب میں حالت روزہ میں کھانا پینا مکمل طور پر نہیں چھوڑا جاتا، بلکہ صرف مخصوص اشیا کا استعمال ہی ترک کیا جاتا ہے۔یوں مسلمانوں کا روزہ باقی مذاہب کی نسبت نہ صرف الگ ہے، بلکہ ہر بالغ مرد و عورت پر یکساں فرض ہے اور اس کے قضا ہونے کی صورت میں خدا کی طرف سے سخت عذاب کی وعید بھی سنائی گئی ہے۔

روزہ اسلام میں[ترمیم]

Crystal Clear app kdict.png تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: روزہ (اسلام)
روزہ اسلام کا چوتھا رکن ہے۔ روزہ ہر عاقل اور بالغ مسلمان پر اسلامی مہینے رمضان المبارک میں فرض ہے. روزے کا وقت صبح صادق کے طلوع ہونے سے لے کر غروبِ آفتاب تک ہے. صبحِ صادق کے طلوع ہونے سے پہلے کھانا کھانے کو سحری کہا جاتا ہے. روزے کی نیت یہ ہے : وَبِصَومِ غَدٍ نَّوَيْتُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ. ترجمہ : " میں نے کل کے ماہِ رمضان کے روزے کی نیت کی۔ " افطار، یعنی روزہ کھولنے کی دعا : اَللَّهُمَّ اِنِّی لَکَ صُمْتُ وَبِکَ اٰمَنْتُ وَعَلَيْکَ تَوَکَلَّتُ وَعَلَی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ. ترجمہ  : ’’اے ﷲ! بے شک میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ پر ہی بھروسہ کیا اور تیرے ہی عطا کیے ہوئے رزق سے میں نے افطار کیا ۔‘‘

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ قرآن، سورہ البقره:183
  2. ^ مسیحیت میں روزہ