روشن آرا بیگم (شاہزادی)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
روشن آرا بیگم (شاہزادی)
Raushanara.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 3 ستمبر 1617  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برہانپور  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 11 ستمبر 1671 (54 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد نسل
والد شہاب الدین شاہ جہاں اول  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ ممتاز محل  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
گوہر آراء بیگم،  جہاں آرا بیگم،  شاہ شجاع،  اورنگزیب عالمگیر،  دارا شکوہ،  مراد بخش  ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان تیموری سلطنت  ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیگر معلومات
پیشہ شاعرہ،  مصنفہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

روشن آرا بیگم مغل شہنشاہ شاہ جہان اور ملکہ ارجمند بانو (ممتاز محل) کی صاحبزادی تھی۔ شہزادی صحیح العقیدہ اور دیندار خاتون تھی۔

تعارف[ترمیم]

روشن آرا بیگم مغل شہنشاہ شہاب الدین محمد شاہ جہان کی صاحبزادی تھی۔ شہزادی کی پیدائش شہنشاہ کی چہیتی بیوی ملکہ ارجمند بانو (ممتاز محل) کے بطن سے ہوئی۔ شہزادی کی ولادت 2 رمضان 1026ھ بمطابق 1617ء میں ہوئی۔ [1] اس کے حقیقی بہن بھائیوں میں دار شکوہ، محمد شجاع، محمد مراد بخش، محمد اورنگزیب، جہاں آرا بیگم اور گوہر آرا بیگم شامل تھیں۔ [2]

تعلیم و تربیت[ترمیم]

شہاب الدین محمد شاہ جہاں نے اپنی صاحبزادی روشن آرا بیگم کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی۔ اس خاص توجہ کا یہ نتیجہ نکلا کہ روشن آرا بیگم جملہ علوم و فنون اور تدبیر و سیاست میں یکتائے روزگار ہوگئی۔ شہزادی کو فن کتابت میں خاص ملکہ حاصل تھا۔ ان کا لکھا خط اتنا پاکیزہ ہوتا تھا کہ اسے دیکھ کر آنکھیں روشن ہو جاتی تھیں۔

اورنگزیب سے محبت[ترمیم]

شہزادی روشن آرا کو سب بھائیوں میں اورنگزیب عالمگیر سے زیادہ محبت تھی۔ شہزادی دل وجان سے اورنگزیب کی خیرخواہ تھی۔ جب اس کے بھائیوں (داراشکوہ، مراد، شجاع اور اورنگزیب) کے درمیان تخت نشینی کا جھگڑا پیدا ہوا تو اس نے ہر موقع پر اورنگزیب کا ساتھ دیا۔ مغل بادشاہ شہاب الدین محمد شاہ جہاں کے دربار میں اورنگزیب کے خلاف جو سازشیں ہوتیں تھیں ان سے اورنگزیب کو آگاہ کر دیا کرتی تھی۔ معرکہ ساموگڑھ کے بعد اورنگزیب نے شاہ جہاں کو معزول کر کے قلعہ آگرہ میں نظر بند کر دیا۔ نظر بندی کے دوران شہاب الدین محمد شاہجہان نے اپنے بیٹے اورنگزیب کی ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ اس موقع پر قلعے کے اندر دارا شکوہ کے حامیوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ جب اورنگزیب قلعے کے اندر داخل ہو تو چند مسلح عورتیں اس پر حملہ کر کے گرفتار کرلیں یا قتل کردیں۔ شہزادی روشن آرا بیگم نے اس منصوبے سے اورنگزیب کو آگاہ کر دیا اور وہ اس جال میں پھنسنے سے بچ گیا۔ اکثر مورخین نے لکھا ہے کہ روشن آرا بیگم کی مخلصانہ خیر خواہی اور بیدار مغزی نے اورنگزیب کو بہت فائدہ پہنچایا اور وہ اپنے مخالفین کے عزائم کو ناکام بنا کر تخت و تاج حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ بلاشبہ اس کامیابی میں اورنگزیب کی اپنی تدبیر و سیاست اور عزم و ہمت شامل تھی لیکن اس میں شہزادی روشن آرا بیگم کی کافی محنت بھی شامل تھی۔ یہی سبب تھا کہ اورنگزیب عالمگیر اپنی بہن شہزادی روشن آرا بیگم کو بے حد عزیز رکھتا تھا۔

سیرت[ترمیم]

شہزادی روشن آرا بیگم بہت دیندار اور صحیح العقیدہ خاتون تھی۔ اس نے اپنی حقیقی بہن جہاں آرا بیگم کی طرح شادی نہیں کی تھی۔ شہزادی کو اپنے والد محترم شہاب الدین محمد شاہجہاں کی طرف سے ایک بڑی جاگیر ملی ہوئی تھی۔ جاگیر کے علاوہ شہزادی روشن آرا بیگم کو حکومت کی جانب سے معقول وظیفہ بھی ملتا تھا۔ شہزادی کی دولت کا پیشتر حصہ غریبوں، مسکینوں اور محتاجوں کی مدد میں صرف ہوتا تھا۔

شہزادی روشن آرا بیگم رفاہ عامہ کے سلسلے میں بھی حصہ لیتی رہتی تھی۔ انہوں نے اس سلسلے میں بہت سے کام کراوئے لیکن اب ان کا کوئی نام و نشان باقی نہیں رہا البتہ دلی میں ایک باغ موجود ہے جو روشن آرا بیگم کے حکم سے لگوایا گیا تھا۔ [3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ اسلام کی چار سو باکمال خواتین مولف طالب الہاشمی صفحہ 450
  2. تاریخ اسلام کی چار سو باکمال خواتین مولف طالب الہاشمی صفحہ 441
  3. تاریخ اسلام کی چار سو باکمال خواتین مولف طالب الہاشمی صفحہ 450 ، 451