رومیلا تھاپر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رومیلا تھاپر
Thapr2.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 30 نومبر 1931 (88 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لکھنؤ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت (15 اگست 1947–)
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (–14 اگست 1947)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
رکنیت امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی پنجاب یونیورسٹی
اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز، یونیورسٹی آف لندن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ تاریخ دان،  استاد جامعہ،  مصنفہ[2]،  پروفیسر[3][4][5]،  محقق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
نوکریاں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
کولگے انعام (2008)
ایڈن برگ رائل سوسائٹی فیلو شپ (2006)[7]
فوکوکا ایشیائی ثقافت انعام  (1997)
جواہر لعل نہرو فیلوشپ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر

رومیلا تھاپر (انگریزی: Romila Thapar; ہندی: रोमिला थापर) ایک بھارتی مؤرخ ہیں جن کا بنیادی موضوع قدیم ہندوستان ہے۔ وہ کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں۔ وہ فی الوقت جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی متقاعد پروفیسر ہیں۔ انہیں دو مرتبہ پدم بھوشن کی پیش کش ہوئی، لیکن انہوں نے دونوں مرتبہ انکار کر دیا۔

کام[ترمیم]

رومیلا نے 1953ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے ادب میں کیا، اس کے بعد لندن چلی گیئں، وہاں لندن یونیورسٹی کے اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن سٹڈیز، یونیورسٹی آف لندن میں ممتاز مؤرخ و ماہر ہندویات اے آر باشم کے ساتھ تاریخ پر کام کیا اور علم تاریخ میں ڈاکٹریٹ کی سند 1958ء میں حاصل کی۔[8] رومیلا 1961 اور 1962 مین جامعہ کروکشیتر میں ریڈر کے عہدے پر کام کرتی رئیں اس کے بعد اسی عہدے پر جامعہ دہلی میں 1963ء سے 1970ء تک کام کیا۔ اس کے بعد جواہر لال نہرو یونیورسٹی، دہلی میں قدیم ہندوستان کی تاریخ کی پروفیسر مقرر ہوئیں، آپ اس وقت بھی امریطس پروفیسر (اعزازی حیثیت) ہیں۔[9]

تاریخ نویسی پر نظر ثانی[ترمیم]

تھاپر قدیم ہندوستان کی تاریخ پر سامراجی تشریحات کی شدید ناقد ہیں، ان کا ماننا ہے کہ انگریز سامراج کے آنے سے پہلے کوئی نہیں کہتا تھا کہ وہ ہندو کمیونٹی سے ہے یا مسلمان کیمونٹی سے اس کا تعلق ہے، تب لوگ اپنی ذات، مذہب اور زبان سے تعارف کراتے تھے، برطانوی سامراج نے مذہب کی بنیاد پر تفریق کی اور اسے گہرا کیا اور سارے ہندوستان میں پھیلا دیا، اسے تاریخ کا حصہ بنا دیا۔ تھاپر سومنات پر محمود غزنوی کے حملے سے متعلق بہت سی باتوں کو اور اس پر انیسویں صدی میں شروع ہونے والے ہندو مسلم تنازع کو بھی انگریز کی چال اور فرقہ واریت پیدا کرنے کی سازش قرار دیتی ہیں۔[10]

تنازعات[ترمیم]

تھاپر کی 2003ء میں کتب خانہ کانگریس کی کولگے چیئر میں تقرری ہوئی تو ایک آن لائن استدعا جس پر دو ہزار لوگوں نے اپنے دستخط کیے تھے، اس وجہ سے روک دی گئی، اس استدعا (پٹیشن) کی بنیاد یہ تھی کہ رومیلا تھاپر مارکسی اور ہندو مخالف ہے اور یہ بائیں بازو والوں کے لیے امریکی پیسے کا ضیاع ہے۔[11]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6md19sz — بنام: Romila Thapar — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. http://timesofindia.indiatimes.com/topic/Romila-Thapar/quotes/
  3. http://www.manipalworldnews.com/2015/01/22/speak-religion-used-political-gains-prof-romila-thapar/
  4. http://www.cpiml.org/liberation/year_2003/july/romila_thapar.htm
  5. http://india.indymedia.org/en/2003/05/5009.shtml
  6. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12045505k — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  7. https://www.rse.org.uk/fellow/romila-thapar/
  8. "Romila Thapar"۔ Penguin India۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 دسمبر 2014۔
  9. "Romila Thapar, Professor Emerita" (پی‌ڈی‌ایف)۔ JNU۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 دسمبر 2014۔
  10. ڈاکٹر مبارک علی (اپریل 2005ء). "رومیلا تھاپر سے گفتگو". سہ ماہی تاریخ 7 (25): 133. 
  11. "Romila Thapar's appointment to Library of Congress opposed"- ریڈف ڈاٹ کوم article dated 25 اپریل 2003