روم (2015ء فلم)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
روم (2015ء فلم)
Room (2015 film).png
Theatrical release poster
ہدایت کار Lenny Abrahamson
پروڈیوسر
منظر نویس Emma Donoghue
ماخوذ از Room 
از Emma Donoghue
ستارے
موسیقی Stephen Rennicks
سنیماگرافی Danny Cohen
ایڈیٹر Nathan Nugent
پروڈکشن
کمپنی
تقسیم کار
تاریخ اشاعت
  • 4 ستمبر 2015ء (2015ء-09-04) (Telluride)
  • 16 اکتوبر 2015ء (2015ء-10-16) (United States)
دورانیہ
118 minutes
ملک
  • Canada
  • Ireland
  • United Kingdom
  • United States
زبان انگریزی
بجٹ $13 million
باکس آفس $36.3 million

روم (کمرہ) ایک برطانوی-امریکی-کینیڈی-آئرش ڈراما فلم ہے۔ یہ فلم ایما ڈوناہیو کے اسی نام کے ایک ناول پر مشتمل ہے۔ اس میں برائی لارسن، جیکب ٹریمبلے، جون ایلن اور سین برجرز کے اہم کردار ہیں۔ فلم کی کہانی ایک عورت کے سات سال تک کمرے میں قیدی بنا کے رکھنے اور اسی کمرے میں ایک بچے کو جنم دینے کے بعد ماں کی جانب سے بچے کو باہر کی دنیا کی جھلک دکھانے کے لیے یہاں سے نکلنے کے لیے کی گئی جدوجہد کو بیان کرتی ہے۔

کہانی[ترمیم]

اس میں ایک ماں اور اس کا بیٹا (جو پانچ سال کا ہوتا ہے ) ایک کمرے میں قید ہوتے ہیں - بیٹے نے باہر کی دنیا کبھی نہیں دیکھی ہوتی - اس کی ماں نے اسے بتایا ہوتا ہے کہ دنیا صرف یہی ہے یہی ایک بند کمرہ اور اس کا سازو سامان - اس سے باہر خلا ہے - اور یہ کہ جو کچھ آپ باہر دیکھتے ہو وہ ایک متھ یا اسطور ہے، صرف ہم دونوں ہی حقیقی ہیں - لڑکا اس پر ایمان لائے ہوئے ہوتا ہے جو اس کی ماں بتاتی ہے - مگر اس کا شک نہیں جاتا - لڑکا اس کمرے کی زندگی ، اس کے سازو سامان اور اس کمرے جتنی دنیا کی وسعت پر حیران رہتا ہے - ایک بار اس کی ماں اس کو بتانے کی کوشش کرتی ہے کہ اس کمرے سے باہر بھی ایک دنیا ہے ، بہت ہی وسیع جس کے مقابلے میں یہ کمرہ کچھ بھی نہیں - اس دنیا میں فلاں فلاں چیزیں ہیں اور سب حقیقی ہیں - باہر کی دنیا انتہائی خوبصورت اور کمال ہے - مگر لڑکا اپنی ماں کو احمق اور جھوٹا سمجھتا ہے اور شدید احتجاج کرتا ہے کہ وہ اول فول بکنا بند کر دے - اور پھر ایک وقت آتا ہے وہ کمرے کی قید سے آزاد ہو جاتے ہیں - یوں وہ باہر کی دنیا دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے - اسے سب عجیب عجیب لگتا ہے اور وہ ہر بندہ بشر سے ڈرتا ہوتا ہے - شروع شروع میں اسے اپنا وہ پرانا کمرہ یاد آتا ہے اور وہ اس میں جانا چاہتا ہوتا ہے - اسے ایک کمرے کے اندر اپنی ماں سے میسر ہر وقت کی قربت یاد آتی ہے - ایک موقع پر وہ خود سے کہتا ہے کہ جب میں اس چھوٹے سے کمرے میں تھا میرا تصور دنیا کتنا چھوٹا تھا اور اب کتنا بڑا ہو چکا ہے ، اب میں ہر چیز سمجھ سکتا ہوں - فلم کے اختتام میں لڑکا اپنی ماں سے ضد کرتا ہے کہ میں اس کمرہ کو دیکھنا چاہتا ہوں جہاں ہم قید رہے - ماں لے جاتی ہے - وہ کمرہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے - ماں سے کہتا ہے کہ یہ کمرہ اتنا چھوٹا تو نہ تھا - ماں کہتی ہے کہ شاید سامان پولیس بطور ثبوت کے اپنے ساتھ لے گئی ہے اس لیے تمہیں ایسا لگتا ہے - وہ کمرہ کی ایک چیز چیز کو غور سے دیکھنے کے بعد ماں کو کہتا ہے ؛ نہیں ، بلکہ اب دروازہ کھل گیا ہے -

حوالہ جات[ترمیم]