روپرٹ مردوخ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
روپرٹ مردوخ
Rupert Murdoch 2011 Shankbone 3.JPG 

معلومات شخصیت
پیدائش 11 مارچ 1931 (87 سال)[1][2][3][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ملبورن[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
رہائش ایڈیلیڈ
ملبورن
نیویارک شہر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکا (1985–)[6]
Flag of Australia.svg آسٹریلیا (–1985)[7][8]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی ووسٹر کالج، اوکسفرڈ
جامعہ اوکسفرڈ (–1953)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تعلیمی اسناد ماسٹر آف آرٹس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مدیر،  کارجو[9][10][11]،  سرمایہ کار،  ناشر،  کاروباری شخصیت[12][13][14]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[15]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

کیتھ روپرٹ مردوخ (Rupert Murdoch) جسے عربی میں روبرت مردوخ اور فارسی میں روپرت مرداک کہا جاتا ہے ایک آسٹریلوی نژاد امریکی ہے جو میلبورن شہر میں 11مارچ 1931ء کو پیدا ہوا۔ اس کا باپ ایک مشہور زمانہ اخبار نویس تھا۔ مردوخ (مرداک) کو اپنے باپ سے ورثہ میں روزنامہ سنڈے میل اور نیوز منتقل ہوئے اور انہی سالوں میں اس نے دیگر مختلف اخبارات وجرائد خریدلئے۔ 1970ء میں اس نے امریکی اخبارات و رسائل خریدنے کا سلسلہ شروع کیا اور 1985ء میں اس نے امریکی سٹوڈیو بیسویں صدی فوکس سٹوڈیو بھی خریدلیا۔ بعد ازاں اس نے اپنا ایک کیبل ٹی وی فوکس نیوز بھی شروع کر دیا۔ امریکی سیاسی مباحث پر مردوخ (مرداک) کا ایک خاص اثر ہے۔ 5 براعظموں میں اس کے ٹی وی کی نشریات جبکہ وہ 175 مختلف اخبار و جرائد کا مالک ہے جن میں نیویارک پوسٹ اور ٹائمز آف لندن شامل ہیں۔ امریکہ جیسے ملک میں وہ 35 ٹی وی چینلز کامالک ہے جو ممکنہ طور پر 40٪ سے زائد افراد تک اپنا پیغام پہنچاتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی: https://tools.wmflabs.org/wikidata-externalid-url/?p=345&url_prefix=https://www.imdb.com/&id=nm0613770 — اخذ شدہ بتاریخ: 17 اکتوبر 2015
  2. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Rupert-Murdoch — بنام: Rupert Murdoch — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w62r5b93 — بنام: Rupert Murdoch — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. The Peerage person ID: https://tools.wmflabs.org/wikidata-externalid-url/?p=4638&url_prefix=http://www.thepeerage.com/&id=p41539.htm#i415388 — بنام: Keith Rupert Murdoch — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. http://www.independent.co.uk/arts-entertainment/books/reviews/the-man-who-owns-the-news-by-michael-wolff-1051790.html
  6. http://espn.go.com/espn/page2/story/_/id/6883286/tmq-says-money-motivates-losing-cheap-paying-wins
  7. http://www.nytimes.com/2012/07/02/business/media/news-corp-split-puts-new-pressure-on-papers.html
  8. http://www.nytimes.com/2013/09/06/opinion/caught-between-the-us-and-china.html
  9. http://www.tandfonline.com/doi/pdf/10.1080/03064228808534500
  10. http://online.wsj.com/article/SB119160959697150347.html?mod=googlenews_wsj
  11. http://online.wsj.com/article/SB119160049127550261.html?mod=googlenews_wsj
  12. http://www.fanmail.biz/34815.html
  13. http://www.telegraph.co.uk/news/worldnews/us-election/9396235/US-election-Mitt-Romney-calls-Barack-Obama-a-liar.html
  14. http://news.bbc.co.uk/2/hi/entertainment/1496141.stm
  15. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12302370f — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ

روپرٹ مردوخ(مرداک)کے عالمی ذرائع ابلاغ و سیاست پر اثرات