روپلو کولھی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

روپلو کولھی (انگریزی: Rooplo Kolhi) برطانوی ہندوستان میں سندھ پاکستان میں ہیدا ہونے والے محب وطن تھے جس نے انگریزوں سے لڑتے آزادی کے لیے جان کا نذرانہ دیا۔

حالات زندگی[ترمیم]

روپلو کولھی باپ شانتو اور ماں کیسر بائی کے گھر میں 1818 میں کونبھاری گائوں، ضلع تھرپارکر سندھ میں پیدا ہوئے۔

بغاوت[ترمیم]

جب بر صغیر پر انگریزوں کا تسلط قائم ہوا تو انہوں نے اس وقت کی سندھ پر بھی قبضہ کیا مگر تھرپارکر کے سوڈھوں اور کولھیوں نے انگریز راج سے بغاوت کی۔ انگریز ریزیڈننٹ جنرل تروٹ نے بغاوت ختم کرنے کے لیے باغیوں کو کچلنے کا منصوبہ بنایا۔ روپلو کولھی بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ مقابلے کو تیار ہو گئے۔ روپلو کا ویراواہ کے رانے لادھو سنگھ اور اس کے بیٹے ادھے سنگھ نے ساتھ دیا۔ انگریز انہیں 1843 سے 1859 تک زیربار کر نہ سکے۔ روپلو کولھی نے ساتھیوں کے ساتھ 15 اپریل 1859 سے انگریزوں کے خلاف بغاوت کا جھنڈا بلند کیا۔ روپلو نے انگریز کئمپوں پر حملے کرنا شروع کیے اور نگر پارکر پر قبضہ کیا تو انگریز آگ بگولا ہو گئے۔ انگریز فوج نے نگر پارکر پر سخت حملہ کیا تو روپلو نے کارونجھر پہاڑیوں میں پناہ لے کر لڑائی کےلیے تیار ہو گیا۔ انگریزوں نے شدید حملا کیا۔ روپلو کے ساتھی مارے گئے اور روپلو بہادری سے لڑتے زندہ گرفتار ہوئے۔ جیل میں اس پر شدید تشدد کیا گیا۔[1][2] نگر پارکر شہر میں روپلو کولھی کا یادگار بنایا گیا ہے۔ [3] [4]

پھانسی[ترمیم]

انگریزوں نے سخت تشدد کے بعد مقدمہ چلائے بغیر روپلو کولھی کو 22 اگست 1859 کو درخت میں لٹکا کر پھانسی دی تھی۔

حوالہ جات[ترمیم]