روپیے کی تاریخ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دس روپے کے بھارتی نوٹوں کا بنڈل
ایک روپیے کا سکہ

ہندوستان دنیا کی ان قدیم تہذیبوں میں سے ایک ہے جہاں چھٹی صدی قبل مسیح میں سکوں کا رواج عام ہو چکا تھا۔ روپے لفظ کو روپا سے مشتق سمجھا جاتا ہے جس کا مطلب چاندی ہے اور سنسکرت زبان میں روپيكم کا مطلب ہے چاندی کا سکہ۔ روپیہ لفظ اصلاً سنہ 1540ء - 1545ء کے درمیان میں شیر شاہ سوری کی طرف سے جاری کیے گئے چاندی کے سکوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ اصل روپیہ چاندی کا سکہ ہوتا تھا جس کا وزن 11.34 گرام تھا۔ یہ سکے برطانوی راج میں بھی مستعمل رہے۔

بیسویں صدی میں خلیج فارس کے ممالک (خلیجی ممالک) اور عرب ملکوں میں بھارتی روپیہ کرنسی کے طور پر مقبول تھا۔ سونے کی اسمگلنگ اور بھارتی کرنسی کے بیرونی استعمال کو روکنے کے لیے مئی 1959ء میں ریزرو بینک آف انڈیا نے خلیجی روپیہ متعارف کرایا۔ ساٹھ کی دہائی میں کویت اور بحرین نے آزادی کے بعد اپنی کرنسی کا استعمال شروع کیا اور 1966ء میں بھارتی روپے کی گراوٹ سے بچنے کے لیے قطر نے بھی اپنی کرنسی شروع کر دی۔[1]

چاندی کا روپیہ[ترمیم]

تاریخی طور پر روپیہ کی قدر چاندی پر مبنی تھی۔ انیسویں صدی میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے جب یورپ اور امریکا میں بھاری پیمانے میں چاندی کی تلاش ہوئی۔ اس وقت کی مضبوط معیشتیں سونے پر مبنی تھیں۔ چاندی کے حصول سے چاندی اور سونے کی اضافی قدروں میں بھاری فرق سامنے آیا اور اچانک بھارت کی کرنسی کی قیمت عالمی بازار میں گر گئی۔ یہ سانحہ "روپیے کی گراوٹ" کے نام سے معروف ہے۔

آغاز میں ایک روپیہ 16 آنوں، 64 پیسوں یا 192 پائی میں تقسیم کیا گیا۔ یعنی 1 آنہ 4 پیسوں یا 12 پائی میں منقسم تھا۔ تاہم سنہ 1869ء میں سری لنکا میں، 1957ء میں بھارت میں اور 1961ء میں پاکستان میں اعشاری نظام کے مطابق تقسیم ہوا۔

کاغذی روپیوں کا اجرا[ترمیم]

روپیوں کو کاغذی نوٹوں میں سب سے پہلے بینک آف ہندوستان (1770-1832)، دی جنرل بینک آف بنگال و بہار (1773-75، وارن ہیسٹنگز کا قائم کردہ) اور دی بنگال بینک (1784-91) نے جاری کیا۔

آغاز میں بینک آف بنگال کی طرف سے جاری کیے گئے کاغذی نوٹوں پر صرف ایک طرف ہی چھپا ہوتا تھا۔ اس میں سونے کی ایک مہر بنی ہوتی تھی اور یہ 100، 250، 500 روپیوں کے ہوتے تھے۔ بعد کے نوٹوں میں نسوانی شکل کا ایک بیل بوٹا بننے لگا جو کاروبار کی انسانی سازی کی علامت تھا۔ یہ نوٹ دونوں جانب تین رسم الخط اردو، بنگالی اور دیوناگری میں چھپتے تھے اور پیچھے کی طرف بینک کی مہر ہوتی تھی۔ انیسویں صدی کے آخر تک نوٹ برطانوی ہو گئے اور جعلی نوٹ کی روک تھام کے لیے ان میں دیگر کئی علامتیں چھاپی جانے لگیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Qatar"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 فروری 2010ء۔

بیرونی روابط[ترمیم]