رویندر کوشیک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رویندر کوشیک
معلومات شخصیت
پیدائش 11 اپریل 1952(1952-04-11)
شری گنگانگر، راجستھان
وفات 2001
پاکستان
وجہ وفات سل،  امراض قلب  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قومیت بھارت
مذہب اسلام[1]  ویکی ڈیٹا پر (P140) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کراچی  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ بھارت کی سراغ رسانی ایجنسی ریسرچ اینڈ انالیسیس ونگ کے لیے جاسوسی
پیشہ ورانہ زبان پنجابی،  اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت را،  پاک فوج  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں پاکستانی فوج میں میجر کے طور پر ظاہری کارگردگی
عسکری خدمات
عہدہ میجر  ویکی ڈیٹا پر (P410) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

رویندر کوشیک بھارت کی سراغ رسانی ایجنسی ریسرچ اینڈ انالیسیس ونگ کے ایک جاسوس تھے۔ وہ پاکستانی فوج میں اہم دستاویزات حاصل کرنے کے لیے ایک مسلمان نام اور پاکستانی شناخت کے ساتھ بھرتی ہوئے تھے اور اسی مقصد کے لیے کام کرتے رہے، حالانکہ ان کے عہدے کی مسلسل ترقی ہوتی گئی تھی۔

پیدائش[ترمیم]

رویندر کوشیک شری گنگانگر، راجستھان میں 11 اپریل 1952ء کو پیدا ہوئے تھے۔[2]

ناٹکوں میں اداکاری[ترمیم]

رویندر کوشیک مختلف ناٹکوں میں اداکاری کیا کرتے تھے۔ 1975ء میں بھارتی فوج کے کچھ عہدیداروں نے لکھنؤ میں ان کے ایک ناٹک میں اداکاری کے دوران متاثر ہوئے اور اپنے مقصد کے لیے انہیں چنا۔[2]

تربیت اور پاکستان روانگی[ترمیم]

بھارتی فوج نے رویندر کو تربیت دی۔ اس دوران انہیں مبادیات اسلام اور اردو زبان سکھائی گئی۔ اس کے ساتھ پاکستان کا جغرافیہ اور مہم کی تفصیلات فراہم کیے گئے۔ ایک نیا نام نبی احمد شاکر تجویز کیا گیا۔[3]

تعلیم اور فوج کی ملازمت[ترمیم]

رویندر نے کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا۔ وہ پاکستانی فوج میں بھرتی ہوا اور جلد ہی میجر کے عہدے پر فائز ہوا۔[3]

بھارت کے لیے خدمت[ترمیم]

1978ء سے 1983ء تک کوشک نے پاکستانی فوج کی کافی حساس معلومات بھارت کی فراہم کی۔ ان ہی کوششوں کی وجہ سے وہ دی بلیک ٹائیگر کے نام سے موسوم تھے۔[3]

گرفتاری[ترمیم]

ستمبر 1983ء میں بھارتی فوج نے رویندر کوشیک سے ربط کے لیے عنایت مسیح کو بھیجا۔ عنایت نے تفتیش کے دوران پاکستانی فوج کو یہ راز فاش کیا کہ وہ کون ہے اور نبی احمد شاکر دراصل رویندر کوشیک ہے۔[3]

مقدمہ[ترمیم]

کوشیک کو گرفتاری کے بعد دو سال اذیتیں اٹھانے پڑے۔ سیالکوٹ کے ایک تفتیش مرکز میں انہیں رکھا گیا۔ 1985ء میں موت کی سزا سنائی گئی۔ مگر بعد میں یہ عمر قید میں بدل دی گئی۔[3]

انتقال[ترمیم]

2001ء میں ٹی بی اور دل کے مرض کی وجہ سے قید ہی میں رویندر کوشیک کا انتقال ہو گیا۔[3]

رہائی کی کوششیں اور سابق وزیر اعظم بھارت کا خراج عقیدت[ترمیم]

رویندر کوشیک کی ماں آملا دیوی بیٹے کی رہائی کی کافی کوششیں کر چکی تھی، تاہم اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ وہ 2006ء میں انتقال کر گئی تھی۔ انتقال سے پہلے بھارت کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے اسے ایک خط لکھ کر تاسف کا اظہار کیا کہ اگر کوشیک کا پردہ فاش نہ ہوتا تو وہ یقینًا ایک سرکردہ فوجی افسر بنتے اور اپنے وطن بھارت کی خدمت بھی جاری رکھتے۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]