روی شنکر پرساد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
روی شنکر پرساد
Ravi Shankar Prasad تفصیل=

وزارت برقیات و انفارمیشن ٹیکنالوجی، حکومت ہند
آغاز منصب
5 جولائی 2016
وزیر اعظم نریندر مودی
نائب ایس ایس اہلو والیہ
Fleche-defaut-droite-gris-32.png Ministry formed
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزارت قانون و انصاف، حکومت ہند
آغاز منصب
5 جولائی 2016
وزیر اعظم نریندر مودی
Fleche-defaut-droite-gris-32.png D. V. Sadananda Gowda
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
مدت منصب
26 مئی 2014 – 9 نومبر 2014
وزیر اعظم نریندر مودی
Fleche-defaut-droite-gris-32.png کپل سبل successor2 = D. V. Sadananda Gowda
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزارت مواصلات، حکومت ہند
آغاز منصب
30 مئی 2019
وزیر اعظم نریندر مودی
Fleche-defaut-droite-gris-32.png Manoj Sinha
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
Member of Parliament, Lok Sabha
آغاز منصب
23 مئی 2019
Fleche-defaut-droite-gris-32.png Shatrughan Sinha
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
ووٹ 6,07,506 (61.8%)
Member of Parliament, Rajya Sabha
مدت منصب
3 اپریل 2000 – 29 مئی 2019
معلومات شخصیت
پیدائش 30 اگست 1954 (65 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
پٹنہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ پٹنہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان،  ووکیل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

روی شنکر پرساد (انگریزی: Ravi Shankar Prasad) (ولادت: 30 اگست 1954ء) بھارت کے وکیل، سیاست دان اور موجودہ کابینہ بھارت کے رکن ہیں۔ وہ وزارت قانون و انصاف، حکومت ہند، مواصلات اور وزارت برقیات و انفارمیشن ٹیکنالوجی، حکومت ہند کے وزیر ہیں۔[1] وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر پٹنہ صاحب لوک سبھا حلقہ کے رکن پارلیمان ہیں۔[2]

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

ان کی ولادت پٹنہ کے ایک کائستھ خاندان میں ہوئی۔[3] ان کے والد ٹھاکر پرساد پٹنہ عدالت عالیہ میں سنیئر وکیل تھے اور جن سنگھ کے اہم بانیاں میں سے ہیں۔ ان کی بہن انورادھا راجیو شکلا کی اہلیہ ہیں اور بیگ فلمز اینڈ میڈیا کی مالک ہیں۔ انہوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے سیاسیات میں بی اے، ایم اے اور فاضل القانون کی ڈگری لی۔[4]

قانونی سفر[ترمیم]

1980ء سے وہ پٹنہ عدالت عالیہ میں وکیل رہے ہیں۔ 1999ء میں انہیں وہاں کا سینئر وکیل بنایا گیا اور 2000ء میں بھارتی عدالت عظمیٰ کا سینئر وکیل نامزد کیا گیا۔[5]

سیاسی سفر[ترمیم]

انہوں نے زمانہ میں طالبعلمی میں ہی سیاست میں سرگرمی شروع کر دی تھی اور 1970ء کی دہائی میں اندرا گاندھی کے خلاف خوب مظاہرے کیے تھے اور ایمرجنسی کے وقت انہیں جیل بھی جانا پڑا تھا۔ جے پرکاش نرائن کی قیادت میں انہوں نے کئی تحریکوں میں حصہ لیا اوروہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے فعال کارکن اور رضاکار تھے۔

وزارتیں اور عہدے[ترمیم]

نریندر مودی کی حکومت میں انہیں مواصلات کا وزیر بنایا گیا۔ جولائی 2016ء میں انہیں وزارت برقیات و انفارمیشن ٹیکنالوجی، حکومت ہند کی ذمہ داری دی گئی۔

کامیابیاں[ترمیم]

وزارت کوئلہ، حکومت ہند اور وزارت کان کنی، حکومت ہند کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد انہوں نے ترقی اور اصلاح کے کام کو بہت تیز کر دیا۔ جولائی 2002ء میں انہیں وزارت قانون بھی دے دی گئی۔[6] اپریل 2002ء میں انہوں نے ڈربن میں غیر وابستہ ممالک کی تحریککی نمائندگی کی۔ بعد ازاں وہ رام اللہ میں یاسر عرفات سے ملے اور ان سے اظہار تعزیت کیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Sexual preference can be a personal choice, says Law minister Ravi Shankar Prasad"۔
  2. "Patna Sahib Election Results 2019: Ravi Shankar Prasad wins against Congress' Shatrughan Sinha"، businesstoday, Retrieved on 28 مئی 2019.
  3. Hari Shankar Vyas (7 اپریل 2013)۔ "Brahmins in Congress on tenterhooks"۔ The Pioneer۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 جون 2014۔
  4. "Ravi Shankar Prasad: The new telecom minister may find his hands full"۔ www.firstpost.in۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 جون 2014۔
  5. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ TNIE نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  6. https://www.livemint.com/Politics/XUngWpSfQ1ZPkqApK1QvXO/India-is-changing-through-CSC-egovenance-centres-Narendra.html " India is changing through CSC e-govenance centres: Narendra Modi"], livemint , Retrieved on 3 June 2019.