رکن الدین گنگوہی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

شیخ رکن الدین گنگوہی
رکن الدین گنگوہی ایک بلند پایہ بزرگ تھے ۔آپ کے والد گرامی عبدالقدوس گنگوہی ہے جو اپنے زمانے کے قطب الاقطاب تھے۔آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی اور انہی کی زیر نگرانی سلوک کی منزلیں تہہ کیں۔ آپ بہت بلند پایا عالم تھے۔ جب عبدالاحد سرہندی اپنی تعلیم مکمل کرکے آئے تو رکن الدین گنگوہی نے ان کا امتحان لیا جس میں آپ نے حدیث، فقہ، تفسیر اور تصوف کے بارے میں بھی سوالات پوچھے جس سے آپ کی علمی قابلیت کا اندازا کیا جاسکتا ہے۔ آپ ایک بلند پایا ادیب بھی تھے۔ آپ نے ایک کتاب لطائف قدوسیہ لکھی جس میں عبدالقدوس گنگوہی کے معمولات اور واقعات درج ہیں۔[1] مولانا چندن جو شیخ رکن الدین کے استاداور عبد القدوس گنگوہی کے مریدتھے ایک مرتبہ تالاب پر کپڑے دھونے گئےایک حسین عورت پر دست درازی کا ارادہ کیا تو عبد القدوس گنگوہی تالاب میں کھڑے نظر آئےشرمندہ ہو کر ارادہ بدل دیا جب واپس آئے تو فرمایا گھبرانے کی بات نہیں مرشد محافظ وقت ہوتا ہے۔[2]

  1. http://www.hazratmuradali.com/_ur/chishtia/27%20hazrat%20shah%20rukunuddin%20.htm
  2. تذکرہ اولیائے پاک و ہند ، ڈاکٹر ظہور الحسن شارب ،صفحہ 226پروگریسو بکس لاہور