رگھورام راجن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رگھورام راجن
(انگریزی میں: Raghuram Rajan خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
تفصیل= رگھو رام راجن سنہ 2004ء میں

ریزرو بینک آف انڈیا کے 23ویں گورنر
مدت منصب
4 ستمبر 2013ء – 4 ستمبر 2016ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png دووری سوباراؤ
ارجت پٹیل Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: Raghuram Govind Rajan خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش 3 فروری 1963 (56 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بھوپال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
رکن امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تعلیمی اسناد پی ایچ ڈی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ماہر معاشیات،  پروفیسر،  بینکار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی،  ریزرو بینک آف انڈیا،  یونیورسٹی آف شکاگو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
فیلو آف امریکن اکیڈمی آف آرٹ اینڈ سائنسز  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Raghuram Rajan signature - en.jpg 

رگھو رام راجن (مکمل نام: رگھو رام گووند راجن، پیدائش: 3 فروری، 1963ء) ریزرو بینک آف انڈیا کے 23 ویں گورنر تھے اور 4 ستمبر، 2016ء کو گورنری کے منصب سے سبکدوش ہوئے۔ 4 ستمبر 2013ء کو ڈی سبا راؤ کی سبکدوشی کے بعد انہوں نے یہ عہدہ سنبھالا۔ اس سے قبل وہ سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کے اقتصادی مشیر خاص اور شکاگو یونیورسٹی کے بوتھ اسکول آف بزنس میں ایرک جے گليچر فائنانس کے معزز سروس پروفیسر تھے۔ 2003ء سے 2006ء تک وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ماہر اقتصادیات و تحقیقی ناظم رہے اور بھارت میں اقتصادی بہتری کے لیے منصوبہ بندی کمیشن کی جانب سے مقرر کی گئی کمیٹی کی قیادت بھی کی۔

راجن میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے شعبہ معاشیات اور سلون اسکول آف مینیجمنٹ؛ نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے کیلوگ اسکول آف مینیجمنٹ اور اسٹاک ہوم اسکول آف اکونامکس میں پروفیسر بھی رہے۔ انہوں نے بھارتی وزارت خزانہ، عالمی بینک، فیڈرل ریزرو بورڈ اور سویڈش پارلیمانی کمیشن کے مشیر کے طور پر بھی کام کیا ہے۔

سنہ 2011ء میں وہ امریکی فائنانس ایسوسی ایشن کے صدر تھے اور اب وہ امریکی اکیڈمی آف آرٹس اینڈ اسٹڈیز کے رکن ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

رگھو رام راجن کی پیدائش بھارت کے بھوپال شہر میں 3 فروری، 1963ء کو ہوئی۔ 1985ء میں انہوں نے بھارتی ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ، دہلی سے برقی انجینئری میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ 1987ء میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینیجمنٹ، احمد آباد سے انہوں نے ایم بی اے کیا۔ 1991ء میں میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے انہوں نے معاشیات پر پی ایچ ڈی کی۔

پیشہ ورانہ زندگی[ترمیم]

گریجویشن کے بعد راجن شکاگو یونیورسٹی کے گریجویٹ اسکول آف بزنس میں داخل ہوئے۔ ستمبر 2003ء سے جنوری 2007ء تک وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں اقتصادی مشیر اور تحقیقی ناظم رہے۔ جنوری 2003ء میں امریکی فائنانس ایسوسی ایشن کی طرف سے دیے جانے والے فشر بلیک ایوارڈ کے پہلے وصول کنندہ تھے۔ یہ اعزاز 40 سے کم عمر کے ماہر اقتصادیات کے مالیاتی اصول و مطالعہ میں شراکت کے لیے دیا جاتا ہے۔

2005ء میں ایلن گرین اسپین کی امریکی فیڈرل ریزرو سے سبکدوشی پر ان کے اعزاز میں منعقد ایک تقریب میں راجن نے شعبہ مالیات کی تنقید پر مشتمل ایک متنازع فیہ مقالہ پیش کیا۔ اس مقالہ میں انہوں نے بتایا کیا کہ اندھا دھند ترقی سے دنیا میں آفت آسکتی ہے۔ راجن نے دلیل دی کہ شعبہ مالیات کے ناظمین کی مندرجہ ذیل امور پر حوصلہ افزائی کی جاتی ہے:

انہیں ایسے خطرات مول لینے ہیں جو سنجیدہ اور منفی نتائج پیدا کر سکتے ہیں لیکن ان کا امکان کم ہوتا ہے۔ لیکن یہ خطرات نتیجے میں آئندہ کے لیے بے حساب معاوضہ مہیا کرتے ہیں، ان خطرات کو ٹیل رسک کہا جاتا ہے۔ لیکن انتہائی تشویش کی بات یہ ہے کہ کیا بینک مالیاتی منڈیوں کو وہ سیال فنڈ فراہم کر پائیں گے جن سے ٹیل رسک اگر لاگو ہو تو مالی حالات کی کشیدگی کم کی جا سکے؟ اور نقصان کی اس طرح تلافی ہو جائے کہ حقیقی معیشت پر اس کا اثر کم سے کم ہو۔

اور اس طرح راجن نے دنیا کی 2007ء - 2008ء کے لیے مالیاتی نظام کے زوال کے 3 برس پہلے ہی پیشن گوئی کر دی تھی۔

اس وقت راجن کے مذکورہ بالا مقالہ پر منفی رد عمل بھی سامنے آئے۔ مثلاً امریکا کے سابق وزیر خزانہ اور سابق ہارورڈ صدر لارنس سمرز نے اس انتباہ کو گمراہ کن بتایا۔

اپریل 2009ء میں راجن نے دی اكونومسٹ کے لیے مہمان کالم لکھا، جس میں انہوں نے تجویز پیش کی کہ ایک نگراں نظام ہونا چاہیے جو مالی گردش میں پیدا ہونے والے غیر متوقع منافع کو کم کر سکے۔

تصانیف و مضامین[ترمیم]

2004ء میں ان کی کتاب "سیونگ کیپی ٹلزم فرم کیپی ٹلسٹ" شائع ہوئی جس کے شریک مصنف ان کے ساتھی شکاگو بوتھ کے پروفیسر لوئی گی جنگیلس بھی تھے۔ ان کے مضامین جرنل آف فنانشل اكونمكس، جرنل آف فنانس اور اوکسفرڈ ریویو آف اکنامک پالیسی میں بھی شائع ہوئے۔ ان کی دوسری کتاب "فالٹ لائنز: ہاؤ ہڈن فریکچرز اسٹل تھریٹنز دی ورلڈ اکنامی؟" 2010ء میں شائع ہوئی تھی، جسے فائنانشیل ٹائمز اور گولڈمین سیک نے 2010ء کے اقتصادی کاروباری شعبہ کی بہترین کتاب کے اعزاز سے نوازا۔

ریزرو بینک کی گورنری[ترمیم]

رگھو رام راجن نے 4 ستمبر، 2013ء کو ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر کا عہدہ سنبھالا اور اپنی پہلی تقریر میں راجن نے بھارتی بینکوں کی نئی شاخیں کھولنے کے لیے اجازت ناموں کے نظام کے ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

اعزازات[ترمیم]

رگھو رام راجن کو ان کی خدمات کے صلہ میں مندرجہ ذیل اعزازت سے نوازا گیا:

  • 2011ء - میں ناسكوم کی جانب سے - گلوبل انڈین آف دی ایئر
  • 2012ء - میں انفوسس کی جانب سے -اقتصادی سائنس کا اعزاز
  • 2013ء - مالی معاشیات کے لیے سینٹر فار فنانشل اسٹڈیز، ڈچ بینک اعزاز
  • 2014ء - "بہترین مرکزی بینک گورنر" اعزاز (10 اکتوبر، 2014ء کو "یورومنی" مجلہ کی جانب سے سال 2014ء کے لیے)، یہ اعزاز رگھو رام راجن کو بھارتی معیشت کی اصلاح کی خاطر سخت مالیاتی اقدامات کرنے کے لیے دیا گیا۔ ان کی کتاب "فالٹ لائنز: ہاؤ ہڈن فریکچرز اسٹل تھریٹینز دی ورلڈ اکانومی" خاصی مشہور ہوئی۔
  • 2014ء میں انہیں ایک مرکزی مالیاتی مجلہ نے "سال کا بہترین گورنر" کے اعزاز سے نوازا۔
  • 2016ء میں انہیں "دی بینکر" کی جانب سے بہترین مرکزی بینکر اعزاز موصول ہوا۔

اقتباس[ترمیم]

  • 2008ء کے مالیاتی بحران کے بعد ہونے والی اصلاحات میں سینٹرل بینکوں کو مد نظر نہیں رکھا گیا جو ایسے بحرانوں کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔
the post-crisis reforms did not address central banks’ role in creating asset bubbles through accommodative monetary policy, which he sees as the financial markets’ biggest long-term challenge.[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. او سی ایل سی کنٹرول نمبر: https://www.worldcat.org/oclc/24790729
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb13626617v — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. "I am an Indian citizen: Raghuram Rajan"۔ اکتوبر 30, 2013۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ Quote: "I am an Indian citizen. I have always been an Indian citizen. I always held an Indian passport. I held an Indian diplomatic passport when my father was in the foreign service and whenjfydydufjryd I travelled on behalf of the Ministry of Finance.I have never applied for the citizenship of another country. I have never been a citizen of another country and have never taken a pledge of allegiance to another country."
  4. رگھورام راجن

بیرونی روابط[ترمیم]