رگھوناتھ راؤ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رگھوناتھ راؤ
(مراٹھی میں: रघुनाथराव पेशवे خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
تفصیل=

Flag of the Maratha Empire.svg مرہٹہ سلطنت کے پیشوا
مدت منصب
5 دسمبر 1773 – 1774
بادشاہ راجا رام دوم، ستارا
Fleche-defaut-droite-gris-32.png ناراین راؤ
مادھو راؤ ناراین Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 18 اگست 1734  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ستارا (شہر)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 11 دسمبر 1783 (49 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ آنندی بائی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد باجی راؤ دوم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد باجیراؤ اول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
عملی زندگی

رگھوناتھ راؤ (جنہیں رگھو بَلّال اور رگھو بھراری بھی کہا جاتا ہے[1]) (18 اگست 1734ء – 11 دسمبر 1783ء) مرہٹہ سلطنت کے مختصر مدت کے لیے پیشوا رہے۔ ان کا عہد پیشوائی سنہ 1773ء سے 74ء تک فقط ایک برس پر محیط ہے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

رگھوناتھ راؤ نانا صاحب پیشوا کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان کے والد کا نام پیشوا باجی راؤ اول اور والدہ کا کاشی بائی تھا۔ 8 دسمبر 1734ء کو ستارا کے قریب ماہولی میں پیدا ہوئے اور بچپن کا بیشتر حصہ ستارا ہی میں گزارا۔

رگھوناتھ کو ابتدائی ایام میں شمالی ہندوستان میں خوب فتوحات حاصل ہوئیں۔ ان کی سرکردگی میں سنہ 1753ء سے 1755ء تک جاری مہم کا نتیجہ جاٹوں سے ایک مفید معاہدہ کی صورت میں نکلا۔ ہندوؤں کے یہاں رگھوناتھ کو اس لیے یاد رکھا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی اس مذکورہ مہم کے دوران میں ہندوﺅں کے مقدس مقامات مثلاً متھرا، ورنداون، گیا، کرکشیتر وغیرہ کو مسلمانوں کے قبضے سے نکالا۔ نیز رگھوناتھ نے مغل شہنشاہ احمد شاہ بہادر کو قید کرکے عالمگیر ثانی کو ان کی جگہ شہنشاہ بنا دیا تھا۔

احمد شاہ درانی سنہ 1760ء میں پنجاب پہنچا اور دلی کے قریب واقع براری گھاٹ کی جنگ میں دتّاجی شندے کو شکست دی، خود دتاجی بھی اس جنگ میں کام آگئے۔ اس شکست کا جواب دینے کے لیے رگھوناتھ کو شمال کا رخ کرنا تھا، جس کے لیے انہیں بڑی فوج درکار تھی لیکن اس وقت کے پیشوا کے دیوان سداشیو راؤ نے انکار کر دیا اور وہ جا نہ سکے۔ سداشیو راؤ مرہٹہ فوج کے سپہ سالار تھے اور انہی کی قیادت میں مرہٹوں نے پانی پت کی تیسری جنگ لڑی تھی۔

پانی پت کی اس شکست کے بعد رگھوناتھ کے بھائی نانا صاحب پیشوا سنہ 1761ء میں چل بسے اور نانا صاحب کے دوسرے فرزند مادھو راؤ اول پیشوا مقرر ہوئے۔

وفات[ترمیم]

رگھوناتھ راؤ نے 11 دسمبر 1783ء نامعلوم اسباب کی بنا پر وفات پائی۔ ان کے دو بیٹے تھے باجی راؤ دوم اور چیماجی راؤ دوم۔ نیز انہوں نے امرت راؤ کو بھی گود لیا تھا۔ وفات کے بعد رگھوناتھ کی بیوی آنندی بائی اور ان کے تینوں بیٹوں کو نانا فڈنویس نے نظر بند کر دیا۔ پیشوا مادھو راؤ دوم کی وفات کے بعد نانا فڈنویس اور دولت راؤ شندے نے چیماجی راؤ اور باجی راؤ دوم کو کٹھ پتلی پیشوا بنایا اور خود حکومت کرتے رہے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://books.google.co.in/books?id=4HlCAAAAYAAJ&q=ragho+bharari&dq=ragho+bharari&hl=en&sa=X&ved=0CCcQ6AEwAmoVChMI04TSnZr4xgIVAsCOCh2MwAbd
  2. The Asiatic Journal and Monthly Register for British and Foreign India, China, and Australia, Volume 10۔ Parbury, Allen, and Company۔ صفحہ 22۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
ماقبل 
ناراین راؤ
پیشوا
1773–1774
مابعد 
مادھو راؤ ناراین