ریاستہائے متحدہ امریکہ میں انسانی حقوق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ریاستہائے متحدہ امریکا میں انسانی حقوق کو آئین کا تحفظ حاصل ہے۔ ریاست کا قیام اصل باشندوں سے زمین چھین کر آیا۔ شروع میں افریقی باشندے غلام بنا کر لائے گئے جن کی مدد سے ترقی کی۔ بعد میں غلامی کو ترک کر دیا گیا۔

اکیسوں صدی میں امریکی حکومت تشدد میں ملوث رہی۔[1]

دہشت پر جنگ کے بعد نیویارک پاسبان نے علاقہ کی کئی مسجدوں کو دہشت گرد اڈے قرار دے دیا جس سے وہ مسجد میں آنے والے کسی بھی شخص کو (امریکی) آئینی تحفظ کو قانوناً بلائے طاق رکھ کر تفتیش کرتی۔ مسجد کے اندر خطبہ اور بات چیت کو سجل کرتی۔[2]

مختلف حیلے بہانوں سے نسل کی بنیاد پر آئینی حقوق کی پروا نہ کرنا عام ہے۔[3]

  1. "U.S. Engaged in Torture After 9/11, Review Concludes"۔ نیویارک ٹائمز۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. "NYPD Designates Mosques as Terrorism Organizations"۔ ٹائم۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. "Enemy within: FBI to keep closer eye on Syrians in US ahead of strike"۔ رشیا ٹوڈے۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔