ریاست جموں و کشمیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ریاست جموں و کشمیر
نوابی ریاست
1846–1949
 

 

Coat of arms of کشمیر

Coat of arms

Location of کشمیر
کشمیر کا نقشہ
تاریخی دور نیا سامراج
 - قیام 1846
 - سقوط 1949
آج کا حصہ Flag of India.svg بھارت
Flag of Pakistan.svg پاکستان
Flag of the People's Republic of China.svg چین


ریاست جموں و کشمیر (ڈوگرا راج) 1846ء سے 1947ء تک متحدہ ہندوستان میں ایک نوابی ریاست جو 1846ء میں پہلی انگریز سکھ جنگ کے بعد تشکیل دی گئی جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے کشمیر پر قبضہ کر لیا اور فوری طور پر امرتسر معاہدے کے تحت جموں کے ڈوگرا حکمران کو فروخت کر دیا۔

1947 میں ہندوستان کی تقسیم کے وقت تمام ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان یا بھارت میں کسی ایک سے الحاق کرلیں یا اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھیں، کشمیر مسلم اکثریتی ریاست تھی ، اسلئے ریاست کی عوام نے ہندو مہاراجہ کا بھارت سے الحاق کا فیصلہ تسلیم نہیں کیا اور عوام اس فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، بھارت نے ہندو مہاراجہ کے الحاق کو جواز بنا کر ریاست میں اپنی فوجیں داخل کردیں، دوسری طرف مجاہدین نے کشمیر کے بہت سے علاقوں پر مہاراجہ کا قبضہ ختم کرکے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے علاقے پاکستان کے زیر انتظام دے دیئے۔ اس دوران بھارت کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں لے گیا، جہاں ایک کمیشن کے ذریعے کشمیر میں استصواب رائے کا فیصلہ کیا گیا جس کو اس وقت کے بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے تسلیم کیا اور رائے شماری کے فیصلے کی تائید کی جس کے مطابق کشمیر کے عوام رائے شماری کے ذریعے پاکستان یا بھارت سے الحاق کا فیصلہ کرینگے۔ پاکستان نے بھی یہ فیصلہ تسلیم کیا ۔ لیکن بعد میں بھارت اپنے اس وعدے سے منحرف ہوگیا ، اور تاحال ریاست کشمیر کے الحاق کا فیصلہ نہیں ہوسکا۔ بھارت کے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کو کشمیری عوام نے کبھی تسلیم نہیں کیا اور اب تک لاکھوں کشمیری شہید ہوچکے ہیں اور مسلسل قابض بھارتی افواج کی بربریت کا شکار ہیں۔

شمار نام دور
1. گلاب سنگھ 1846–1857
2. رنبیر سنگھ 1857–1885
3. پرتاب سنگھ 1885–1925
4. ہری سنگھ 1925–1949