ریاض الدین عطش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ریاض الدین عطش
معلومات شخصیت
پیدائش 4 مارچ 1925  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پٹنہ،  برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 8 جنوری 2001 (76 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شکاگو،  ریاستہائے متحدہ امریکا  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن روزہل قبرستان  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر،  محقق،  ادبی مؤرخ،  ادبی نقاد  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت واپڈا  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

خواجہ ریاض الدین عطش اردو زبان کے شاعر، فلمی گیت نگار، محقق اور نقاد تھے۔ وہ 4 مارچ 1925ء کو پٹنہ کے قریب واقع تاریخی شہر عظیم آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنا بچپن عظیم آباد میں گزارا، پھر پٹنہ سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دوسری جنگ عظیم کے دوران برٹش ایئر فورس میں شمولیت اختیار کی اور پانچ برس اس سے وابستہ رہے۔ اس کے بعد عطش ڈھاکہ چلے گئے۔

عطش کا تعلق ایک ادبی گھرانے سے تھا۔ انہوں نے کم عمری میں ہی شعر کہنا شروع کر دیا تھا۔ ڈھاکہ میں انہوں نے فلموں کے لیے گیت بھی لکھے۔ وہ 1971 تک مشرقی پاکستان میں ہی مقیم رہے، لیکن بنگلہ دیش بننے کے بعد انہوں نے ایک بار پھر ہجرت کی اور پاکستان آ گئے۔ انہوں نے کچھ عرصہ لاہور میں واپڈا میں ملازمت کی اور بعد ازاں سعودی عرب چلے گئے۔ 1983 میں وہ واپس پاکستان آ گئے۔

اردو شاعری میں عطش کا اپنا ایک منفرد انداز تھا جسے ادبی حلقوں اور عوام دونوں میں بیحد پسند کیا گیا۔ ان کی شاعری کی تین کتابیں ہیں۔ 'سوغاتِ جنون' ان کی غزلیات کا مجموعہ ہے، 'جشنِ جنون' ان کی نظموں کا جبکہ 'وردِ نفس' عطش کی حمد و نعت کا مجموعہ ہے۔ ان کی دوسری کتابوں میں 'داغ کا آخری چراغ' ڈاکٹر مبارک عظیم آبادی کی سوانح حیات ہے۔ اس کے علاوہ 'اردو کا شجرۂ نسب'، 'اردو ہزار داستان' اور 'اردو دشمن تحریک کے سو سال' بھی ان کی کتب ہیں۔ عطش نے ڈھاکہ، کراچی اور شکاگو میں بزمِ سخن کی بنیاد بھی رکھی۔ عطش نے اپنی زندگی کے آخری دس برس شکاگو میں بسر کیے جہاں وہ ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوئے۔ شکاگو میں عطش بہت باقاعدگی کے ساتھ ادبی کانفرنسوں اور مشاعروں میں شامل ہوتے رہے۔ اس کے علاوہ وہاں اردو اخبارات اور رسائل میں لکھتے بھی رہے۔ عطش نے اپنی ادبی خدمات پر 'غالب ایوارڈ' سمیت کئی ایوارڈ حاصل کیے۔

ریاض الدین عطش 8 جنوری 2001ء کو شکاگو میں انتقال کر گئے اور وہیں آسودہ ٔ خاک ہوئے۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]