ریاض خیرآبادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ریاض خیرآبادی مکمل نام: سید ریاض احمد (1853ء1934ء) متحدہ صوبہ جات (اب اتر پردیش) میں گورکھپور میں رہنے والے ایک شاعر تھے۔ ریاض خیرآبادی مہدی افادی کے ایک سینئر معاصر تھے۔ خیر آباد سیتاپور اودھ میں پیدا ہوئے۔

شاعری[ترمیم]

فارغ التحصل نہ ہونے پائے تھے کہ شاعری کا شوق ہوا اور اسیر لکھنوی کے شاگرد ہو گئے ۔اسیر کے انتقال کے بعد امیر مینائی کو کلام دکھانے لگے۔ 1872ء میں مطبع درخشاں نامی ایک مطبع خیر آباد میں قائم کیا اور ریاض الاخبار جاری کیا۔ چند روز بعد اخبار کا دفتر لکھنؤ لے گئے اور روزنامہ تار برقی نکالا۔ 1879ء میں گلکدہ ریاض جاری کیا۔ لکھنؤ کے دوران میں قیام میں نواب کلب علی خان والئی رام پور نے انھیں اپنے یہاں طلب کیا۔ لیکن تھوڑے ہی عرصہ وہاں رہ کر واپس آ گئے۔ پندرہ برس تک سپرنٹنڈنٹ پولیس گورکھ پور کے پیشکار رہے۔ 1883ء میں فتنہ اور عطر فتنہ کے نام سے دو رسالے جاری کیے۔ مہدی افادی نے 1931ء میں الہ آباد سے اپنے خط میں لکھا تھا کہ مجھے ریاض الاخبار کے بند ہونے پر افسوس ہے جس کی ادارت ریاض خیرآبادی کرتے تھے۔ افادی نے اقرار کیا تھا کہ ریاض خیرآبادی کے اس وقت بھی مداح تھے جب وہ ادب کے معنی بھی نہیں جانتے تھے۔ ان کے مطابق اردو ادیبوں کی ایک پوری نسل ریاض خیرآبادی کے ادبی کارناموں کی مرہون منت رہی ہے۔ ان کو شاعر خمریات بھی کہتے ہیں،

کلام کا منفرد پہلو[ترمیم]

اگرچہ ریاض خیرآبادی حقیقی زندگی میں مے کشی کے مخالف تھے، [1] لیکن دختِ رز، میکدہ، میخانہ، ساقی، سبو خم و ساغر، میکش، رندی یہ سارے تلازمے ریاض کی شاعری میں اس طرح سما گئے ہیں کہ ان کا کلام مستی و سرشاری کی ایک بولتی، جھومتی اور گنگناتی زندہ تصویر بن کر سامنے آتا ہے اور سننے و پڑھنے والوں کے ذہنوں پر کیف آگیں نشہ بن کر چھا جاتا ہے۔[2]

وفات[ترمیم]

آخر عمر میں خانہ نشین ہو گئے۔ راجا صاحب محمود آباد نے 1907ء میں وظیفہ مقرر کر دیاتھا۔ خیر آباد میں بعمر 82 سال وفات پائی اور اپنے آبائی قبرستان میں دفن ہوئے۔ لسان الملک کے خطاب سے یاد کیے جاتے ہیں۔ اشعار میں خمریات کے مضامین کثرت اور نہایت خوبی سے باندھے ہیں۔ جام و مینا کی ایسی تصویر کھینچتے ہیں کہ شراب پینے والوں کی نگاہیں وہاں تک نہ پہنچی ہوں گی۔ مگر لطف یہ ہے کہ زندگی بھر شراب کو کبھی ہاتھ نہیں لگایا۔ انھیں خیام ہند بھی کہا جاتا ہے۔ دیوان ’’ریاض رضواں‘‘ کے نام سے طبع ہوا۔ چند انگریزی ناولوں کے ترجمے بھی کیے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]