ریحانہ فاطمہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ریحانہ فاطمہ بھارت کی ریاست کیرالا سے وابستہ فعالیت پسند خاتون ہے جو جنوبی ہند میں واقع مشہور ہندو مندر سبری ملا میں سبھی خواتین کی بلا لحاظ عمر داخلے کے لیے اپنی مہم کے لیے جانا جاتا ہے۔ وہ اس سے جڑی کئی سرگرمیوں میں بھی شامل رہی ہیں۔ ان کی فعالیت کی وجہ سے ان کے گھر میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی ہے۔ خود انہیں سبری ملا میں داخلے سے روکا گیا ہے۔ ریحانہ اس کے علاوہ بھی کئی اور وجوہ کی وجہ سے آئے دن بھارت کے اخبارات کی سرخیوں کا حصہ بنی رہی ہیں۔

مختصر تعارف[ترمیم]

ریحانہ کا تعلق کیرلا کے کوچی علاقے سے ہے۔ وہ ایک قدامت پسند مسلمان خاندان سے تلعق رکھتی ہیں۔ تاہم ان کے باپ کے انتقال کے بعد ان مذہب میں عقیدہ ڈگمگا گیا۔ وہ فلم ساز منوج کے سریدھر سے کھلا رشتہ رکھتی ہیں اور دو بچوں کی ماں ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے وہ بی ایس این ایل کے تکنیکی شعبے میں کام کرتی ہیں۔

مارو تُھراکل سمارم[ترمیم]

یہ ایک ملیالی تحریک تھی جس سے ریحانہ وابستہ ہوئی۔ اس کا سادہ ترجمہ برہنہ پستانوں کا احتجاج ہے۔ یہ احتجاج کا موجب ایک پروفیسر کا تبصرہ ہے جس نے نسوانی پستانوں کی تربوز سے تشبیہ دی۔ ریحانہ نے فیس بک پر اپنی ایک تصویر اپلوڈ کی جس میں وہ اپنے پستانوں کو تربوز کے چھلکوں سے ڈھانکتی ہے۔ کچھ حلقوں سے شکایت کے بعد فیس بک نے ان تصاویر کو ہٹا دیا۔[1]


محبت کے بوسے کی مہم[ترمیم]

اخلاقی پولیس گیری کے خلاف 2014ء میں محبت کے بوسے کی مہم شروع ہوئی۔ اس سلسلے میں ریحانہ اپنے ساتھی فلم ساز منوج کے سریدھر سے بوسے لیتے ہوئی تصاویر کھنچوائی جنہیں منوج نے اپنے کھاتے سے اپلوڈ کیا۔[1]

بین جنس پر فلم[ترمیم]

ریحانہ ایک فلم کا بھی حصہ رہی ہے جس کا عنوان ایکا تھا۔ یہ فلم بین جنسیت کے موضوع پر بنی ہے۔ اس فلم کے پوسٹروں پر ایک اشتہاری نعرہ تھا: ‘میں بین جنس ہوں۔ میرے پاس پیدائش سے ذکر بھی ہے اور نسوانی فرج بھی۔ مجھے جینے دو’۔[1]

یہ فلم دو دوستوں کی تمل ناڈو سے کیرلا تک کے سفر کو دکھاتی ہے — بین جنس شخص ایکا سندری (جس کا کردار ریحانہ نے تبھایا) اور اس کی مذہب پسند ملیالی سہیلی لیلٰی۔ اس فلم کی ہدایت منوج کے سریدھر نے دی۔ فلم کا دورانیہ 120 منٹ تھا۔ اس کی شوٹنگ عمومًا کاسٹ کے ارکان کی برہنہ حالت میں کی گئی۔[1]

سبری ملا مندر مہم[ترمیم]

ریحانہ سبری ملا مندر مہم سے جذباتی طور پر وابستہ ہیں۔ وہ اس مندر میں ہر عمر کی خواتین کے بلا روک ٹوک داخلے کی حامی رہی ہیں۔ اس موقف کو وہ خواتین کی برابری سے جوڑ کر دیکھتی ہیں۔ تاہم 2018ء سبھی عورتوں کے داخلے کے عدالتی احکام کے باوجود ریحانہ کو مندر میں داخلے سے روک دیا گیا۔ دوسری جانب اشرار نے ان کے گھر میں توڑ پھوڑ بھی کی۔[1]

تبادلہ اور برخاستگی کا مطالبہ[ترمیم]

غالبًا مندر کے سلسلے میں ان کی مہم کی وجہ سے ریحانہ کو پلاری واتوم ٹیلی فون ایکسچینج میں تبادلہ کر دیا گیا جہاں اس کے عوام سے راست رابطے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ دوسری جانب ایک تنظیم سبری ملا کرما سمیتی نے پلاری واتوم ٹیلی فون ایکسچینج پہنچ کر ریحانہ کی برخاستگی کا مطالبہ کیا۔ [2]

خارج الاسلام ہونے کا فتوٰی[ترمیم]

کیرلا مسلم جماعت کونسل نے فاطمہ کو یہ کہتے ہوئے مسلمانوں کی برادری سے خارج کر دیا کہ انہوں نے ”لاکھوں ہندو عقیدت مندوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے“۔ [2]

حوالہ جات[ترمیم]