ریمون برانجیہ سوم
| |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
| معلومات شخصیت | |||||||
| پیدائش | 11 نومبر 1082ء غودیس | ||||||
| وفات | 19 جولائی 1131ء (49 سال) برشلونہ | ||||||
| شہریت | برشلونہ کاؤنٹی | ||||||
| اولاد | برنگیلا بارسلونی | ||||||
| والد | ریمون برانجیہ دوم | ||||||
| مناصب | |||||||
| کاونٹ بارسلونا | |||||||
| برسر عہدہ 5 دسمبر 1082 – 20 جون 1097 | |||||||
| |||||||
| کاونٹ بارسلونا | |||||||
| برسر عہدہ 20 جون 1097 – 19 جولائی 1131 | |||||||
| |||||||
| دیگر معلومات | |||||||
| پیشہ | حاکم | ||||||
| پیشہ ورانہ زبان | قیطلونی | ||||||
| درستی - ترمیم | |||||||
ریمون برانجیہ سوم (1082ء – 1131ء) بارسلونا ، جرندہ اور اوسونا کے کاؤنٹ تھے۔ وہ 1086ء سے ان علاقوں کے حکمران رہے، 1111ء میں بیسالو، 1117ء میں سردانیہ اور 1112ء سے مقدس رومی سلطنت کے تحت پرووانس کے حکمران بھی بن گئے۔ ان کا انتقال 1131ء میں بارسلونا میں ہوا۔ انھوں نے 1086ء سے 1097ء تک اپنے چچا برانجیہ ریمون دوم کے ساتھ مشترکہ حکومت کی، جبکہ 1097ء سے وفات تک تنہا حکمران رہے۔
ریمون برانجیہ سوم 1082ء میں فرانس کے شہر روڈیز میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ریمون برانجیہ دوم بارسلونا کے کاؤنٹ تھے، جو اپنے بھائی برانجیہ ریمون دوم کے ساتھ مشترکہ طور پر حکومت کرتے تھے۔ 1082ء میں والد کی وفات کے بعد ان کے چچا پر قتل کی سازش کا الزام لگا، جس سے خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ بالآخر 1086ء میں ایک معاہدہ طے پایا، جس کے مطابق برانجیہ ریمون دوم گیارہ برس تک اپنے بھتیجے ریمون برانجیہ سوم کے ساتھ حکومت کریں گے، یہاں تک کہ وہ تنہا حکومت کرنے کے قابل ہو جائیں۔ چنانچہ 1097ء میں ریمون برانجیہ سوم نے مکمل اقتدار سنبھال لیا، جبکہ ان کے چچا کو جلاوطن کر دیا گیا۔
ان کے دورِ حکومت میں کاتالونیا (بارسلونا کی کاؤنٹی) کی حدود پیرینیز پہاڑوں کے دونوں جانب تک پھیل گئیں۔ انھوں نے وراثت اور شادیوں کے ذریعے اپنی طاقت میں نمایاں اضافہ کیا اور اورگل اور پیریلاڈا کے سوا بیشتر کاتالان علاقوں کو اپنے زیرِ اثر لے آئے۔ انھوں نے 1111ء میں بیسالو اور 1117ء میں سردانیہ کی کاؤنٹیاں وراثت میں حاصل کیں، جبکہ 1112ء میں دوس اول، وارثۂ پرووانس، سے شادی کے بعد پرووانس پر بھی ان کی حکومت قائم ہو گئی۔ اس طرح ان کی عمل داری مشرق کی جانب بڑھتے ہوئے نیس تک جا پہنچی۔ [1]
ریمون برانجیہ سوم نے کاؤنٹِ اورگل کے ساتھ اتحاد کر کے بربشتر اور بالاغوار پر حملے کیے۔ انھوں نے پیزا اور جنوا جیسی اطالوی بحری جمہوریات کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات قائم کیے۔ 1114ء اور 1115ء میں انھوں نے جمہوریۂ پیزا کے ساتھ مل کر میورقہ اور یابسہ (ایبیزا)، جو اس وقت مسلم جزائرِ بلیار کا حصہ تھے، پر حملہ کیا۔ اس مہم کے بعد ان جزائر نے ان کے سامنے خراج ادا کرنا قبول کیا اور ان کے بقول وہاں موجود متعدد عیسائی غلاموں کو بھی آزاد کرایا گیا۔ [2]
ریمون برانجیہ سوم نے پیزا کے ساتھ مل کر اندلس کے کئی مسلم شہروں، جن میں بلنسیہ، لاردہ اور طرطوشہ شامل تھے، کے خلاف بھی فوجی اتحاد قائم کیا۔ 1116ء میں وہ روم گئے، جہاں انھوں نے پوپ پاسکال دوم کے ساتھ طراغونہ کے خلاف صلیبی مہم کے سلسلے میں معاہدہ کیا۔ بالآخر 1118ء میں انھوں نے طراغونہ پر قبضہ کر لیا، جو بعد میں کاتالونیا میں کلیسیا کا مرکزی مقام بن گیا۔ زندگی کے آخری دور میں ریمون برانجیہ سوم فرسانِ ہیکل (نائٹس ٹیمپلر) کے رکن بن گئے۔ بعد ازاں انھوں نے اپنی پانچ کاتالان کاؤنٹیاں اپنے بڑے بیٹے ریمون برانجیہ چہارم کے سپرد کیں، جبکہ پرووانس اپنے دوسرے بیٹے برانجیہ ریمون کے لیے چھوڑا۔ ریمون برانجیہ سوم کا انتقال 1131ء میں ہوا اور انھیں سانتا ماریا دی ریپول کی خانقاہ میں دفن کیا گیا۔ [3]
حوالہ جات
[ترمیم]| قبله: برانجيه ريموند الثاني |
کاؤنٹ بارسلونا |
بعده: ريموند برانجيه الرابع |


