زاہدہ پروین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زاہدہ پروین
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1925  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
امرتسر  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 15 مئی 1975 (49–50 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ گلو کارہ، شاعرہ  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل کافی  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

زاہدہ پروین (پیدائش: 1925ء — وفات: 15 مئی 1975ء) پاکستان کی کلاسیکی گلوکارہ تھیں۔زاہدہ پروین کی وجہ شہرت کافی کو کلاسیکی موسیقی کے انداز و نہج پر گانا ہے۔ اُنہیں ملکہ کافی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

سوانح[ترمیم]

زاہدہ پروین 1925ء میں امرتسر میں پیدا ہوئیں۔

موسیقی[ترمیم]

موسیقی کی تعلیم کپور تھلہ کے استاد تاج، امرتسر کے استاد حسین بخش اور پٹیالہ گھرانہ کے عاشق علی خان سے حاصل کی۔[1] کلاسیکی موسیقی میں اُنہوں نے باقاعدہ کافی گانے کی طرز قائم کی اور یہ اُن کی وجہ شہرت بنی۔زاہدہ پروین نے خواجہ غلام فرید کی کافیوں کو پہلی بار کلاسیکی موسیقی کے مطابق ترتیب دیا اور اُن کی کافی کیا حال سناواں دِل دا سے شہرت پائی۔

پاکستان آمد[ترمیم]

قیام پاکستان 1947ء کے بعد وہ پاکستان آگئیں اور یہاں ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئیں۔ اُن کے کلاسیکی موسیقی کے پروگرام بغیر کسی تعطل کے نشر ہوتے رہے۔1964ء میں اُنہیں آل پاکستان میوزک کانفرنس میں طلائی تمغے سے نوازا گیا۔اُنہوں نے بطور پس پردہ گلوکارہ کے متعدد فلموں کے لیے گیت بھی گائے۔ 1975ء میں اُن کی وفات کے بعد اُن کی بیٹی شاہدہ پروین نے کافیوں کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔

وفات[ترمیم]

15 مئی 1975ء کو 50 سال کی عمر میں زاہدہ پروین لاہور میں انتقال کرگئیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Sheikh M. A: Who’s Who: Music in Pakistan, p.262