زاہد وخشی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خواجہ مولانا محمدزاہد وخشی قُدِّس سِرُّہ

خواجہ مولانا محمدزاہد وخشی قُدِّس سِرُّہ[1][ترمیم]

وخش (حصار علاقہ بخارا)

752ھ ۔۔۔۔کم ربیع لاوّل 936ھ   وخش

1448ء۔۔۔۔۔1529ء

مادهٔ تاریخِ رحلت[ترمیم]

فیضِ الٰہی، 836

نسبت ِ باطنی[ترمیم]

خواجہ ناصر الدین عبیداللہ احرار قدس سرہٗ

خلیفہ[ترمیم]

مولانا محمد درویش قدس سرہٗ

تعارُف[ترمیم]

اسمِ گرامی محمد زاہد ہے۔ خواجہ مولانا یعقوب چرخی قدس سرہٗ کے نواسہ تھے۔

نسبت ِباطنی[ترمیم]

آپ نے ذکر کی تلقین مولانا محمد یعقوب چرخی قدس سرہٗ کے کسی خلیفہ سے لی تھی لیکن آپ کا انتسابِ باطنی خواجہ عبیداللہ احرار قدس سرہٗ سے ہے۔

جب خواجہ احرار کے اِرشاد کا شہرہ آپ کے کان میں پہنچا تو آپ حصار سے سمر قند پہنچ کر محلہ وانْسرمیں اُترے،جو خوشگوار اور سر سبز مقام ہے۔ آپ نے حضرت خواجہ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے نئے کپڑے پہنے، محلہ وانْسر اور حضرت خواجہ کی سکونت محلہ کنسر کے درمیان تین کوس کا فاصلہ ہے۔

حضرت خواجہ کو بذریعہ کشف معلوم ہو گیا کہ مولانا زاہد ہماری ملاقات کو آئے ہیں تو عین دوپہر کے وقت آپ اپنے اونٹ پر سوار ہو کر بمعہ مریدین چل پڑے کسی کو منزل معلوم نہ تھی، اونٹ کی مہار چھوڑ دی تو مولانا زاہد کی قیام گاہ پر پہنچ کر اونٹ خود بخود رُک گیا۔ حضرت خواجہ اونٹ سے اُتر پڑے۔ جب مولانا زاہد کو خواجہ احرار کی تشریف آوری کی خبر ہوئی تو بے اختیار دوڑتے ہوئے آئے، اور حضرت خواجہ کا استقبال کیا اور ان کے پاؤں کو بوسہ دیا۔ مولانا نے بیعت کی خواہش کی، حضرت نے آپ کو بیعت کر کے طریقہ عالیہ نقشبندیہ کی نعمت مولانا کو عطا فرمائی، اور اپنی کامل توجہ اور تصرُّف سے اِسی مجلس میں مولانا کو کمال و تکمیل تک پہنچا دیا اور خلافت عطا فرما کر رُخصت فرمایا۔

اس پر بعض اصحاب جو اُس وقت موجود تھے، آتشِ غیرت میں جلنے لگے کہ ہم عرصہ سے خدمت میں حاضر ہیں مگر ہم پر عنایت نہیں فرمائی۔حضرت خواجہ نے فرمایا؛

مولانا زاہد چراغ اور بتی بمعہ تیل تیار کر کے ہمارے پاس آئے تھے، ہم نے اُس کو روشن کر کے رُخصت کر دیا ہے۔

یہ واقعہ حضرت مولانا زاہد قدس سرہٗ کی استعداد اور قابلیت اور حضرت خواجہ احرار قدس سرہٗ کے عظیم تصرُّف پر دلالت کرتا ہے۔

وِصال[ترمیم]

آپ کا وِصال غرهٔ ربیع الاول 936ھ میں بمقام وخش (نواحِ بلخ، برلبِ دریائے جیہوں) ہوا اور وہیں دفن ہوئے۔ مادہ تاریخِ وفات فیضِ الٰہی /936ھ ہے۔

حضرت العلام  نور الدین عبدالرحمن جامی  قُدِّس سِرُّہ[ترمیم]

تعارُف و وِلادت[ترمیم]

اسمِ گرامی عبدالرحمن ابن احمد دشتی ابن محمد المعروف نور الدین جامی ہے،آپ کی وِلادت باسعادت محلہ خرجرد قصبہ جام علاقہ خراسان(ایران) میں، 23شعبان المعظم 817ھ، 1414ء میں ہوئی۔ فارسی کے ملک الشعرأتھے اور جامی تخلص تھا۔ والد اہل تقویٰ تھے اور آپ کی والدہ حضرت امام شیبانی قدس سرہٗ کی نواسی تھیں۔

علومِ ظاہری[ترمیم]

اوّل ہرات کے مدرسہ نظامیہمیں مولانا جنید اصولی، خواجہ علی سمر قندی، مولانا شہاب الدین محمد جارجوی سے علومِ متداولہ حاصل کئے۔ ہرات سے سمر قند میں قاضی زادہ رُوم کے درس میں آئے اور اپنی ذہانت اور طبعِ رسا سے اُستادِ محترم کو بے حد متاثر کیا اور علوم و فنون میں کمال حاصل کیا۔ قاضی رُوم فرمایا کرتے تھے کہ جب سے سمر قند آباد ہوا ہے، مولانا عبدالرحمن جامی جیسا ذہین اور طبّاع فاضل زمانے کی آنکھ نے نہیں دیکھا۔ آپ نے اسلامی علوم کے تمام شعبوں میں عبور حاصل کرنے کے علاوہ شاعری میں ایسا کمال حاصل کیا کہ حافظ شیرازی کے بعد ایران نے آپ جیسا قادر الکلام شاعر پیدا نہیں کیا۔

تربیت ِباطنی[ترمیم]

سب سے پہلے حضرت مولانا سعد الدین کاشغری قدس سرہٗ کے حلقہ اِرادت میں داخل ہوئے، ان کے وِصال کے بعد خواجہ عبیداللہ احرار  قدس سرہٗ کے دست ِحق پرست پر بیعت ہوئے۔ آپ خواجہ احرار قدس سرہٗ کی نگاہ میں اُترتے چلے گئے اور رُوحانیت کی بلندیاں طے کرتے چلے گئے۔رُشحات کے مؤلف نے آپ کے رُوحانی شیوخ میں خواجہ محمد پارسا، خواجہ برہان الدین ابو نصر قدس اللہ اسرارہما اور دیگر نام بھی ذکر کئے ہیں، لیکن تکمیل خواجہ احرار قدس سرہٗ سے ہوئی۔

سفر حجاز اور حج بیت اللہ[ترمیم]

ظاہری و باطنی تربیت کی تکمیل کے بعد 877ھ میں سفر حجاز کو نکلے۔ ہمدان کردستان، بغداد، کربلا، نجفِ اشرف سے ہوتے ہوئے 6 ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے۔ راستہ میں ہر شہر کے حاکم اور مسلمانوں نے آنکھیں فرشِ راہ کیں۔

روضۃُ النبیﷺ[ترمیم]

دیار النبیﷺ کی حاضری آپ کی اعلیٰ رُوحانی اور وجدانی کیفیت کا مظہر ہے۔ آپ کی والہیت اور عشقِ رسول اللہﷺ آپ کا سرمایہئ حیات ہے۔ آپ کا نعتیہ ہدیہ آپ کی زندگی کا ماحصل ہے۔ آپ نے جس سوز، گہرائی اور بلند خیالی سے بار گاہِ نبوت میں ہدیہ نعت پیش کیا،وہ فارسی ادب کا ایک درخشاں باب ہے اور جامی ؔکے مقامِ نعت کی رفعت و عظمت کو کوئی دوسرا قادر الکلام شاعر چھو بھی نہیں سکا، یہی وجہ ہے کہ اہل ذو ق اسے ہمیشہ سرمایہ حیات سمجھ کر پڑھتے رہے ہیں۔ وہ عشقِ رسول اللہﷺ میں جس طرح ڈوب کر نعت لکھتے ہیں اس طرزِ فن میں وہ منفرد ہی نہیں،اِمام تھے۔جامی کے جذب و جنون اور عشق و مستی میں ادب بھی ہے، رِقّت و والہیت بھی اور التجا و زاری بھی ہے۔

پہلی مرتبہ جب آپ بار گاہ ِنبویﷺ کی حاضری کے لئے روانہ ہوئے تو والی ئ مدینہ کو خواب میں حکم دیا گیا کہ جامی کو شہر سے باہر روک لو،جس جذب و کیف میں وہ آرہا ہے، اس کی دلدہی کے لئے مجھے روضہ سے باہر آنا پڑے گا۔ آپ کو بار بار روکا گیا حتیٰ کہ ایک دفعہ صندوق میں بند ہو کر بھی گئے مگر روک لئے گئے۔ کچھ دنوں بعد حاضری ہوئی تو آپ روضہ اطہر سے لپٹ کر فریاد کرتے رہے  ؎

ز مہجوری برآمد جانِ عالم

ترحم! یا نبی اللہ ترحم!

تصانیف

آپ کثیر التصانیف تھے۔ ”حدائقِ حنفیہ“ میں آپ کی ستائیس تصانیف بیان کی گئی ہیں۔ بعض کے مطابق آپ کی چو ّن 54 تصانیف ہیں، جن میں نفحات الانس، شواہد النّبوۃ، اشعۃ اللمعات اور شرح ملا جامی شہرتِ دوام حاصل کر چکی ہیں۔

   18 محرم 898ھ، 1492ء بروز جمعۃ المبارک کو وِصال ہوا، مرقد ِانور ہرات میں ہے۔

خلفا  ء

خواجہ ضیاء الدین یوسف (خلیفہ و فرزند،ف 25 شوال 917ھ) اپنے والد بزرگوار کے کمالات و حالات سے پورا پورا حصہ پایا تھا۔

شیخ مودو دلاری (ف رمضان المبارک 937ھ) آپ مولانا عبدالغفور لاری قدس سرہٗ کے شاگرد تھے،بظاہر بابا نظام الدین خاموش قدس سرہٗ کے مرید تھے،لیکن بطریقِ خدمت حضرت جامیؔ قدس سرہٗ کے تربیت یافتہ تھے۔

مولانا حسین واعظ کاشفی(21ربیع الآخر 910ھ ہرات) اپنے وقت کے بلند پایہ عالم، واعظ اور شَیخ تھے۔ جواہرالتفسیرآپ کی بہترین تصنیف ہے۔ آپ کے صاحبزادہ مولانا فخر الدین قدس سرہٗصاحبِ علم ہوئے ہیں جن کی تصنیف ”رُشحات“ مشائخِ نقشبندیہ کا عظیم تذکرہ ہے۔

  1. جواہر نقشبندیہ، مصنف ۔۔ محمد یوسف مجددی. جواہر نقشبندیہ. مکتبہ انوار مجددیہ. صفحات صفحہ نمبر ۔۔۔ 224.