زبدۃ الاقاویل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

زبدۃ الاقاویل فی بترجیح القرآن علی الاناجیل جسے مختصر نام زبد ۃ الاقاویل کا دیا گیا ۔

  • یہ کتاب مشتملہ 168 صفحات 1307ھ بمطابق 1889ء کو فقیر محمد جہلمی مطبع سراج المطابع ، جہلم سے شائع ہوئی۔ کتاب پر مصنف کا نام یوں تحریر ہے:
  • ’’عمدۃ المناظرین زبدۃ المباحثین مولوی فقیر محمد صاحب مالک سراج الاخبار، جہلم و مصنف حدائق الحنفیہ و رسالہ آفتاب محمدی وغیرہ‘‘
  • ’’ اس کتاب میں پادری فنڈر صاحب اور دیگر مسیحیوں کے اس اعتراض کا تفصیلی جواب ہے جو پادری موصوف نے اپنی کتاب حل الاشکال کے چار پانچ ورق میں اناجیل اور نامہ جات کی آیات اور اخلاقی احکام کو نقل کر کے دعویٰ کیا تھا کہ ایسے روحانی احکام قرآن میں بالکل نہیں پائے جاتے۔ راقم نے ان سب آیات و احکام کو چند فصلوں میں منقسم کر کے پہلے ان کو نقل کیا، پھر ۔۔۔۔احکام قرآن شریف سے اور کچھ بطور نمونہ کلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اقوال صحابہ سے نقل کر کے اخیر میں بطور قول فیصل قرآن شریف کے احکام کو اناجیل کے بیانات پر من کل الوجوہ ترجیح دے کر اچھی طرح سے ثابت کر دیا ہے کہ قرآن شریف من حیث الاحکام روحانی اور اخلاقی بھی اناجیل پر کلی ترجیح رکھتا ہے۔ اس کتاب کے ابتداء میں ایک مقدمہ لکھا گیا ہے جس میں پانچ امر ایسے ضروری و لابدی بیان ہوئے ہیں جو اناجیل مروجہ کی پوست کندہ قلعی کھولتے ہیں چنانچہ
  • امر اول میں اناجیل مروجہ کا قطعی دلائل سے غیر الہامی ہونا ثابت کر کے
  • امردوم میں جتایا گیا ہے کہ بعض اناجیل غیر مروجہ خصوصاً انجیل برناباس سے الہام منفک نہیں ہو سکتا اور قرآن شریف بھی اسی کی تصدیق کرتا ہے۔
  • امرسوم میں نبی آخرالزمان اور قرآن شریف کی ضرورت کو دلائل قویّہ سے ثابت کر کے
  • امر چہارم میں محققین مسیحیوں کی شہادتیں تعلیم محمدی کی عمدگی پر درج کی ہیں۔
  • امر پنجم میں قرآن کی خصوصیات اور اناجیل مروجہ کا ان سے عاری ہونا بیان کر کے ثابت کیا گیا ہے کہ قرآن شریف اور کتب احادیث تو ایک طرف رہے -اناجیل مروجہ تقویت میں اہل اسلام کی معتبر کتب سیر کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ یہ کتاب متذکرہ بالا معلومات حاصل کرنے کے علاوہ واعظین اسلام کے لیے بھی بڑی کارآمد ہے اور ان کو اخلاقی ۔۔۔دے سکتی ہے۔
  • کتاب کی ترتیب نہایت عمدہ ہے مولانا مختلف موضوعات کے متعلق پہلے اناجیل مروجہ اور نامہ جات حواریین سے مسیحی تعلیمات کو نقل کرتے ہیں اور پھر اس کے مقابل میں آیات قرآنی و احادیث نبوی و کلام صحابہ کو نقل کرتے ہیں اور پھر ’’وجہ ترجیح تعلیم محمدی‘‘ کے عنوان سے فیصلہ بھی تحریر کرتے ہیں۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.nafseislam.com/articles/dabeer-e-ahlesunnat-maulana-faqir-muhammad-jehlmi-rahmatullah-alaih