زبیر علی زئی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زبیر علی زئی
Zubair-alizai.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 25 جون 1957  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حضرو  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 10 نومبر 2013 (56 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
راولپنڈی  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
فرقہ سنی
فقہی مسلک ظاہری
عملی زندگی
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

حافظ زبیر علی زئی عالمِ اسلام کے ایک نامور محدث تھے اور چودھویں صدی میں علم حدیث اور جرح وتعدیل کے امام تھے۔

نسب نامہ[ترمیم]

حافظ زبیر علی زئی ولد حاجی مجدد خان

تعلیم وتربیت[ترمیم]

شیخ زبیر علی زئی صاحب نے3سے4ماہ میںقرآن مجید حفظ کر لیا تھا۔ آپ نے جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ سے سندفراغت حاصل کی وفاق المدارس السلفیہ سے الشھادۃ العالمیہ کی سند بھی حاصل کی۔ نیزآپ نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور عربی میں ایم اے بھی کیا تھا۔ آپ اپنی مادری زبان ہند کو کے ساتھ ساتھ کئی ایک زبانوں پردسترس رکھتے تھے۔ جن میں عربی اردو پشتوانگلش یونانی فارسی اور پنچابی شامل ہیں۔

آپ کو علم الرجال سے بڑی دلچسبی تھی چنانچہ ایک پر اپنے بارے میں خود لکھتے ہیں۔

راقم الحروف کوعلم اسمائے الرجال سے بڑالگاؤ ہے

اساتذہ[ترمیم]

حافظ زبیرعلی صاحب نے جن اساتذہ کرام سے علم حاصل کیاان کے نام درج ذیل ہیں۔

1۔ الشیخ محب اللہ شاہ راشدی واسعۃ[ترمیم]

اپنے استاد کے بارہ میں لکھتے ہیں(زبیرصاحب)استادمحتر م مولانا ابومحب اللہ شاہ الراشدی سے میری پہلی ملاقات ان کی لائبریری ”مکتبہ راشدیہ،،میں ہوئی تھی میرے ساتھ کچھ اور بھی طالب علم تھے۔

اسی طرح ایک اور جگہ لکھتے ہیں:اگرمجھے رکن ومقام کے درمیان میں کھڑا کرکے قسم دی جائے تویہی کہوں گا میں شیخ محب اللہ شاہ راشدی سے زیادہ نیک،عابد،زاہد افضل اور شخ بدیع الدین سے زیادہ عالم و فقہی انسان کوئی نہیں دیکھا۔”مقالات 1؍505،،

2۔ الشیخ بدیع الدین شاہ راشدی[ترمیم]

شاہ صاحب سے تعلق تلمذ کا ذ کر کرتے ہوئے حافظ زبیرعلی زئی صاحب نے خود لکھاہے”راقم الحروف کوبھی ان سے شرف تلمذ حاصل ہے

اسی طرح ایک مقام پرشیخ محب اللہ شاہ راشدی اور شیخ بدیع الدین راشدی کے حوالہ سے کچھ یوں لکھتے ہیں۔

”آپ انتہائی خشوع وخضوع اورسکون واطمینان کے ساتھ نماز پڑھاتے تھے اس کا اثریہ ہوتاتھاکہ ہمیں آپ کے پیچھے نماز پڑھنے میں انتہائی سکون وا طمینان حاصل ہوتا تھا،گویا یہ سمجھ لیں کے آپ کی ہرنماز آخری نماز ہوتی تھی ،یہی سکون واطمنان ہیں شیخ العرب والعجم مولانا بدیع الدین شاہ راشدی کے پیچھے نماز پڑھنے میں حاصل ہوتاتھا”مقالات 1؍494 ،،

اسی طرح ایک جگہ کچھ یوں لکھا”راقم الحروف سے آپ کا رویہ شفقت سے بھرپور تھا ایک دفعہ آپ ایک پروگرام کے سلسلہ میں راولپنڈی تشریف لائے تو کافی دیرتک مجھے سینے سے لگائے رکھا”1؍492 ،،

3۔ الشیخ اللہ دتہ سوہدرویر حافظ زبیرعلی زئی صاحب نے ان کے بارہ میں لکھا”جن شیوخ سے میں نے بہت زیادہ استفادہ کیا ان میں حاجی اللہ دتہ صاحب سرفہرست ہیں ”مقالات1؍509 ،،

4۔ علامہ مولانا فیض الرحمن الثوری ۔[ترمیم]

حافظ زبیرعلی زئی ان کے بارہ میں لکھتے ہیں:راقم الحروف کوآپ سے استفادہ کا موقع استادمحترم محترم شیخ ابومحمدبدیع الدین شاہ راشدی کے مکتبہ راشدیہ نیوسعیدآبادمیں ملا۔ آپ نے سندحدیث اور اس کیااجازت اپنے دستخط کے ساتھ 13صفر 1408ء کومرحمت فرمائی آپ مولانا اوروہ سیدنذیرحسین دہلوی سے روایت کرتے ہیں”مقالات 1؍508،،

5۔ الشیخ عطاءاللہ حنیف بھوجیانی[ترمیم]

آپ مسلک کے علماءمیں سے میں سے ایک نامورعالم دین تھے آپ کی متعددتصانیف ہیں جن میں ایک سنن نسائی کی عربی شرح التعلیقات السلفیہ ہے۔

6۔ الشیخ حافظ عبد المنان نورپوری ۔[ترمیم]

آپ عالم باعمل شخصیت تھے علم بحرزفار تھے آپ کی کتب میں ارشادالقاری الی نقدفیض الباری مراۃ البخاری مقالات نورپوری اور احکام ومسائل جیسی بلندپایہ کتب ہیں۔

7۔ الشیخ حافظ عبد السلام بھٹوی حفظہ اللہ۔[ترمیم]

آپ جماعت کے جید علما میں سے ہیں آپ کی مختلف کتب میں سے ایک معروف کتاب تفسیردعوۃ القرآن ہے۔

8۔ الشیخ عبد الحمید ازہر[ترمیم]

آپ کی سکونت راولپنڈی شہر میں تھی۔ حافظ زبیرعلی زئی صاحب ان کوبھی اپنااستاد مانتے تھے اوروقتافوقتا ان سے محتلف موضوعات میں رہنمائی کے لیے رجوع فرماتے رہتے تھے۔

تلامذہ[ترمیم]

پورے ملک سے کثیرطلبہ نے آپ سے استفادہ اورکسب فیض کیاہے۔ چند ایک کے نام درج ذیل ہیں۔

1۔ شیخ ندیم ظہیرحفظہ اللہ تعالی۔

2۔ شیخ حافظ شیرمحمدصاحب حفظہ اللہ۔

3۔ شیح صدیق رضاصاحب حفظہ اللہ۔

4۔ شیخ غلام مصطفٰی ظہیرامن پوری حفظہ اللہ۔ 5۔انجینئیر علی مرزا

تصانیف[ترمیم]

شیخ کی متعدد علمی و تحقیقی تصانیف ہیں جن میں سے چندایک کے نام درج ذیل ہیں۔

1۔ اثبات عذاب القبرللبيهقی (تحقیق وتخریج)

2۔ نیل المقصودفی التعلیق علی سنن ابی داؤد(اس میں فقہی فوائدکے ساتھ ساتھ تحقیق وتخریج بھی ہے)

3۔ نمازمیں ہاتھ باندھنے کاحکم اور مقام۔

4۔ نورالعین فی اثبات رفع الیدین(یہ کتاب یقینا اپنے ب میں انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کے مطالعہ سے بڑی تعدادنے اس سنت متواترہ کواپنی نماز کی زینت بنالیاہے۔

6۔ جھوٹ(200)آل دیوبندکے تین سو

7۔ ہدایۃ المسلمین(نمازکے اہم مسائل مع مکمل نمازنبوی۔

8۔ اختصارعلوم الحدث (حافظ ابن کثیر کی کتاب کاترجمہ ہے)

9۔ تحقیقی اصلاحی اورعلمی مقالات جلداول تاچہارم (ان میں ماہنامہ الحدیث میں شائع ہونے والے مضامین کوجمع کیاگیاہے۔

10۔ فتاوٰی علمیۃ(المعروف توضیح الکلام 2 جلدیں)

11۔ القول المتین فی الهبربالتامین۔

12۔ سوالات 200 آل دیوبندسے۔

13۔ صحیح بخاری پراعتراض کاعلمی جائزہ(یہ کتاب منکرین حدیث کی کتاب اسلام کے مجرم کاجواب ہے)

15۔ مختصر صحیح بخاری۔ 16۔ دین میں تقلید کامسئلہ۔

17۔ امین اوکاڑوی کاتعاقب۔18۔ بدعتی کے پیچھے نماز کاحکم۔

19۔ انوارالصحیفہ فی احادیث الضعیفہ۔

20۔ تحفة الاقویاء فی تحقیق کتاب الضعفاء۔

اس کے علاوہ اوربھی کتب ہیں نیز کتب احادیث پرتحقیق و تخریج کا کام بھی کیاہے۔

تصنیفی خدمات کے علاوہ آپ نے ابطال باطل کے لیے مناظرے بھی کیے ہیں بلکہ مناظروں کے لیے دوردرازکا سفربھی کیاہے۔

کلمات ثناءوخصائص نبیلہ[ترمیم]

علم حدیث کے ممتاز ماہراور فن اسماءرجال کے شہ سوارتھے۔ بڑے متقی اورعابد،زاہدانسان تھے۔ علم وعمل کے آفتاب تھے۔ حق صداقت کی علامت تھے۔ جس مسئلہ کاحق ہونا ان

پرواضح ہوجاتا اس پرمظبوطی سے ڈٹ جاتے اوردنیاکی طاقت انہیں اپنے موقف نہیں ہٹاسکتی تھی۔ اوراس معاملہ میں کسی لومۃ لائم کی پروا نہ کرتے تھے۔

احادیث کی صحت وسقم کے بارہ میں شیخ صاحب کی تحقیقات بہت وسیع تھیں اور وہ ان کی یہ عادت تھی کہ حدیث پرحکم لگانے سے پہلے اس حدیث کی پوری تحقیق فرمایا کرتے تھے اوراگراس سلسلہ میں ان سے کوئی غلطی سرذدہوجاتی اور جب انہیں احساس ہوتاتووہ علانیہ اپنی غلطی سے رجوع فرماتے تھے۔ اور یہ ان کی بہت بڑی خوبی تھی جوخال خال لوگوں میں ہی نظر آتی ہے۔ موجودہ دور میں گمراہ فرقے ثقہ وثبت رواۃ حدیث کواپنی نفسیاتی خوہشات کی وجہ سے ضعیف باورکرانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں ایسے باطل فرقوں کے خلاف موصوف کاقلم فوری حرکت میں آجایاکرتاتھا۔ شیخ کی تحریرانتہائی سلیس عام فہم اردوپرمشتمل ہوا کرتی تھی اورانداز ایسا جونتہائی اختصاراورجامع مانع ہو۔ طوالت اور اطناب آپ کی تحریرمیں نظرنہیں آتا۔ محتصرمگرجامع۔ دوران مطالعہ اگرکوئی علمی نکتہ نظرآجاتاتواس کواپنی ذات تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ ماہنامہ الحدیث میں ایک شزرے کے طور پرشائع کرکے تمام قارئین کے لیے عام کردیتے تھے۔ حافظ زبیرعلی زئی صاحب اتنہائی سادہ لوح،بے تکلف ہنس مکھ اور نرم دل ونرم مزاج آدمی تھے۔ شیخ صاحب کا انداز تدریس بھی ممتاز تھا مسئلہ کی تفہیم اس آسانی سے فرماتے کہ طلاب علم بآسانی سمجھ جاتے تھے۔

جماعت اہل حدیث کے ممتازعلماءکرام نے ان کی شان میں تعریفی کلمات کہے ہیں۔ جن میں شیخ رفیق اثری صاحب،شیخ ارشادالحق اثری صاحب، شیخ مسعودعالم صاحب،شیخ مبشراحمدربانی صاحب،شیخ عبد الستارحمادصاحب، شیخ خلیل الرحمن لکھوی صاحب ،شیخ خبیب احمدصاحب، شیخ محمودالحسن صاحب نے تعریفی کلمات کہے ہیں اوربلاشبہ عظیم محدث علم کے پہاڑعلم اسماءالرجال کے ماہراورانتہائی پاکیزہ صفت محقق تھے۔ اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے اور ان پرکروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔

وفات[ترمیم]

جماعت اہل حدیث کے ممتاز عالم دین محقق شہرجامع صفات النبیلہ حافظ زبیرعلی زئی صاحب کواپنی آخری عمر میں فالج کاحملہ ہوا۔ تقریبًاڈیڑھ ماہ تک اسپتال میں زیرعلاج رہے۔ اور پھر بروز اتوار 5 محرم الحرام 1435 ہجری بمطابق 10 نومبر2013 عیسوی میں اس دنیا سے رخصت ہو کر خالق حقیقی سے جاملے۔ شیخ کا نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں فضیلۃ الشیخ علامہ عبد المجید ازہر نے پڑھایا۔ نمازجنازہ میں علما، طلبہ سمیت کثیرتعداد میں ملک بھر سے لوگوں نے شرکت کی۔ تقریبًا 10 ہزار سے زائدافراد آپ کے جنازہ میں شریک تھے۔ ان کی وفات کچھ حلقوں میں بروئے حدیث امت کے لیے ایک بہت بڑا نقصان سمجھی گئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

1. محمد إسحاق بهٹي گلستان حديث (أردو)، لاهور : مكتبة قدوسية، ط1 : 2011م-

2. حافظ زبير علي زئي، أضواء المصابيح في تحقيق مشكاة المصابيح، لاهور : مكتبة إسلامية، ط1، 2010م،

3. حافظ زبير علي زئي، الاتحاف الباسم في تحقيق موطأ الإمام مالك رواية عبد الرحمن القاسم، مكتبة الحديث حضرو : أٹك/پاكستان، ط1، 2009م ،

4. حافظ زبير علي زئي، أنوار الصحيفة في الأحاديث الضعيفة من السنن الأربعة، مكتبة الحديث حضرو : أٹك پاكستان، ط2، 1432هأ:2010م ،

5. مجلة الحديث الشهرية، مدير : حافظ زبير علي زئي، الناشر : مكتبة الحديث حضرو : أٹك/پاكستان، تأسيس : 2004م

6. حافظ زبير علي زئي، مقالات الحديث، مكتبة الحديث حضرو : أٹك/پاكستان، ط1، 2011م

7. حافظ زبير علي زئي، تحقيقي وإصلاحي وعلمي مقالات، مكتبة إسلامية : لاهور/پاكستان، ط1، 2010م

8. حافظ زبير علي زئي، تحقيقي وإصلاحي وعلمي مقالات، الكتاب انترنيشنال : دلهي/الهند، ط1، 2013 م