زهران علوش
| زهران علوش | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 1970ء دوما، شام |
| وفات | 25 دسمبر 2015ء (44–45 سال) محافظہ ریف دمشق |
| وجہ وفات | فضائی حملہ |
| مقام نظر بندی | صیدنایا جیل (–جون 2011) |
| شہریت | |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | جامعہ دمشق جامعہ اسلامیہ، مدینہ منورہ |
| پیشہ | فوجی افسر |
| پیشہ ورانہ زبان | عربی |
| عسکری خدمات | |
| لڑائیاں اور جنگیں | شامی خانہ جنگی |
| درستی - ترمیم | |
زهران علوش (ولادت: 1971ء - وفات: 25 دسمبر 2015ء) شامی خانہ جنگی میں سرگرم شام کا ایک معروف اسلام پسند رہنما تھا۔ وہ مسلح تنظیم جیش الاسلام کا بانی اور سربراہ تھا، جو دمشق اور اس کے نواحی علاقوں، خصوصاً غوطہ میں سرگرم سب سے بڑی باغی فورسز میں شمار ہوتی تھی۔ علوش شامی خانہ جنگی کے ابتدائی برسوں ہی میں ایک مؤثر اور متنازع عسکری و سیاسی شخصیت بن کر ابھرا۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
[ترمیم]زهران علوش 1971ء میں شام کے شہر دمشق کے مضافات میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوا۔ اس کے والد شیخ عبد اللہ علوش شام کے معروف سلفی علما میں شمار ہوتے تھے اور کئی برسوں تک سعودی عرب میں تدریس و خطابت سے وابستہ رہے۔ علوش نے اپنی ابتدائی دینی تعلیم اپنے والد اور مقامی علما سے حاصل کی، جس کا اثر اس کی مذہبی سوچ پر نمایاں رہا۔ بعد ازاں وہ سعودی عرب گیا جہاں اس نے حدیث اور شریعت کے علوم کا باقاعدہ مطالعہ کیا اور دینی مدارس سے وابستہ رہا۔
سرگرمی اور جیش الاسلام کی تشکیل
[ترمیم]شامی خانہ جنگی کے آغاز میں 2011ء کے بعد علوش کو شامی حکومت نے مخالف سیاسی و دینی سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار کیا، تاہم 2011ء کے وسط میں عام معافی کے تحت اسے رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے فوراً بعد اس نے مسلح تنظیم سرایا الاسلام قائم کی، جو بعد میں مختلف گروہوں کے اتحاد سے جیش الاسلام میں تبدیل ہوئی۔ یہ گروہ تیزی سے دمشق کے اطراف میں طاقتور ہوا اور اسے خلیجی ریاستوں، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کے بعض ممالک سے مالی و عسکری مدد ملنے کا بھی الزام لگایا جاتا رہا۔[1]
علوش کی قیادت میں جیش الاسلام نے شامی حکومت کے خلاف کئی بڑی کارروائیاں کیں۔ وہ شامی مزاحمت کے اندر ایک نظم و ضبط رکھنے والی تنظیم کی مثال سمجھا جاتا تھا۔ علوش اپنے خطابات میں شامی حکومت کے خاتمے، سنی مخالف پالیسیوں کے خاتمے اور دمشق میں ’’اسلامی حکمرانی‘‘ کے قیام کی بات کرتا تھا۔ اس کے سیاسی بیانات میں شدت بھی موجود تھی، جس پر اسے اندرون و بیرونِ شام تنقید کا سامنا رہا۔
سیاسی کردار اور تنازعات
[ترمیم]زهران علوش نے خانہ جنگی کے دوران نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی سطح پر بھی اہم کردار ادا کیا۔ کئی بین الاقوامی مذاکرات میں شامی باغی گروہوں کی نمائندگی کے لیے اس کا نام سامنے آیا۔ اگرچہ اس کی تنظیم سلفی رجحان رکھتی تھی، لیکن سیاسی مذاکرات میں وہ نسبتاً عملی اور لچکدار مؤقف اختیار کرتا تھا۔
اس کے مخالفین کے مطابق جیش الاسلام نے انسانی حقوق کی بعض خلاف ورزیاں کیں، جن میں مخالف گروہوں کی گرفتاری اور بعض اوقات سخت سزائیں شامل تھیں۔ تاہم اس کے حامی اسے ایک منظم، محب وطن اور حکومت مخالف تحریک کا مضبوط قائد قرار دیتے تھے۔[2]
وفات
[ترمیم]25 دسمبر 2015ء کو زهران علوش ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوا۔ یہ حملہ مشرقی غوطہ میں ایک خفیہ اجلاس پر کیا گیا تھا۔ روس اور شام دونوں نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کی۔ علوش کی ہلاکت کو شام کی سیاسی و عسکری صورت حال میں ایک بڑا موڑ سمجھا جاتا ہے کیونکہ جیش الاسلام اس کے بعد قیادت کے بحران اور اندرونی تقسیم کا شکار ہوا۔
حوالہ جات
[ترمیم]- 1970ء کی پیدائشیں
- 2015ء کی وفیات
- 25 دسمبر کی وفیات
- 1971ء کی پیدائشیں
- جامعہ دمشق کے فضلا
- سوری زیر حراست اور قیدی شخصیات
- سوریہ کے قیدی اور زیر حراست افراد
- شیعیت کے نقاد
- فضلاء جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ
- سوری سلفی
- سوری سنی علماء اسلام
- سوریہ خانہ جنگی سے منسلک شخصیات
- اکیسویں صدی کی سوری شخصیات
- 1437ھ کی وفیات
- جنگی وفیات
- سلفی شخصیات