زوال مغرب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زوال مغرب
(جرمن میں: Der Untergang des Abendlandes خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں عنوان (P1476) ویکی ڈیٹا پر
مصنف آسوالڈ اسپینگلر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مصنف (P50) ویکی ڈیٹا پر
اصل زبان جرمن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کام یا نام کی زبان (P407) ویکی ڈیٹا پر
موضوع فلسفہ تاریخ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مرکزی موضوع (P921) ویکی ڈیٹا پر
ادبی صنف فلسفہ تاریخ،  مضمون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرز (P136) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ اشاعت 1918  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ اشاعت (P577) ویکی ڈیٹا پر

زوال مغرب (انگریزی: The Decline of the West، جرمن= Der Untergang des Abendlandes)، مشہور جرمن مورخ اور فلسفی آسوالڈ اسپینگلر کی شہرہ آفاق کتاب Der Untergang des Abendlandes کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ ترجمہ ڈاکٹر مظفر حسن ملک نے کیا اور اسے 1998ء میں مقتدرہ قومی زبان اور 2018ء میں نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔ اسپینگلر نے یہ کتاب پہلی جنگ عظیم سے پہلے ہی مکمل کر لی تھی مگر یہ دو جلدوں میں 1918 سے 1922 کے درمیان شائع ہوئی۔ اس کا انگریزی ترجمہ 1926ء اور 1928ء کے درمیان شائع ہوا جب پہلی جنگ عظیم ختم ہو رہی تھی۔ اس کتاب نے شائع ہوتے ہی مقبولیت حاصل کرنا شروع کر دی۔ اس وقت لوگ جنگ کے اثرات بھی دیکھ رہے تھے کچھ اس باعث بھی یہ کتاب اذہان پر اثر ڈالنے لگی۔ اس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ آج یہ اکثر زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہے۔ زوال مغرب میں سپینگلر نے مصریوں کی تہذیب کے زوال سے لے کر دور جدید تک کا جائزہ لیا ہے اور ان کے زوال کے اسباب بیان کیے ہیں۔ اگرچہ وہ اپنی یورپی تہذیب کو منفرد اور ممتاز قرار دیتا ہے لیکن اس کے انجام سے بھی لرزاں نظر آتا ہے۔ استدلال و براہین کی بجائے وہ اپنے تجزیات کی بنیاد، امثال و اعیان پر رکھتا ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]