زپف کا قانون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

"جتنا زیادہ اکثر ایک لفظ استعمال ہوتا ہے (خواہ عام آبادی میں یا کسی خاص گروہ میں) اس بات کا زیادہ احتمال ہے کہ یہ لفظ چھوٹا یا مختصر ہوتا جائے گا یا چھوٹے ہم معانی لفظ سے بدلا جائے گا۔"ماہر لسانیات زپف کا یہ قانون ہم اپنے روز مرہ میں استعمال کرتے ہیں یہ قانون ہماری اس انسانی عادت کو ظاہر کرتا ہے کہ ہم تھوڑی توانائی استعمال کر کے اپنی بات دوسروں تک پہنچا دینا چاہتے ہیں۔

مثالیں[ترمیم]

راولپنڈی کی بجائے پنڈی کہہ دینے سے دوسرا ہماری بات بھی سمجھ جاتا ہے اور ہماری آدھی توانائی بھی بچ جاتی ہے۔ قائد اعظم مسلم لیگ کی بجائے ق لیگ آسان اور چھوٹا ہے۔ پوری بسم اللہ لکھنے کی بجائے بسملہ یا 786 بہت ہی مناسب ہے۔

(God be with you) کی بجائے (Goodbye) چھوٹا اور مناسب ہے۔ United Nations Organisation کی بجائے (UNO) سے بھی کام چل جاتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]