زیب النساء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زیب النساء
Zeb-un-Nisa Begum.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 15 فروری 1638  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دولت آباد  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 26 مئی 1702 (64 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش آگرہ  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد اورنگزیب عالمگیر  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ دلرس بانو بیگم  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
زبدۃ النساء،  بدر النساء،  زینت النساء،  مہر النساء،  سلطان محمد اکبر،  بہادر شاہ اول،  محمد اعظم شاہ،  محمد کام بخش،  مغل محمد سلطان  ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان مغلیہ سلطنت  ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیگر معلومات
پیشہ شاعرہ،  مصنفہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان فارسی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل شاعری  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ہندوستان کے بادشاہ اورنگزیب کی بیٹی عالمہ، فاضلہ، عارفہ اور فارسی زبان کی شاعرہ تھی۔ زیب النساء نے تین سال کے عرصے میں قرآن مجید حفظ کیا۔ فارسی، عربی اور اردو زبان سے کافی واقفیت پیدا کرلی۔ ہیت، فلسفہ اور ادبیات میں بھی کافی درک حاصل کرلی۔ دانشمند، ادب دوست اور شاعر پرورتھی۔ ان کی حمایت کرتی یہی وجہ ہے کہ بہت زیادہ کتابیں، رسالے اور دیوان اس کے نام لکھے گئے ہیں۔ ان کے والد ہر کام میں اس سے مشورہ کرتے تھے۔ شادی نہیں کی۔ 65سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ زیب المنشات اور زیب التفاسیر کتابیں ان کے آثار ہیں۔

پیدائش[ترمیم]

زیب النساء ("خواتین کی زینت") [1] ،شہزادہ محی الدین( مستقبل کے شہنشاہ اورنگ زیب) کی سب سے بڑی صاحبزادی ، شادی کے ٹھیک نو ماہ بعد ، 15 فروری 1638 کو دکن کے شہر دولت آباد میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ دلراس بانو بیگم ، اورنگزیب کی پہلی بیوی اور چیف ساتھی تھیں اور صفویڈ ایران(فارس) کی حکمران سلطنت کے ممتاز خاندان کی شہزادی تھیں۔[2][3] زیب النساء اپنے والد کی چہیتی بیٹی تھی۔[4]

تعلیم اور کارنامے[ترمیم]

اورنگزیب نے دربار کی ایک خاتون حفیظہ مریم پر زیب النساء کی تعلیم کی ذمہ داری ڈالی۔ ایسا لگتا ہے کہ زیب النسا کو اپنے والد کی ذہانت اور ادبی ذوق ورثہ میں ملی تھی، کیونکہ زیب النساء نے فقط تین سال میں قرآن حفظ کیا اور سات سال کی عمر میں حافظہ بن گئیں۔ اس موقع کو اس کے والد نے ایک زبردست دعوت اور عوامی تعطیل کے ساتھ منایا۔[5]شہزادی کو اس کے خوش و خرم والد نے 30,000 سونے کے سکے کا انعام بھی دیا۔[6] اورنگ زیب نے اپنی شہزادی بیٹی کو اچھی طرح تعلیم دینے کے لیے استانی بی کو بھی بطور انعام سونے کے 30,000 سکے دئے۔[7]

تب زیب النساء نے اس وقت کے علوم کو محمد سعید اشرف مازندرانی سے سیکھا ، جو فارسی کے عظیم شاعر بھی تھے۔[8] ,[9] وہ فلسفہ ، ریاضی ، فلکیات ، [10]ادب سیکھتی تھیں اور فارسی ، عربی اور اردو کی ماہر تھیں۔ خطاطی میں بھی ان کی اچھی شہرت تھی۔[11]۔[12]

اس کی لائبریری نے دوسرے تمام لوگوں کے نجی ذخیرے کو پیچھے چھوڑ دیا اور اس نے اس کے حکم کے مطابق ادبی کام پیش کرنے یا اس کے لیے مخطوطات نقل کرنے کے لیے بہت سارے علما کو آزادانہ تنخواہوں پر ملازمت دی[13] اس کی لائبریری میں قانون ، ادب ، تاریخ اور الٰہیات جیسے ہر موضوع پر کام ہوا۔[14]

زیب النساء ایک نیک دل خاتون تھیں اور ہمیشہ ضرورت مند لوگوں کی مدد کرتی تھیں۔ اس نے بیوہ خواتین اور یتیموں کی مدد کی۔ اس نے نہ صرف لوگوں کی مدد کی بلکہ ہر سال وہ حجاج کو مکہ اور مدینہ بھیجتیں۔[15] انہوں نے موسیقی میں بھی دلچسپی لی.[15]

اورنگزیب کا انضمام[ترمیم]

جب شاہجہان کے بعد اورنگ زیب شہنشاہ ہوا تو زیب النساء 21 سال کی تھی۔ جب اورنگ زیب کو اپنی بیٹی کی صلاحیت اور قابلیت کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ اس سے اپنی سلطنت کے سیاسی امور پر تبادلہ خیال کرنا شروع کیا اور اس کے مشورے سنتا۔ کچھ کتابوں میں اس کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ جب جب زیب النساء دربار میں حاضر ہوتیں اس کے استقبال کے لیے ہر بار اورنگزیب تمام شاہی شہزادوں کو  بھیجتا۔ زیب النساء کی چار دیگر چھوٹی بہنیں تھیں: زینت النساء ، زبدة النساء ، بدر النساء اور مہر النساء۔

نمونہ کلام[ترمیم]

گرچہ من لیلیٰ اساسم، دل چو مجنون دونواست

سر بہ صحرا می زنم لیکن حیا زنجیرِ پا است

دخترِ شاہم ولیکن رو بہ فقر آوردہ ام

'زیب' و 'زینت' بس ہمینم نامِ من زیب النساء است

تاریخ پاک و ہند میں اس کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ زیب النساء نے عربی اور فارسی کی اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن پاک بھی حفظ کیا۔ شعروشاعری میں اپنے استاد ملا محمد سعید اشرف ماژندارانی سے اصلاح لی، علما اور اہل فن کی بھر پور سرپرستی کی اور ان کے لیے ایک اعلٰی پائے کا کتب خانہ قائم کیا۔ اشعار کا نمونہ ملاحظہ ہو:۔

بشکند دستی کہ خم در گردنِ یاری نشد

کور بہ چشمی کہ لذت گیر دیداری نشد

صد بہار آخر شد و ہر گل بہ خرقی جا گرفت

غنچۂ باغِ دلِ ما زیب دستاری نشد

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.babur.org/babur/index.php?option=com_content&view=article&id=448:2013-02-13-21-46-16&Itemid=59
  1. Sarkar، Jadunath (1989). Studies in Aurangzib’s Reign (ایڈیشن Third). Sangam Books Limeted. صفحہ 90. ISBN 9780861319671. 
  2. Lal, p. 7
  3. "Aurangzeb daughter's monument in a shambles". nation.com.pk. 16 July 2009. 
  4. Hamid، Annie Krieger Krynicki ; translated from French by Enjum (2005). Captive princess : Zebunissa, daughter of Emperor Aurangzeb. Karachi: Oxford University Press. صفحہ 73. ISBN 9780195798371. 
  5. Lal, p. 8
  6. Sir Jadunath Sarkar (1912). History of Aurangzib: Mainly based on Persian sources, Volume 1. M.C. Sarkar and Sons. صفحہ 69. 
  7. Raman، Sista Anantha (2009). Women in India A Social and Cultural History. Library of Congress Catologing –in – Publication Data. صفحہ 10. ISBN 978-0-275-98242-3. 
  8. Mirsa، Rekha (1967). Women in Mughal India. Munshiram Manoharlal. صفحہ 90. 
  9. WISE: Muslim Women: Past and Present – Zebunnisa
  10. WISE: Muslim Women: Past and Present – Zebunnisa
  11. Nath، صفحہ 161.
  12. ^ ا ب Nath، صفحہ 163.