زیب النساء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ہندوستان کے بادشاہ اورنگزیب کی بیٹی عالمہ، فاضلہ، عارفہ اور فارسی زبان کی شاعرہ تھی۔ زیب النساء نے تین سال کے عرصے میں قرآن مجید حفظ کیا۔ فارسی، عربی اور اردو زبان سے کافی واقفیت پیدا کرلی۔ ہیت، فلسفہ اور ادبیات میں بھی کافی درک حاصل کرلی۔ دانشمند، ادب دوست اور شاعر پرورتھی۔ ان کی حمایت کرتی یہی وجہ ہے کہ بہت زیادہ کتابیں، رسالے اور دیوان اس کے نام لکھے گئے ہیں۔ ان کے والد ہر کام میں اس سے مشورہ کرتے تھے۔ شادی نہیں کی۔ ۶۵سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ زیب المنشات اور زیب التفاسیر کتابیں ان کے آثار ہیں۔

نمونہ کلام[ترمیم]

گرچہ من لیلیٰ اساسم دل چومجنون دونواست سربہ صحرامی زنم لیکن حیازنجیر پااست دختر شاھم ولیکن روبہ فقر آوردہ ام 'زیب' و 'زینت' بس ھمینم نام من زیب النساء است تاریخ پاک و ہند میں اس کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ زیب النساء نے عربی اور فارسی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن پاک بھی حفظ کیا۔ شعروشاعری میں اپنے استاد ملا محمد سعید اشرف ماژندارانی سے اصلاح لی، علماء اور اہل فن کی بھر پور سرپرستی کی اور ان کے لیے ایک اعلیٰ پائے کا کتب خانہ قائم کیا۔ اشعار کا نمونہ ملاحظہ ہو:۔

بشکنددستی کہ خم درگردن یاری نشد کوربہ چشمی کہ لذت گیردیداری نشد صد بہار آخر شدوھرگل بہ خرقی جاگرفت غنچہ باغ دل مازیب دستاری نشد

حواله جات[ترمیم]

  1. http://www.babur.org/babur/index.php?option=com_content&view=article&id=448:2013-02-13-21-46-16&Itemid=59