زیب غوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

زیب غوری کا اصل نام احمد حسین خان تھا اور ان کے والد کا نام انور حسین خان غوری تھا ، زیب غوری 1928ء کو کانپور (بھارت) میں پیدا ہوئے، تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئے اور کراچی میں رہے، وہیں یکم اگست 1985ء کو رحلت فرما گئے، کراچی میں تدفین ہوئی، سوگواروں میں موسیٰ محمود غوری اور شناور بشیر غوری ان کے بیٹے۔۔۔ بیوہ نجمہ زیب غوری اور۔حسنہ خانم غوری ان کی دختر ہیں،

تصانیف[ترمیم]

  • زرد زرخیز (شب خون کتاب گھر آلہ آباد /1976ء /شاعری)
  • چاک (1985ء/شاعری)
  • زرتاب(شاعری)

اسلوب شاعری[ترمیم]

زیب غوری کا نام ساتویں دہائی کے ابتدائی سالوں میں جدید اردو شاعری کے منظر نامے پر نمایاں ہوا۔ 1962 میں جدیدیت کے ہنگامے میں بھی زیب غوری کا نام جدید شاعری کے منظر نامے سے غائب رہا۔ اس عہد کے اہم تنقیدنگاروں آل احمد سرور، خلیل الرحمن اعظمی اور شمس الرحمن فاروقی کی تحریروں میں بھی زیب غوری کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کے ’’نئے نام‘‘ اور ’’فنون‘‘ (غزل نمبر لاہور) میں بھی کہیں نظر نہیں آتے ہیں تاہم شمس الرحمن فاروقی نے بعد میں زیب غوری کی شاعری کی اہمیت اور فکری بصیرت اور ان کے شعری جہات و ابعاد پر ایک جامع اور بھرپور مضمون ’’شاخ اظہار کا نیا پھول: زیب غوری‘‘ لکھ کر تنقیدی بے اعتنائی کی تلافی کردی اور زیب شناسی کی نئی راہیں کھول دیں۔ بعض نقادوں نے زیب غوری کے شعری اسلوب پر غالب کے اثرات کی نشان دہی کی ہے اور یہ سچ ہے کہ ان کی پوری شاعری بالخصوص ان کے پہلے مجموعے ’’زرد زرخیز‘‘ کی شاعری پر غالب کے واضح اور نمایاں اثرات موجود ہیں۔ کہیں کہیں پورے مصرعے غالب کی یاد دلاتے ہیں تو کہیں لفظیات کی سطح پر اثر پذیری دیکھنے کو ملتی ہے۔زیب کی یہ اثر پذیری نہ صرف اسلوب کی سطح پر ہے بلکہ وہ فکری اعتبار سے بھی زیادہ قریب ہیں کیونکہ غالب کی طرح زیب غوری کائنات کو ایک عاشق یاعام انسان کی نگاہ سے دیکھنے کی بجائے ایک مفکر اور دانشور کی نگاہ سے دیکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اسی لیے غالب کی طرح زیب غوری بھی اپنی شاعری میں تخلیق کائنات کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں، وجود اور عدم کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، انسان، اس کے وجود اور تخلیق کائنات کے ابہام کو جاننے کے لیے بے چین رہتے ہیں، شاید اسی لیے زیب کے یہاں کتاب ماضی کے اوراق پارینہ کو کھولنے کی بار بار کوشش ملتی ہے۔ دراصل زیب کی پوری شاعری انسانی زندگی کے نشیب و فراز کی شاعری ہے اور زندگی صرف عصری مسائل و موضوعات کو محیط نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کا رشتہ ماضی سے بھی ہوتا ہے اسی لیے زیب کی شاعری میں موجودہ عہد کی زندگی کے آشوب کے ساتھ ساتھ ماضی کے عرفان اور اس کے شعور کا بھی اظہار ہوتا ہے۔

نمونہ کلام[ترمیم]

چمک رہی ہیں خلا میں ہزار دنیائیں== نہ جانے کون سے ذرے میں ہے وطن میرا

میں کون ہوں جو ہاتھ رنگوں اپنے خون سے== میرا وجود میرے لیے ننگ کیوں ہوا

ہوا چلی تھی ہر اک سمت اس کو پانے کی== نہ کچھ بھی ہاتھ لگا گرد جستجو کے سوا

اندھی ہوا کہاں سے اڑا لائی کیا خبر== کیاجانے زندگی ہے ورق کس کتاب کا

زیب غوری نے اپنی شاعری میں انفرادی حسیت== کے ساتھ موجودہ عہد کی زندگی کے آشوب کی بھی