زید بن اسلم عدوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
زید بن اسلم عدوی
معلومات شخصیت
رہائش مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ فقیہ،  محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

زید بن اسلم عدوی مدنی ، ابو اسامہ یا ابو عبداللہ انکی کنیت تھی۔ عمر ابن الخطاب کے غلام تھے، جو قرآن پاک ، حدیث اور فقہ کے بلند پایہ عالم تھے۔ مسجد نبوی میں درس حدیث دیا کرتے تھے۔ آپ کی شخصیت بڑی با رعب تھی۔ درس حدیث کے دوران کسی کو بولنے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔ آپ کا شمار تابعین میں ہوتا ہے۔جن کے اقوال تفسیر میں معتبر سمجھے جاتے تھے ۔

نام ونسب[ترمیم]

زید نام، ابو اسامہ کنیت، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی غلامی کا شرف رکھتے تھے۔

فضل وکمال[ترمیم]

زید اس بزرگ اور محترم ہستی کے غلام تھے۔ جس کے ادنی صحبت یافتہ علم و عمل کے پیکر بن گئے، زید تو خاص غلاموں میں تھے، انہوں نے آقا سے زیادہ آقا زادہ یعنی حضرت عبداللہ بن عمر کے سر چشمہ علم سے فیض حاصل کیا، ان کے فیضِ صحبت نے زید کو دولتِ علم سے مالا مال کردیا تھا اور ان کا شمار علماء مدینہ میں ہونے لگا تھا، حافظ ابن حجر لکھتے ہیں۔ [1]

تفسیر قرآن[ترمیم]

زید کو قرآن ،حدیث، فقہ، جملہ مذہبی علوم میں پورا درک تھا، وہ قرآن کی تفسیر کے بڑے عالم تھے، ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں، کان عالما بتفسیر القرآن [2]

حدیث[ترمیم]

حدیث میں بھی ان کے علم کا دائرہ وسیع تھا،علامہ ابن سعد لکھتے ہیں کان ثقۃ کثیر الحدیث [3] صحابہ میں انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ، انس بن مالکؓ، جابر بن عبداللہؓ، عائشہ صدیقہ، ربیعہ بن عبادہ وائلیؓ، سلمہ بن اکوع، اور تابعین میں ابو صالح السمان ، عطاء بن یسار ، حمران ، علی بن حسین، بسر بن سعید ، اعرج، عبدالرحمن بن دعلہ، عبدالرحمن بن سعید ، قعقاع بن حکیم، اور عیاض بن عبداللہ بن سعد وغیرہ سے سماع کیا تھا۔ [4] ان کے لڑکے عبداللہ، عبدالرحمن اور اسامہ، مالک بن انس، ابن عجلان، ابن جریج، سلیمان بن ہلال، حفص بن میسرہ، داؤد بن قیس الفراء ، ایوب سختیانی، جریر بن حازم، عبید اللہ بن عمر، ابن اسحق ، محمد بن جعفر بن ابی کثیر وغیرہ ان کے تلامذہ میں تھے۔ [5]

فقہ[ترمیم]

فقہ میں خصوصیت کے ساتھ زیادہ درک تھا، حافظ ذہبی، امام نووی، حافظ ابن حجر عسقلانی سب ان کو بالاتفاق فقیہ مدینہ لکھتے ہیں۔ [6]

حلقہ درس[ترمیم]

مسجد نبوی میں زید کا حلقہ درس تھا جس میں بڑے بڑے فقہاء اور اکابر مدینہ شریک ہوتے تھے،اعرج اس حلقہ کے ایک رکن تھے،بیان ہے کہ زید بن اسلم کے حلقۂ درس میں چالیس بڑے بڑے فقہاء شریک ہوتے تھے،ان میں باہم اتنی ہمدردی تھی کہ ہر شخص کا مال دوسرے کی ضرورت کے لیے وقف تھا، اس درس میں ایسی حدیثوں پر بحث و مباحثہ میں وقت ضائع نہیں کیا جاتا تھا، جس میں کوئی افادی پہلو نہ ہو۔ [7] امام زین العابدین اپنے خاندانی حلقہ کو چھوڑ کر اس حلقہ میں شریک ہوتے تھے نافع بن جبیر نے ان پر اعتراض کیا کہ آپ اپنی خاندانی مجلس کو چھوڑ کر ابن خطاب کے غلام کے درس میں شریک ہوتے ہیں،آپ نے جواب دیا آدمی اسی مجلس میں شریک ہوتا ہے جس سے اس کے دین کو کوئی فائدہ پہنچتا ہو۔ [8]

وقار وہیبت[ترمیم]

زید اگرچہ غلام تھے، لیکن ان کی علمی جلالت کی وجہ سے سب پر ان کی ہیبت چھائی رہتی تھی، مالک بن عجلان بیان کرتے ہیں کہ مجھ پر کسی کا اتنا رعب نہ تھا، جس قدر زید بن اسلم کا ہیبت سے لوگوں کو سوال کرنے اور پوچھنے تک کی ہمت نہ پڑتی تھی،جب ان کا دل چاہتا خود سے حدیثیں بیان کرتے ،جب خاموش ہو جاتے تو پھر کسی کو سوال کرنے کی ہمت نہ ہوتی۔ [9]

محبوبیت[ترمیم]

اس ہیبت کے ساتھ ان کو بڑی محبوبیت اور مقبولیت حاصل تھی وہ لوگوں کے محبوب القلوب تھے،ان کے صاحبزادے عبدالرحمن کا بیان ہے کہ میرے والد کبھی کبھی مجھ کو اپنے کسی ہم جلیس کے پاس کام سے بھیج دیتے تھے، یہ میرا سر چومتے اور سہلا کر کہتے خدا کی قسم تمہارے والد مجھے میری اولاد اور میرے گھر والوں سے بھی زیادہ محبوب ہیں، اگر خدا ان دونوں میں سے کسی ایک کو اٹھانا چاہے اور ہم کو انتخاب کا اختیار دے تو ہم زید کی زندگی اور سلامتی کے مقابلہ میں اپنی اولاد اور اپنے اہل وعیال کا اٹھ جانا پسند کریں گے۔ [10] ابو حازم دعا کیا کرتے تھے کہ خدایا مجھے زید کی موت کا دن نہ دیکھانا،ان کے سوا میری ذات اور میرے مذہب کے لیے کوئی پسندیدہ اور نفع بخش باقی نہیں رہا ہے۔ [11]

اخلاق[ترمیم]

علمی کمالات کے ساتھ زید اختلافی فضائل سے بھی آراستہ تھے، امام نووی لکھتے ہیں کہ وہ صالح تابعی تھے [12] ان کو ایک نظر دیکھ لینے سے عبادت کی قوت پیدا ہوتی تھی، ابو حازم کہتے تھے، خدایا تو خوب جانتا ہے کہ میں زید کو اس لیے دیکھتا ہوں کہ ان کو دیکھنے سے تیری عبادت کی طاقت آئی ہے، جب ان کی نظر کا یہ اثر ہے تو ان سے ملاقات اور گفتگو کا کیا اثر ہوگا۔ [13]

وفات[ترمیم]

آپ نے 132ھ میں انتقال کیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (فتح البای)
  2. (فتح الباری ایضاً)
  3. (ایضاً بحوالہ ابن سعد)
  4. (تہذیب التہذیب :۳/۳۹۵ وتہذیب الاسماء)
  5. (تہذیب التہذیب:۳/۳۹۵)
  6. (تذکرہ الحفاظ:۱/۱۱۸،وتہذیب التہذیب حوالہ مذکور)
  7. (تہذیب الاسماء،ج۱،ق۱،ص:۲۰۰)
  8. (تذکرہ الحفاظ:۱/۱۱۹)
  9. (تہذیب التہذیب:۳/۳۹۶)
  10. (تہذیب التہذیب:۳/۳۹۶)
  11. (تذکرہ الحفاظ:۱/۱۱۸)
  12. (تہذیب الاسماء،ج اول،ق اول،ص:۲۰۰)
  13. (تہذیب ایضاً)