زید بن ثابت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زید بن ثابت
(عربی میں: زيد بن ثابت ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 615  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 665 (49–50 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
نمایاں شاگرد محمد بن سیرین  ویکی ڈیٹا پر شاگرد (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ حافظ قرآن، مفسر قرآن، قاضی  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر مادری زبان (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی، عبرانی، سریانی زبان  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوہ خندق  ویکی ڈیٹا پر لڑائی (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

زید بن ثابت انصاری صحابی بڑے فقیہ ہیں، کاتب وحی ہیں۔

نام ونسب اور ابتدائی حالات[ترمیم]

زید نام،ابو سعید، ابوخارجہ،ابو عبد الرحمن کنیت، مقری، فرضی کاتب الوحی، جرالامت القاب،قبیلہ خزرج کے خاندان نجار سے ہیں، نسب نامہ یہ ہے زید بن ثابت بن ضحاک بن زید بن لوذان بن عمرو بن عبد بن عوف بن غنم بن مالک بن نجار، والدہ کا نام نوار بنت مالک بن معاویہ بن عدی تھا، جوانس بن مالک کے خاندان سے تھیں۔ انصار میں اسلام سے پہلے جو لڑائیاں ہوئی تھیں ان میں یوم بعاث سب سے زیادہ مشہور ہے،زید کے والد اسی لڑائی میں قتل ہوئے،یہ واقعہ ہجرت سے 5 سال قبل کا ہے اس وقت ان کی عمر کل6 برس کی تھی۔

اسلام[ترمیم]

اسلام مدینہ میں مسافر کی حیثیت سے تھا مصعب بن عمیر مبلغ اسلام، توحید ورسالت کا وعظ کہہ رہے تھے،زیدنے اسی صغر سنی میں اسلام قبول کیا، کسی انسان کا اگر بلوغ سے قبل ایمان لانا باعث فخر و مباہات ہو سکتا ہے، توزیدنے گیارہ سال کی عمر میں یہ فخر حاصل کیا اور ابتدا ہی سے ان کا دامن شرک کے داغ سے پاک رہا۔

غزوات میں شرکت[ترمیم]

زیدؓ کا سن 13سال کا تھا کہ غزوہ بدر پیش آیا، انصار ومہاجرین کا مجمع جب میدان جنگ کو روانہ ہوا تو 13برس کے اس بچہ نے بھی لڑائی کا عزم بالجزم کیا اور رسول اللہﷺ کے روبروبچوں کی ایک جماعت کے ساتھ پیش ہوئے،آپﷺ نے ان کی کم سنی پر نظر فرماکر واپس کر دیا۔ غزوۂ احد کی شرکت کے متعلق بھی اختلاف ہے بعض کا خیال ہے کہ غزوۂ خندق جو 5ھ میں واقع ہوا تھا، زیدؓ کا پہلا غزوہ تھا، اس وقت ان کا سن 16 سال کا تھا اور وہ شرکت جہاد کی عمر کے مطابق ہوچکے تھے۔ غزوۂ خندق میں وہ آنحضرتﷺ کے ہمراہ معرکہ کارزار میں موجود تھے اورخندق کھودنے والی جماعت میں شامل تھے اورمٹی نکال کر باہر لاتے تھے آنحضرتﷺ کی نظر پڑی تو فرمایا کیسا اچھا لڑکا ہے؟ اتفاق سے ان کو نیند آگئی،عمارہ بن حزم نے دیکھا تو مذاق سے ان کے ہتھیار اتار لیے،زید کو خبر نہ ہوئی، آنحضرتﷺ پاس تھے مزاحاً فرمایا"یا ابارقاد"یعنی اے نیند کے باپ اٹھ اور لوگوں کو منع فرمایا کہ اس قسم کا مذاق نہ کیا کریں۔ غزوۂ تبوک میں ان کے قبیلہ مالک بن نجارہ کا علم عمارہ بن حزم کے ہاتھ میں تھا، بعد میں آنحضرت ﷺ نے ان سے لے کر زیدکو عطا فرمایا، عمارہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مجھ سے کون سی خطا ہوئی ،فرمایا کچھ نہیں مجھے قرآن کا لحاظ مد نظر ہے،زید تم سے زیادہ قرآن پڑھ چکے ہیں۔ جنگ یمامہ میں جو ابوبکرکے عہدِ مبارک میں مسیلمہ کذاب سے ہوئی تھی زید شامل تھے اس میں ان کو ایک تیر لگا، لیکن جس کا کوئی صدمہ نہیں پہنچا۔

قرآن کا علم[ترمیم]

زید نے مسلمان ہوتے ہی قرآن پڑھنا شروع کیا،اس بنا پر لوگ ان کو نہایت عزت کی نظر سے دیکھتے تھے،جب آنحضرتﷺ مدینہ تشریف لائے،تویہ 17سورتوں کے حافظ ہوچکے تھے،لوگ ان کو آپ کی خدمت میں لے گئے اورکہا کہ یہ بنی نجار سے ہیں اور 17 سورتیں پڑھ چکے ہیں،آنحضرتﷺ سن کر بہت خوش ہوئے ،زیدؓ نے قرآن سنایا تو آپ کو بڑا تعجب ہوا۔ ، علم میراث کے امام ہیں، قرآن مجید جمع کرنے والی جماعت کے امیر ہیں کہ آپ نے اپنی جماعت کے ساتھ خلافت صدیقی میں قرآن مجید جمع کیا اور عہد عثمانی میں اسے مصاحف میں نقل فرمایا، آپ سے بڑی مخلوق نے احادیث روایت کیں، پچاس سال عمر پائی 45ہجری میں وفات ہوئی۔[1]

امارت مدینہ منورہ[ترمیم]

زیدمیں علمی و دینی کمالات کے ساتھ انتظامی قابلیت بھی تھی اوران پر اتنا اعتماد تھا کہ عمر نے جب مدینہ سے سفر کیا تو اپنا جانشین انہی کو مقرر کیا،حضرت عثمانؓ کا بھی یہی طرز عمل رہا، وہ جب حج کو مکہ معظمہ روانہ ہوتے تو زیدؓ کو کاروبار خلافت سپرد کرجاتے تھے۔ خلافت فاروقی میں زید کو تین مرتبہ عمر کی ہم نشینی کا فخر حاصل ہوا۔ 16 ھ اور 17ھ میں دو مرتبہ عمرکے حج کے موقع پر تیسری مرتبہ ان کے شام کے سفر کے زمانہ میں شام پہنچ کر زیدکو آپ نے جب خط لکھا تو اس میں زید کا نام اپنے نام سے پہلے تحریر کیا یعنی "الی زید بن ثابت من عمر بن الخطاب" ہر دفعہ زید نے خلافت کی ذمہ داریوں کو نہایت ہوشیاری اور مستعدی سے انجام دیا، عمران کے انتظام سے بہت خوش ہوتے اور واپس آکر ان کو کچھ جاگیر دیاکرتے تھے۔

وفات[ترمیم]

پچپن،چھپن سال کا سن مبارک تھا کہ پیام اجل آگیا اور 45ھ میں وفات پائی اس وقت تخت حکومت پر امیر معاویہ متمکن تھے اور مروان بن حکم مدینہ منورہ کا امیر تھا وہ زید سے دوستانہ تعلقات رکھتا تھا، چنانچہ اسی نے نماز جنازہ پڑھائی تمام لوگ سخت غمگین تھے، ابوہریرہ نے موت کی خبر سن کر کہا آج حبرالامۃ اٹھ گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مرأۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، مفتی احمد یار خان، جلد 8، صفحہ605