زید بن ثابت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
زید بن ثابت
Scribe، Theologian، Disciple of Muhammad
تاریخ پیدائش c. 610 C.E.
مکہ (?)
تاریخ وفات c. 660 C.E.
قابل احترام All اسلام
مؤثر شخصیات اسلام میں انبیاء اور رسول

زید بن ثابت انصاری صحابی بڑے فقیہ ہیں، کاتب وحی ہیں۔

نام ونسب اور ابتدائی حالات[ترمیم]

زید نام،ابو سعید، ابوخارجہ،ابو عبدالرحمن کنیت، مقری، فرضی کاتب الوحی، جرالامت القاب،قبیلہ خزرج کے خاندان نجار سےہیں، نسب نامہ یہ ہے زید بن ثابت بن ضحاک بن زید بن لوذان بن عمرو بن عبد بن عوف بن غنم بن مالک بن نجار، والدہ کا نام نوار بنت مالک بن معاویہ بن عدی تھا، جوانس بن مالک کے خاندان سے تھیں۔ انصار میں اسلام سے پہلے جو لڑائیاں ہوئی تھیں ان میں یوم بعاث سب سے زیادہ مشہور ہے،زید کے والد اسی لڑائی میں قتل ہوئے،یہ واقعہ ہجرت سے 5 سال قبل کا ہے اس وقت ان کی عمر کل6 برس کی تھی۔

اسلام[ترمیم]

اسلام مدینہ میں مسافر کی حیثیت سے تھا مصعب بن عمیر مبلغ اسلام، توحید ورسالت کا وعظ کہہ رہے تھے،زیدنے اسی صغر سنی میں اسلام قبول کیا، کسی انسان کا اگر بلوغ سے قبل ایمان لانا باعث فخر و مباہات ہوسکتا ہے، توزیدنے گیارہ سال کی عمر میں یہ فخر حاصل کیا اور ابتداء ہی سے ان کا دامن شرک کے داغ سے پاک رہا۔

غزوات میں شرکت[ترمیم]

زیدؓ کا سن 13سال کا تھا کہ غزوہ بدر پیش آیا، انصار ومہاجرین کا مجمع جب میدان جنگ کو روانہ ہوا تو 13برس کے اس بچہ نے بھی لڑائی کا عزم بالجزم کیا اور رسول اللہﷺ کے روبروبچوں کی ایک جماعت کے ساتھ پیش ہوئے،آپﷺ نے ان کی کم سنی پر نظر فرماکر واپس کردیا۔ غزوۂ احد کی شرکت کے متعلق بھی اختلاف ہے بعض کا خیال ہے کہ غزوۂ خندق جو 5ھ میں واقع ہوا تھا، زیدؓ کا پہلا غزوہ تھا، اس وقت ان کا سن 16 سال کا تھا اور وہ شرکت جہاد کی عمر کے مطابق ہوچکے تھے۔ غزوۂ خندق میں وہ آنحضرتﷺ کے ہمراہ معرکہ کارزار میں موجود تھے اورخندق کھودنے والی جماعت میں شامل تھے اورمٹی نکال کر باہر لاتے تھے آنحضرتﷺ کی نظر پڑی تو فرمایا کیسا اچھا لڑکا ہے ؟ اتفاق سے ان کو نیند آگئی،عمارہ بن حزم نے دیکھا تو مذاق سے ان کے ہتھیار اتار لئے،زید کو خبر نہ ہوئی، آنحضرتﷺ پاس تھے مزاحاً فرمایا"یا ابارقاد"یعنی اے نیند کے باپ اٹھ اور لوگوں کو منع فرمایا کہ اس قسم کا مذاق نہ کیا کریں۔ غزوۂ تبوک میں ان کے قبیلہ مالک بن نجارہ کا علم عمارہ بن حزم کے ہاتھ میں تھا، بعد میں آنحضرت ﷺ نے ان سے لے کر زیدکو عطا فرمایا، عمارہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مجھ سے کون سی خطا ہوئی ،فرمایا کچھ نہیں مجھے قرآن کا لحاظ مد نظر ہے،زید تم سے زیادہ قرآن پڑھ چکے ہیں۔ جنگ یمامہ میں جو ابوبکرکے عہدِ مبارک میں مسیلمہ کذاب سے ہوئی تھی زید شامل تھے اس میں ان کو ایک تیر لگا، لیکن جس کا کوئی صدمہ نہیں پہنچا۔

قرآن کا علم[ترمیم]

زید نے مسلمان ہوتے ہی قرآن پڑھنا شروع کیا،اس بناء پر لوگ ان کو نہایت عزت کی نظر سے دیکھتے تھے،جب آنحضرتﷺ مدینہ تشریف لائے،تویہ 17سورتوں کے حافظ ہوچکے تھے،لوگ ان کو آپ کی خدمت میں لے گئے اورکہا کہ یہ بنی نجار سے ہیں اور 17 سورتیں پڑھ چکے ہیں،آنحضرتﷺ سن کر بہت خوش ہوئے ،زیدؓ نے قرآن سنایا تو آپ کو بڑا تعجب ہوا۔ ، علم میراث کے امام ہیں، قرآن مجید جمع کرنے والی جماعت کے امیر ہیں کہ آپ نے اپنی جماعت کے ساتھ خلافت صدیقی میں قرآن مجید جمع کیا اور عہد عثمانی میں اسے مصاحف میں نقل فرمایا، آپ سے بڑی مخلوق نے احادیث روایت کیں، پچاس سال عمر پائی 45ہجری میں وفات ہوئی۔[1]

امارت مدینہ منورہ[ترمیم]

زیدمیں علمی و دینی کمالات کے ساتھ انتظامی قابلیت بھی تھی اوران پر اتنا اعتماد تھا کہ عمر نے جب مدینہ سے سفر کیا تو اپنا جانشین انہی کو مقرر کیا،حضرت عثمانؓ کا بھی یہی طرز عمل رہا، وہ جب حج کو مکہ معظمہ روانہ ہوتے تو زیدؓ کو کاروبار خلافت سپرد کرجاتے تھے۔ خلافت فاروقی میں زید کو تین مرتبہ عمر کی ہم نشینی کا فخر حاصل ہوا۔ 16 ھ اور 17ھ میں دو مرتبہ عمرکے حج کے موقع پر تیسری مرتبہ ان کے شام کے سفر کے زمانہ میں شام پہنچ کر زیدکو آپ نے جب خط لکھا تو اس میں زید کا نام اپنے نام سے پہلے تحریر کیا یعنی "الی زید بن ثابت من عمر بن الخطاب" ہر دفعہ زید نے خلافت کی ذمہ داریوں کو نہایت ہوشیاری اور مستعدی سے انجام دیا، عمران کے انتظام سےبہت خوش ہوتے اور واپس آکر ان کو کچھ جاگیر دیاکرتے تھے۔

وفات[ترمیم]

پچپن،چھپن سال کا سن مبارک تھا کہ پیام اجل آگیا اور 45ھ میں وفات پائی اس وقت تخت حکومت پر امیر معاویہ متمکن تھے اور مروان بن حکم مدینہ منورہ کا امیر تھا وہ زید سے دوستانہ تعلقات رکھتا تھا، چنانچہ اسی نے نماز جنازہ پڑھائی تمام لوگ سخت غمگین تھے، ابوہریرہ نے موت کی خبر سن کر کہا آج حبرالامۃ اٹھ گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مرأۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، مفتی احمد یار خان، جلد 8، صفحہ605