زینب بنت علی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(زینب سلام اللہ علیہا سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
زینب بنت علی

عربی:زينب بنت علي بن أبي طالب

دمشق میں سیدہ زینب کا مزار، شام
زينب الكبرىٰ، الحوراء، العالمة غيرالمعلمہ، بطلہ كربلاء
ولادت بدھ 5 جمادی الاول / یکم اکتوبر 626ء
مدینہ منورہ، حجاز، موجودہ سعودی عرب
وفات ہفتہ 15 رجب 62ھ/ 29 مارچ 682ء

(مدت حیات: 57 سال 2 ماہ 10 دن قمری،
55 سال 5 ماہ 28 دن شمسی)
دمشق، خلافت امویہ، موجودہ شام

قابل احترام آپ سنی اور شیعہ دونوں کے ہاں قابل احترام ہیں۔
شیعہ آپ کے متعلق ایک حد تک عصمت کا عقیدہ رکھتے ہیںمنتخب مضمون 
نسب علی بن ابی طالب (والد)

علی بن ابی طالب (والدہ)
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم (نانا)
خدیجہ بنت خویلد (نانی)
ام کلثوم، زینب اور رقیہ (خالہ)
قاسم بن محمد و عبد اللہ (ماموں)
حسن و حسین (بھائی)
ام كلثوم (بہن)

مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

اولادِ محمد

حضرت محمد کے بیٹے

قاسم _ عبداللہ _ ابراھیم

حضرت محمد کی بیٹیاں

فاطمہ _ زینب _ ام کلثوم
رقیہ

حضرت فاطمہ کی اولاد
بیٹے

حسن _ حسین

حضرت فاطمہ کی اولاد
بیٹیاں

زینب _ ام کلثوم


حضرت زینب بنت علی (پیدائش: یکم اکتوبر 626ء– وفات: 29 مارچ 682ء) امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی بیٹی یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نواسی تھیں۔ واقعہ کربلا کی سب سے نمایاں خاتون تھیں۔

القاب[ترمیم]

تاریخی کتابوں میں آپ کے ذکر شدہ القاب کی تعداد 61 ہے۔ ان میں سے کچھ مشہور القاب درج ذیل ہیں:

ثانیِ زہرا، عالمہ غیر معلمہ، نائبۃ الزھراء، عقیلہ بنی ہاشم، نائبۃ الحسین، صدیقہ صغری، محدثہ، زاہدہ، فاضلہ، شریکۃ الحسین، راضیہ بالقدر والقضاء

مختصر حالات[ترمیم]

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت کرنے اور ان سے سیکھنے کا موقع ملا۔ جب وہ سات سال کی تھیں تو ان کے نانا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا انتقال ہو گیا۔ اس کے تقریباً تین ماہ بعد حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا بھی انتقال فرما گئیں۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شادی حضرت عبداللہ بن جعفر طیار علیہ السلام سے ہوئی۔ ان کے پانچ بچے ہوئے جن میں سے حضرت عون اور حضرت محمد کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ شہید ہو گئے۔

سانحہ کربلا اور اس کے بعد[ترمیم]

سانحہ کربلا[ترمیم]

خود حضرت زینب سلام اللہ علیہا کربلا میں موجود تھیں۔ واقعہ کربلا کے بعد حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا کردار بہت اہم ہے۔ واقعہ کربلا کے بعد وہ دمشق لے جائی گئیں جہاں یزید کے دربار میں دیا گیا ان کا خطبہ بہت مشہور ہے۔ آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا۔

اے یزيد اگر چہ حادثات زمانہ نے ہمیں اس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے اور مجھے قیدی بنایا گیا ہے لیکن جان لے میرے نزدیک تیری طاقت کچھ بھی نہیں ہے۔ خدا کی قسم، خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتی اس کے سوا کسی اور سے گلہ و شکوہ بھی نہیں کروں گی۔ اے یزید مکر و حیلے کے ذریعہ تو ہم لوگوں سے جتنی دشمنی کر سکتا ہے کر لے۔ ہم اہل بیت پیغمبر (ص) سے دشمنی کے لئے تو جتنی بھی سازشیں کرسکتا ہے کر لے لیکن خدا کی قسم تو ہمارے نام کو لوگوں کے دل و ذہن اور تاریخ سے نہیں مٹا سکتا اور چراغ وحی کو نہیں بجھا سکتا تو ہماری حیات اور ہمارے افتخارات کو نہیں مٹا سکتا اور اسی طرح تو اپنے دامن پر لگے ننگ و عار کے بدنما داغ کو بھی نہیں دھوسکتا، خدا کی نفرین و لعنت ہو ظالموں اور ستمگروں پر۔

ان مظالم کو بیان کر کے جو یزید نے کربلا کے میدان میں اہل بیت رسول(ع) پر روا رکھے تھے؛ حضرت زینب (ع) نے لوگوں کو سچائی سے آگاہ کیا۔ آپ کے خطبہ کے سبب ایک انقلاب برپا ہوگيا جو بنی امیہ کی حکومت کے خاتمے کے ابتدا تھی۔

وفات[ترمیم]

سیدہ زینب کا انتقال ہفتہ 15 رجب 62ھ/ 29 مارچ 682ء کو دمشق، موجودہ شام میں ہوا اور وہیں آپ کی تدفین کی گئی۔ آپ کی مدتِ حیات بوقت وفات57 سال 2 ماہ 10 دن قمری اور 55 سال 5 ماہ 28 دن شمسی تھی۔ آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔

دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]