زین العابدین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زین العابدین
(عربی میں: زين العابدين خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
AliSajjadSVG.svg 

معلومات شخصیت
پیدائش 4 جنوری 659  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کوفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 20 اکتوبر 713 (54 سال) اور 20 اکتوبر سنہ 714 (54–55 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات زہر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
مدفن جنت البقیع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Umayyad Flag.svg سلطنت امویہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ فاطمہ بنت حسن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد محمد باقر،  زید بن علی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد حسین ابن علی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ شہربانو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
عملی زندگی
استاد حسین ابن علی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
نمایاں شاگرد محمد باقر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ الٰہیات دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں دمشق میں زین العابدین کا خطبہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں سانحۂ کربلا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر
جنت البقیع کا تاریخی مقبرہ جہاں زین العابدین مدفون تھے، سنہ 1925ء میں مسمار کر دیا۔

علی بن حسین (پیدائش: 4 جنوری 659ء — وفات: 20 اکتوبر 713ء) جو زین العابدین (عابدوں کی زینت) اور امام الساجدین (سجدہ کرنے والوں کا امام) کے نام سے مشہور ہیں، اپنے والد حسین ابن علی، چچا حسن ابن علی اور دادا علی بن ابی طالب کے بعد اثنا عشری میں چوتھے امام اور اسماعیلی شیعیت میں تیسرے امام مانے جاتے ہیں۔ علی بن حسین سانحۂ کربلا میں موجود تھے، اس وقت ان کی عمر 23 یا 25 سال تھی، لیکن بیماری کی وجہ سے لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ یہ اس سانحے میں بچ جانے والے واحد مرد تھے۔ ان کو دمشق میں یزید کے سامنے لے جایا گیا، کچد دن بعد ان کو دیگر خواتین کے ساتھ واپس مدینہ جانے دیا گیا، جہاں انھوں نے چند اصحاب کے ساتھ خاموشی سے زندگی بسر کی۔ ان کی زندگی اور بیانات مکمل طور پر طہارت اور مذہبی تعلیمات کے لیے وقف تھے، جو زیادہ تر دعاؤں اور التجاؤں کی شکل میں ہوتے۔ ان کی مشہور مناجات صحیفہ سجادیہ کے نام سے معروف ہے۔[6]


علی بن حسین بن علی بن ابی‌طالب (38-95ھ) جو امام سجاد اور زین العابدین کے نام سے مشہور ہیں، اہلسنت کے چوتھے امام اور امام حسین کے فرزند ہیں۔ آپ 35 سال امامت کے عہدے پر فائز رہے۔ امام سجادؑ واقعہ کربلا میں حاضر تھے لیکن بیماری کی وجہ سے جنگ میں حصہ نہیں لیا۔ امام حسینؑ کی شہادت کے بعد عمر بن سعد کے سپاہیوں نے آپ کو اسیران کربلا کے ساتھ کوفہ اور شام لے گیا۔ کوفہ اور شام میں آپ کے دئے گئے خطبات کے باعث لوگ اہل بیت کے مقام و منزلت سے زیادہ آگاہ ہوئے۔

واقعہ حرہ، تحریک توابین اور قیام مختار آپ کے دور امامت میں رو نما ہوئے۔ امام سجادؑ کی دعاؤوں اور مناجات کو صحیفہ سجادیہ میں جمع کیا گیا ہے۔ خدا اور خلق خدا کی نسبت انسان کی ذمہ داریوں سے متعلق کتاب، رسالۃ الحقوق بھی آپ سے منسوب ہے۔

شیعہ احادیث کے مطابق امام سجادؑ کو ولید بن عبد الملک کے حکم سے مسموم کر کے شہید کیا گیا۔ آپ امام حسن مجتبیؑ، امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ کے ساتھ قبرستان بقیع میں مدفون ہیں۔اہلسنت وجماعت بریلوی مسلک کے مشہور عالم دین امام احمدرضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے منظوم دعائیہ شجرہ قادریہ برکاتیہ میں حضرت سیدنا امام زین العابدین کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے۔

سید سجاد کے صدقے میں ساجد رکھ مجھے

علم حق کے باقر علم ہدیٰ کے واسطے

بعض لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ شیعہ مذہب کے بارہ اماموں سے اہلسنت کا کوئی تعلق نہیں یہ بات بالکل غلط ہے حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ بارہ اماموں کا تعلق اہلسنت سے تھا اور اہلسنت مذکورہ اماموں کے عرس و ایام انتہائی عقیدت و محبت سے مناتے ہیں۔ نیز ان بارہ اماموں کی تعلیمات پر عمل کرنے والوں کو ہی اہلسنت کہا جاتا ہے۔

نسب، لقب، کنیت[ترمیم]

علی بن حسین بن علی بن ابی طالب، معروف بہ امام سجاد اور امام زین العابدین، شیعیان آل رسول(ص) کے چوتھے امام اور سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے فرزند ہیں۔

اختلافی مسائل میں سے ایک آپ کی والدہ شہربانو کا نام اور نسب ہے۔ آپ کی والدہ کے لیے متعدد نام نقل ہوئے ہیں اور شہر بانو، شہر بانویہ، شاہ زنان اور جہان شاہ ان ہی ناموں میں شامل ہیں۔

بعض محققین یزدگر کی بیٹی شہر بانو کو امام سجاد کی والدہ تسلیم نہیں کرتے ہیں اور دلائل و قرائن کی بنا پر ایسی روایات کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت امام سجاد علیہ السلام کی والدہ ان اوصاف کی مالک نہیں تھیں۔[7]

امام سجاد(ع) اپنے زمانے میں علي الخیر، علي الاصغر اور علي العابد کے نام سے مشہور تھے۔ [8]

کنیت و لقب[ترمیم]

امام علی بن الحسین(ع) کی کنیات "ابو الحسن"، "ابو الحسین"، "ابو محمّد" اور "ابو عبد اللہ" ہیں۔ [9]

آپ کے القاب میں زین العابدین، سید الساجدین، سجاد، ہاشمی، علوی، مدنی، قرشی اور علی اکبر شامل ہیں۔[10]

زین العابدین : ابن عباس کی رسول خدا سے منقول روایت کے مطابق قیامت کے دن منادی ندا دے گا: زین العابدین کہاں ہے .....تو گویا میں صفوف کے درمیان علی بن الحسین کے چلتا ہوا دیکھ رہا ہوں ۔[11] دیگر روایت کے مطابق ایک شب آپ محراب عبادت میں عبادت الہی میں مصروف تھے کہ شیطان ایک سانپ کی شکل میں ظاہر ہو کر آپکو عبادت الہی سے منحرف کرنے کی کوشش کی لیکن آپ کی خدا کی جانب توجہ میں کوئی فرق نہیں پڑا تو غیب سے منادی نے تین مرتبہ ندا دی: انت زین العابدین......۔[12]

"ذوالثَّفنات" آپ کے دیگر القاب میں سے ہے جو امام سجاد(ع) کو دیا گیا ہے (کیونکہ عبادت اور نماز و سجود کی کثرت کی وجہ سے آپ کے اعضائے سجدہ (مساجد) پر اونٹ کے گھٹنوں کی طرح گھٹے پڑ گئے تھے)۔[13]

انگشتریوں کے نقش[ترمیم]

امام سجاد علیہ السلام کی انگشتریوں کے لیے تین نقش منقول ہیں:

آپ(ع) امام حسین(ع) کی وہ انگشتری پہن لیا کرتے تھے جس پر "إِنَ‏ اللَّهَ‏ بالِغُ‏ أَمْرِه" (یعنی خداوند متعال اپنا امر و فرمان انجام تک پہنچا دیتا ہے) کا نقش تھا۔[14] آپ(ع) کی دوسری انگشتریوں کے نقش "وَما تَوْفِیقِی‏ إِلَّا بِاللَّه"،[15] اور"خَزِی‏ وَشَقِی‏ قَاتِلُ الْحُسَینِ بْنِ عَلِی"۔[16]۔[17]

ولادت اور شہادت[ترمیم]

امام سجاد(ع):

"وَ أَمّا حَقّ وَلَدِكَ فَتَعْلَمُ أَنّهُ مِنْكَ وَمُضَافٌ إِلَيْكَ فِي عَاجِلِ الدّنْيَا بِخَيْرِهِ وَشَرّهِ وَأَنّكَ مَسْئُولٌ عَمّا وُلّيتَهُ مِنْ حُسْنِ الْأَدَبِ وَالدّلَالَةِ عَلَى رَبّهِ وَالْمَعُونَةِ لَهُ عَلَى طَاعَتِهِ فِيكَ وَفِي نَفْسِهِ فَمُثَابٌ عَلَى ذَلِكَ وَمُعَاقَبٌ"۔
(ترجمہ: اور تم پر تمہاری اولاد کہ حق یہ ہے کہ تم جان لو کہ وہ تم سے ہے اور اس دنیا کی نیکی اور بدی میں میں تم سے پیوستہ ہے۔ اور تم ـ خدا کے حکم کے مطابق، اس پر اپنی ولایت کے پیش نظر، اس کی عمدہ پرورش کرنے، نیک آداب سکھانے اور خدائے عزوجل کی طرف راہنمائی کرنے اور خدا کی فرمانبرداری میں اس کی مدد کرنے میں اپنے حوالے سے بھی اور اس کے حوالے سے بھی، جوابدہ ہو؛ اور اس ذمہ داری کے عوض جزا اور سزا پاؤگے۔

رسالۂ حقوق امام سجاد(ع) شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، جلد 2 صفحہ 621 کے بعد۔

ولادت[ترمیم]

مشہور قول کے مطابق امام سجاد(ع) سنہ 38 ہجری[18] میں پیدا ہوئے نیز33ہجری قمری 36 ہجری قمری [19] اور37 ہجری قمری [20] بھی منقول ہیں ۔

ولادت کا مہینہ جمادی الثانی [21] میں جمعہ[22] یا جمعرات [23] کا دن اور تاریخ 15 [24] ذکر کی جاتی ہے جبکہ 9 شعبان[25] اور 5 شعبان[26] بھی نقل ہوئی ہے۔

ائمہ طاہرین میں سے حضرت علی ع کے ساتھ 2 سال،[27] ، حضرت امام حسن کے ساتھ 10 سال ،[28] یا 12سال[29]، حضرت امام حسین ع کے ساتھ 10 سال[30] اور 11سال [31] کے ساتھ رہنے کی مدت منقول ہے۔اپنے والد کی شہادت کے بعد34 [32] یا35 سال[33] زندہ رہے ۔ِآپ کا مقام ولادت اتفاقی طور پر مدینہ مذکور ہے ۔

نام ونسب[ترمیم]

زین العابدین کے لقب سے معروف کی نسبت خاندان نبوت کی طرف ہے، یہ علی بن ابی طالب کے صاحبزادے سیدنا حسین کے بیٹے ہیں، علی بن حسین ان کا نام ہے، قرشی اور ہاشمی ہیں، ابوالحسن ان کی کنیت ہے، ابو الحسن، ابو محمد اور ابو عبد اللہ بھی کہا جاتا ہے۔[34] سیدنا امام حسین پنے والدِ ماجدعلی سے اظہارِ عقیدت کے لیے اپنے بچوں کے نام علی رکھتے تھے۔ اسی مناسبت سے زین العابدین کا نام بھی علی ہے اور کنیت ابومحمد ،ابوالحسن، ابوالقاسم اور ابوبکر ہے،جبکہ کثرتِ عبادت کے سبب آپ کا لقب سجاد ،زین العابدین، سیدالعابدین اور امین ہے ۔[35]

ولادت با سعادت[ترمیم]

علی ابن حسین کی ولادت علامہ ذہبی نے [36]میں یعقوب بن سفیان فسوی سے نقل کیا ہے کہ علی بن حسین 33 ہجری میں پیدا ہوئے، لیکن [37] میں علامہ موصوف نے یہ لکھا ہے کہ (شاید) ان کی پیدائش38 ہجری میں ہوئی ہے، علامہ ابوالحجاج جمال الدین یوسف مزّی نے بھی [38] یعقوب بن سفیان سے سن ولادت33 ہجری نقل کیا ہے اور یہی راجح ہے۔

والدہ کا نام[ترمیم]

علی بن حسین کی والدہ کا نام سلامہ یا سلافہ ہے، جو اس وقت کے شاہ فارس یزدجرد کی بیٹی تھیں، سیدنا عمر فاروق کے زمانہٴ خلافت میں ایران فتح ہوا تو یہ لونڈی بنالی گئی تھی۔،[39] ابن سعد نے اس کا نام ” غزالہ“ نقل کیا ہے [40] بعض حضرات کہتے ہیں کہ ان کی والدہ خلیفہ یزید بن ولید بن عبد الملک کی پھوپی تھی۔[41] آپ کی والدہ کا نام شہر بانو تھا جو ایران کے بادشاہ یزدگرد سوم کی بیٹی تھیں جو نوشیروان عادل کا پوتا تھا۔

علی اوسط کا نام[ترمیم]

ان کو علی اوسط کہا جاتا ہے، ان کے دوسرے بھائی جوان سے عمر میں بڑے تھے، ان کو علی اکبر کہا جاتا تھا، جو معرکہٴ کربلا میں اپنے والد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ اہل کوفہ کے ہاتھوں شہید ہو گئے تھے۔[42]علی اوسط یعنی علی بن حسین المعروف زین العابدین رحمة اللہ علیہ بھی اپنے والد گرامی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ معرکہٴ کربلا میں شریک تھے۔[43]

کربلا میں بچ جانے کی وجہ[ترمیم]

اس وقت ان کی عمر 23 یا 25 برس تھی، اس موقع پر یہ بیمار اور صاحب فراش تھے، جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو شمر نے کہا کہ اسے بھی قتل کر دو، شمر کے ساتھیوں میں سے کسی نے کہا : سبحان اللہ! کیا تم ایسے جوان کو قتل کرنا چاہتے ہو جو مریض ہے اور اس نے ہمارے خلاف قتال میں شرکت بھی نہیں کی؟ اتنے میں عمروبن سعد بن ابی وقاص آیا او ر کہا کہ ان عورتوں اور اس مریض یعنی علی اوسط سے کوئی تعرض نہ کرے، اس کے بعد ان کووہاں سے دمشق لایا گیا اورعزت کے ساتھ ان کو مع اہل مدینہ منورہ واپس روانہ کر دیا گیا۔[44]

زین العابدین اورحضرات خلفائے راشدین[ترمیم]

ابو حازم کہتے ہیں کہ علی بن حسین سے کسی نے پوچھا کہ حضرت ابوبکر وعمر کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک کیا مرتبہ تھا؟ انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہٴ مبارک کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: جو تقرب ان کو آج اس روضہ میں حاصل ہے ایسا ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی تھا۔[45] محمد بن علی بن حسین نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ ان کے پاس عراق سے کچھ لوگ آئے او رانھوں نے ابو بکر وعمر کا تذکرہ سبّ وشتم کے ساتھ کیا اور حضرت عثمان کی شان میں گستاخی کرنے لگے، (والعیاذ باللہ)حضرت علی بن حسین نے ان عراقیوں سے کہا: کیا تم ان مہاجرین اولین میں سے ہو جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا:﴿لِلْفُقَرَاء الْمُہَاجِرِیْنَ الَّذِیْنَ أُخْرِجُوا مِن دِیْارِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنَ اللَّہِ وَرِضْوَاناً وَیَنصُرُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ أُوْلَئِکَ ہُمُ الصَّادِقُون﴾َ ․ (الحشر:8) اہل عراق نے کہا: ہم ان لوگوں میں سے نہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے۔ حضرت علی بن حسین نے پھر کہا: کیا تم لوگ ان لوگوں میں سے ہو جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا:﴿وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُوا الدَّارَ وَالإِیْمَانَ مِن قَبْلِہِمْ یُحِبُّونَ مَنْ ہَاجَرَ إِلَیْْہِمْ وَلَا یَجِدُونَ فِیْ صُدُورِہِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَیُؤْثِرُونَ عَلَی أَنفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَةٌ وَمَن یُوقَ شُحَّ نَفْسِہِ فَأُوْلٰئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ ․(الحشر:9) اہل عراق نے کہا، ہم ان لوگوں میں سے بھی نہیں جن کے بارے میں اللہ نے یہ ارشاد فرمایا ہے۔ اس کے بعد حضرت زین العابدین نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں نے خود اقرار کیا کہ تم آیات میں مذکور دونوں فریقوں میں سے نہیں اور میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ تم ان لوگوں میں سے بھی نہیں جن کے بارے میں اللہ نے یہ ارشاد فرمایا:﴿وَالَّذِیْنَ جَاؤُوا مِن بَعْدِہِمْ یَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلإِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُونَا بِالْإِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوبِنَا غِلّاً لِّلَّذِیْنَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّکَ رَؤُوفٌ رَّحِیْمٌ﴾․(الحشر:10)، پھرفرمایا:تم لوگ میرے پاس سے اٹھ جاوٴ، اللہ تمھارا گھر قریب نہ کرے،تم اپنے آپ کو اسلام کے لبادے میں چھپاتے ہو جب کہ تم اہل اسلام میں سے نہیں ہو۔[46] جعفر بن محمد نے اپنے والد سے نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے والدکے پاس ایک آدمی آیا او رکہنے لگا مجھے ابوبکر وعمر کے بارے میں بتائیں۔ انھوں نے فرمایا: صدیق کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ اس آدمی نے کہا آپ انہیں”صدیق“ کہہ رہے ہیں؟ انھوں نے فرمایا: تیری ماں تجھے گم کر دے! مجھ سے بہتر یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم او رمہاجرین وانصار نے ان کو ”صدیق“ کہا ہے، پس جو ان کو صدیق نہ کہے، اللہ اس کی بات کو سچا نہ کرے، جاؤ! ابوبکر وعمر سے محبت کرو اور انھیں عزیز رکھو، اس کی تمام ذمہ داری میری گردن پر ہے۔[47]یحییٰ بن سعید کہتے ہیں علی بن حسین المعروف زین العابدین رحمة اللہ علیہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! حضرت عثمان کو ناحق شہید کیا گیا ہے۔[48]

تحصیل علم اور علمی مقام[ترمیم]

زین العابدین نے کبار صحابہٴ کرام وتابعین عظام سے کسب فیض کیا، آپ نے امہات المومنین میں سے حضرت عائشہ، حضرت ام سلمہ، حضرت صفیہ، اپنے والد حضرت حسین، اپنے چچا حضرت حسن، حضرت ابوہریرہ، حضرت ابن عباس اور ابو رافع، مسور بن مخرمہ، زینب بنت ابی سلمہ، سعید بن مسیب، سعید بن مرجانہ، مروان بن حکم، ذکوان، عمروبن عثمان بن عفان اور عبید اللہ بن ابی رافع وغیرہ سے حدیث شریف کا علم حاصل کیا او راپنے جدا مجد حضرت علی سے بھی مرسل روایت کرتے ہیں۔[49] ابن عساکرمیں ہے کہ نافع بن جبیر نے علی بن حسین سے کہا: آپ ہمارے علاوہ دوسرے لوگوں کے پاس ( تحصیل علم کی خاطر ) بیٹھتے ہیں؟ علی بن حسین نے جواباً فرمایا: میں ان لوگوں کی مجلس میں بیٹھتا ہوں جن سے مجھے دینی فائدہ پہنچے ۔[50] ابن سعد نے اپنی سند کے ساتھ ہشام بن عروہ سے نقل کیا ہے کہ علی بن حسین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم کی مجلس میں ( تحصیل علم کے لیے ) بیٹھا کرتے تھے، ان سے کہاگیا کہ آپ قریش کو چھوڑ بنی عدی کے ایک غلام کے پاس بیٹھتے ہیں؟ تو انھوں نے فرمایا: آدمی کوجہاں فائدہ پہنچے وہاں بیٹھتا ہے۔[51] ابو نعیم نے حلیہ میں عبد الرحمن بن ازدک سے نقل کیا ہے کہ علی بن حسین مسجد میں آتے، لوگوں کے درمیان میں سے ہوتے ہوئے زید بن اسلم کے حلقے میں تشریف لے جاتے، نافع بن جبیر نے ان سے کہا: اللہ آپ کی مغفرت کرے! آپ لوگوں کے سردار ہیں، لوگوں کی گردنوں کو پھلانگ کر اس غلام کے حلقے میں بیٹھتے ہیں؟ علی بن حسین نے فرمایا: علم کو طلب کیا جاتا ہے او راس کے لیے آیا جاتا ہے او راسے حاصل کیا جاتا ہے جہاں وہ ہو۔[52] ابن سعد نے اپنی سند کے ساتھ یزید بن حازم سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن حسین او رسلیمان بن یاسر کو منبر اور روضہ شریف کے درمیان میں چاشت کے وقت تک علمی مذاکرہ کرتے ہوئے دیکھا، جب اٹھنے کا ارادہ ہوتا تو عبد اللہ بن ابی سلمہ قرآن پاک کی کوئی سورت تلاوت کرتے، اس کے بعد یہ حضرات دعا مانگتے تھے۔[53] علی بن حسین سے بہت سارے تابعین عظام نے فیض حاصل کیا ہے، آپ سے حدیث شریف کی روایت کرنے والوں میں ان کے چار بیٹے ابو جعفر محمد، عمر بن علی بن حسین، زید بن علی بن حسین، عبد اللہ بن علی بن حسین، ان کے علاوہ ابن شہاب زہری، عمر وبن دینار، حکم بن عیینہ، زید بن اسلم، یحییٰ بن سعید، ہشام بن عروہ، ابوحازم، محمدبن فرات تمیمی، عاصم بن عبید اللہ بن عامر بن عمر بن خطاب اور یحییٰ بن سعید انصاری رحمہم اللہ وغیرہ شامل ہیں۔[54] آپ سفید رنگ کا عمامہ پہنا کرتے تھے او راس کا شملہ پشت یعنی کمر کی جانب لٹکا دیتے تھے۔[55]


دلائل امامت[ترمیم]

عاشورا سنہ 61ہجری کو امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے ساتھ ہی امام سجاد(ع) کی امامت کا آغاز ہوتا ہے اور آپ کا دوران امامت سنہ 94 یا 95 ہجری میں آپ کی شہادت تک جاری رہتا ہے۔

کتب حدیث میں شیعہ محدثین کی منقولہ نصوص کے مطابق امام سجاد(ع) اپنے والد امام حسین علیہ السلام کے جانشین ہیں۔[56] علاوہ ازیں رسول اللہ(ص) سے متعدد احادیث منقول ہیں جن میں 12 آئمۂ شیعہ کے اسماء گرامی ذکر ہوئے ہیں اور یہ احادیث امام علی بن الحسین زین العابدین علیہ السلام سمیت تمام ائمہ(ع) کی امامت و خلافت و ولایت کی تائید کرتی ہیں۔[57]

نیز شیعہ نصوص کے مطابق رسول اللہ(ص) کی تلوار اور زرہ وغیرہ کو ائمہ کے پاس ہونا چاہیے اور یہ اشیاء ہمارے شیعہ ائمہ کے پاس تھیں حتی کہ اہل سنت کے کتابوں میں اس امر پر صراحت کی گئی ہے رسول خدا(ص) کی یہ اشیا امام سجاد(ع) کے پاس تھیں۔ [58]

علاوہ ازیں امام سجاد(ع) ملت تشیع نے امام کے طور پر قبول کیا اور آپ کی امامت آپ کی امامت کے آغاز سے آج تک مقبول عام ہے جو خود اس حقیقی جانشینی کا بیِّن ثبوت ہے۔

معاصر سلاطین[ترمیم]

  1. یزید بن معاویہ (61- 64ہجری)
  2. عبد اللہ بن زبیر (61-73ہجری)
  3. معاویہ بن یزید (چند ماه از سال 64ہجری).
  4. مروان بن حَکَم (نه ماه از سال 65ہجری).
  5. عبد الملک بن مروان (65- 86ہجری).
  6. ولید بن عبد الملک (86- 96ہجری).[59]

علم اور حدیث میں آپ کا رتبہ[ترمیم]

علم اور حدیث کے حوالے سے آپ کا رتبہ اس قدر بلند ہے کہ حتی اہل سنت کی چھ اہم کتب صحاح ستہ "صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع الصحیح، ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی سنن ابن ماجہ نیز مسند ابن حنبل سمیت اہل سنت کی مسانید" میں آپ سے احادیث نقل کی گئی ہیں۔ بخاری نے اپنی کتاب میں تہجد، نماز جمعہ، حج اور بعض دیگر ابواب میں، [60] اور مسلم بن حجاج قشیری نیشابوری نے اپنی کتاب کے ابواب الصوم، الحج، الفرائض، الفتن، الادب اور دیگر تاریخی مسائل کے ضمن میں امام سجاد(ع) سے احادیث نقل کی ہیں۔[61]

ذہبی رقمطراز ہے: امام سجاد(ع) نے پیغمبر(ص) امام علی بن ابی طالب سے مرسل روایات نقل کی ہیں جب آپ نے (چچا) حسن بن علی(ع) (والد) حسین بن علی(ع)، عبد اللہ بن عباس، صفیہ|صفیّہ، عائشہ اور ابو رافع سے بھی حدیث نقل کی ہے اور دوسری طرف سے امام محمد باقر(ع)، زید بن علی، ابو حمزہ ثمالی، یحیی بن سعید، ابن شہاب زہری، زید بن اسلم اور ابو الزناد نے آپ سے حدیثیں نقل کی ہیں۔[62]

فضائل و مناقب[ترمیم]

عبادت[ترمیم]

مالک بن انس سے مروی ہے کہ علی بن الحسین دن رات میں ایک ہزار رکعت نماز بجا لاتے تھے حتی کہ دنیا سے رخصت ہوئے چنانچہ آپ کو زین العابدین کہا جاتا ہے۔[63]
ابن عبد ربّہ لکھتا ہے: علی بن الحسین جب نماز کے لیے تیاری کرتے تو ایک لرزہ آپ کے وجود پر طاری ہوجاتا تھا۔ آپ سے سبب پوچھا گیا تو فرمایا: "وائے ہو تم پر! کیا تم جانتے ہو کہ میں اب کس ذات کے سامنے جاکر کھڑا ہونے والا ہوں! کس کے ساتھ راز و نیاز کرنے جارہا ہوں!؟"۔[64]
مالک بن انس سے مروی ہے: علی بن الحسین نے احرام باندھا اور لبیّكَ اللهمّ لبَيكَ پڑھ لیا تو آپ پر غشی طاری ہوئی اور گھوڑے کی زین سے فرش زمین پر آ گرے۔[65]

غربا و مساکین کی سرپرستی[ترمیم]

ابو حمزہ ثمالی سے مروی ہے کہ علی بن الحسین(ع) راتوں کو کھانے پینے کی چیزوں کو اپنے کندھے پر رکھ کر اندھیرے میں خفیہ طور پر غربا اور مساکین کو پہنچا دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: "جو صدقہ اندھیرے میں دیا جائے وہ غضب پروردگار کی آگ کو بجھا دیتا ہے"۔[66]
محمد بن اسحاق کہتا ہے: کچھ لوگ مدینہ کے نواح میں زندگی بسر کرتے تھے اور انہیں معلوم نہ تھا کہ ان کے اخراجات کہاں سے پورے کیے جاتے ہیں، علی ابن الحسین(ع) کی وفات کے ساتھ ہی انہيں راتوں کو ملنے والی غذائی امداد کا سلسلہ منقطع ہوا۔ [67]

راتوں کو روٹی کے تھیلے اپنی پشت پر رکھ دیتے تھے اور محتاجوں کے گھروں کا رخ کرتے تھے اور کہتے تھے: رازداری میں صدقہ غضب پروردگار کی آگ کو بجھا دیتا ہے، ان تھیلوں کو لادنے کی وجہ سے آپ کی پیٹھ پر نشان پڑ گئے تھے اور جب آپ کا وصال ہوا تو آپ کو غسل دیتے ہوئے وہ نشانات آپ کے بدن پر دیکھیے گئے۔[68] ابن سعد روایت کرتا ہے: جب کوئی محتاج آپ کے پاس حاضر ہوتا تو آپ فرماتے: "صدقہ سائل تک پہنچنے سے پہلے اللہ تک پہنچ جاتا ہے"۔ [69]

ایک سال آپ(ع) نے حج کا ارادہ کیا تو آپ کی بہن سکینہ بنت الحسین(ع) نے ایک ہزار درہم کا سفر خرچ تیار کیا اور جب آپ حرہ کے مقام پر پہنچے تو وہ سفر خرچ آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا اور امام(ع) نے وہ محتاجوں کے درمیان بانٹ دیا۔ [70]

آپ کا ایک چچا زاد بھائی ضرورتمند تھا اور آپ راتوں کو شناخت کرائے بغیر آپ کو چند دینار پہنچا دیتے تھے اور وہ شخص کہتا تھا: "علی ابن الحسین" قرابت کا حق ادا نہیں کرتے خدا انہیں اپنے اس عمل کا بدلہ دے۔ امام(ع) اس کی باتیں سن کر صبر و بردباری سے کام لیتے تھے اور اس کی ضرورت پوری کرتے وقت اپنی شناخت نہیں کراتے تھے۔ جب امام(ع) کا انتقال ہوا تو وہ احسان اس مرد سے منقطع ہوا اور وہ سمجھ گیا کہ وہ نیک انسان امام علی بن الحسین(ع) ہی تھے؛ چنانچہ آپ کے مزار پر حاضر ہوا اور زار و قطار رویا۔[71]

ابونعیم رقمطراز ہے: امام سجاد(ع) نے دو بار اپنا پورا مال محتاجوں کے درمیان بانٹ دیا اور فرمایا: خداوند متعال مؤمن گنہگار شخص کو دوست رکھتا ہے جو توبہ کرے۔[72] ابو نعیم ہی لکھتے ہیں: بعض لوگ آپ کو بخیل سمجھتے تھے لیکن جب دنیا سے رحلت کرگئے تو سمجھ گئے کہ ایک سو خاندانوں کی کفالت کرتے رہے تھے۔[73] جب کوئی سائل آپ کے پاس آتا تو آپ فرماتے تھے: آفرین ہے اس شخص پر جو میرا سفر خرچ آخرت میں منتقل کررہا ہے"۔ [74]

غلاموں کے ساتھ آپ کا طرز سلوک[ترمیم]

امام سجاد(ع) کے تمام تر اقدامات دینی پہلوؤں کے ساتھ سیاسی پہلؤوں کے حامل بھی ہوتے تھے اور ان ہی اہم اقدامات میں سے ایک غلاموں کی طرف خاص توجہ سے عبارت تھا۔ غلاموں کا طبقہ وہ طبقہ تھا جو خاص طور پر خلیفہ دوم عمر بن خطاب کے بعد اور بطور خاص بنی امیہ کے دور میں شدید ترین سماجی دباؤ کا سامنا کررہا تھا اور اسلامی معاشرے کا محروم ترین طبقہ سمجھا جاتا تھا۔
امام سجاد(ع) نے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی طرح اپنے [خالص] اسلامی طرز عمل کے ذریعے عراق کے بعض موالی کو اپنی طرف متوجہ اور اپنا گرویدہ بنا لیا اور معاشرے کے اس طبقے کی سماجی حیثیت کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔

سید الاہل نے لکھا ہے: امام سجاد(ع) ـ جنہیں غلاموں کی کوئی ضرورت نہ تھی ـ غلاموں کی خریداری کا اہتمام کرتے اور اس خریداری کا مقصد انہيں آزادی دلانا ہوتا تھا۔ غلاموں کا طبقہ امام(ع) کا یہ رویہ دیکھ کر، اپنے آپ کو امام(ع) کے سامنے پیش کرتے تھے تاکہ آپ انہیں خرید لیں۔ امام(ع) ہر موقع مناسبت پر غلام آزاد کرٹیتے تھے اور صورت حال یہ تھی کہ مدینہ میں آزاد شدہ غلاموں اور کنیزوں کا ایک لشکر دکھائی دیتا تھا اور وہ سب امام سجاد(ع) کے موالی تھے۔[75]

زہد و تقوی[ترمیم]

علی بن حسین بڑے عابد وزاہد اور شب بیدار تھے، وہ بنی ہاشم کے فقہا وعابدین میں سے تھے اس زمانے میں ان کو مدینہ منورہ میں ” سید العابدین“ یعنی عابدوں کا سردار کہا جاتا تھا، ان کی اسی عبادت گزاری کی کثرت کی وجہ سے ان کو ” زین العابدین“ عبادت گزاروں کی زینت بھی کہا جاتا تھا۔[76] امام مالک نے فرمایا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ علی بن حسین کا موت تک روزانہ ایک ہزار رکعت نفل پڑھنے کا معمول تھا اوران کو کثرت عبادت کی وجہ سے ”زین العابدین“ کہا جاتا تھا۔[77]امام زہری علی بن حسین کا تذکرہ کرتے ہوئے روتے تھے اور انھیں زین العابدین کے نام سے یاد کرتے تھے۔[78]ابو نعیم نے ” حلیہ “میں ان کے بارے میں فرمایا کہ وہ عبادت گزاروں کی زینت، قانتین کی علامت، عبادت کا حق ادا کرنے والے او رانتہائی سخی ومشفق تھے۔[79] ابن عیینہ نے زہری سے نقل کیا ہے کہ میں اکثرعلی بن حسین کی صحبت میں بیٹھا کرتا تھا، میں نے ان سے بڑھ کر کسی کو فقیہ نہیں پایا؛ لیکن وہ بہت کم گو تھے۔ امام مالک نے فرمایا کہ اہل بیت میں ان جیسا کوئی نہیں؛ حالانکہ وہ ایک باندی کے بیٹے تھے۔[80] زین العابدین جب نماز کے لیے وضو کرتے تھے توان کا رنگ پیلا پڑ جاتا اور وضو واقامت کے درمیان میں ان کے بدن پر ایک کپکپی کی کیفیت طاری ہوتی تھی، کسی نے اس کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: تمہیں معلوم ہے کہ میں کس کے سامنے کھڑا ہونے جا رہاہوں اور کس سے مناجات کرنے لگا ہوں( یعنی اللہ تعالیٰ سے )۔[81] کسی نے سعید بن مسیب سے کہا کہ آپ نے فلاں سے بڑھ کر کسی کو پ رہی ز گار پایا؟ انھوں نے فرمایا کیا تم نے علی بن حسین کو دیکھا ہے؟ تو سائل کہا کہ نہیں، تو فرمایا کہ میں نے ان سے بڑھ کر کسی کو بھی پ رہی ز گار نہیں پایا۔[82]طاؤس کہتے ہیں میں نے علی بن حسین کو سجدے کی حالت میں یہ دعا مانگتے ہوئے سنا، وہ فرما رہے تھے :”عَبِیْدُکَ بِفِنَائِکَ، وَمِسْکِیْنُکَ بِفِنَائِکَ، سَائِلُکَ بِفِنَائِکَ، فَقِیْرُکَ بِفِنَائِکَ“طاوس کہتے ہیں کہ میں نے جب بھی کسی مشکل میں ان الفاظ کے ساتھ دعاکی تو اللہ تعالیٰ نے میری مشکل کو آسان فرما دیا۔[83] ابو نوح انصاری کہتے ہیں کہ علی بن حسین کسی گھر میں نماز پڑھ رہے تھے اور وہ سجدے کی حالت میں تھے کہ وہاں آگ لگ گئی، تو لوگوں نے کہنا شروع کیا: اے رسول اللہ کے فرزند، آگ آگ۔ انھوں نے اس وقت تک سجدے سے سر نہیں اٹھایا جب تک آگ بجھ نہ پائی، ان سے کسی نے کہا کہ کس چیز نے آپ کو آگ سے بے خبر رکھا تھا؟ انھوں نے فرمایا: مجھے آخرت کی فکر نے اس آگ سے بے خبر کر دیا تھا۔[84] ابوجعفر کہتے ہیں کہ میرے والد ایک رات ایک دن میں ہزار رکعت نماز پڑھا کرتے تھے، ان کی موت کا وقت قریب آیا تو رونے لگے، میں نے کہا آپ کیوں رو رہے ہیں؟ حالانکہ میں نے آپ کی طرح کسی کو اللہ کا طالب نہیں دیکھا اور یہ میں اس لیے نہیں کہہ رہا ہوں کہ آپ میرے والد ہیں، انھوں نے کہا اے میرے بیٹے! میرے رونے کی وجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن ملک مقرب ہو یا نبی مرسل، ہر ایک اللہ کی مشیت وارادے کے تحت ہو گا جس کو چاہیں عذاب دیں گے اور جس کوچاہیں معاف فرمادیں گے۔[85] آپ کا زہد و تقویٰ مشہور تھا۔ وضو کے وقت آپ کا رنگ زرد ہو جاتا تھا۔ پوچھا گیا تو فرمایا کہ میرا تصورِ کامل اپنے خالق و معبود کی طرف ہوتا ہے اور اس کے جلالت و رعب سے میری یہ حالت ہو جاتی ہے۔۔[86] نماز کی حالت یہ تھی کہ پاؤں کھڑے رہنے سے سوج جاتے اور پیشانی پر گٹھے پڑے ہوئے تھے اور رات جاگنے کی وجہ سے رنگ زرد رہتا تھا۔[87] علامہ ابن طلحہ شافعی کے مطابق نماز کے وقت آپ کا جسم لرزہ براندام ہوتا تھا۔[88]

انفاق فی سبیل اللہ[ترمیم]

زین العابدین بدنی عبادات کے ساتھ ساتھ مالی عبادات کا بھی غیر معمولی اہتمام کیا کرتے تھے، وہ انتہائی درجے کے سخی اور خیر کے کاموں میں خرچ کرنے والے تھے، حجاج بن ارطاة نے جعفر صادق سے نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے دو مرتبہ اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیا تھا۔[89] ابو حمزہ ثمالی کہتے ہیں کہ علی بن حسین رات کے اندھیرے میں پشت پر روٹی لادے مساکین کو تلاش کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ رات کے اندھیرے میں چھپاکرصدقہ کرنا اللہ کے غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے، [90] شیبہ بن نعامہ کہتے ہیں کہ علی بن حسین کو لوگ ان کی زندگی میں بخیل تصور کرتے تھے، لیکن جب ان کا انتقال ہوا تو پتہ چلا کہ وہ مدینہ منورہ کے سو گھرانوں کی کفالت کرتے تھے۔[91] محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں کچھ لوگ ایسے تھے کہ ان کو معلوم نہیں تھا کہ ان کے معاش کا انتظام کون کرتا ہے؟ لیکن جب علی بن حسین کا انتقال ہوا تو وہ اس ذریعہٴ معاش سے محروم ہو گئے، جو رات کو ان کے لیے سبب بنتا تھا، [92]جریر بن عبد الحمید نے عمروبن ثابت سے نقل کیا ہے کہ جب علی بن حسین کا انتقال ہوا تو لوگوں نے ان کی کمر پر کچھ نشان پائے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو بتایا گیا کہ یہ اس بوجھ کی وجہ سے ہے جو رات کے اندھیرے میں یتیموں کے لیے لے جایا کرتے تھے۔[93]علی بن حسین فرمایا کرتے تھے کہ جب میں کسی مسلمان بھائی کو دیکھتا ہوں تو میں اس کے لیے اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہوں تو دنیا میں اس کے ساتھ بخل کا معاملہ کیسے کروں؟!جب کل کا دن ہوگا تو مجھ سے کہا جائے گا:اگر جنت تیرے ہاتھ میں ہوتی تو تواس کے ساتھ اس سے زیادہ بخل کا معاملہ کرتا۔[94]

شادی اور اولاد[ترمیم]

آپ کی پہلی شادی 57ھ میں آپ کے چچا حضرت امام حسن بن علی بن ابو طالب کی بیٹی حضرت فاطمہ سے ہوئی۔ آپ نے دوسری شادی حمیداں یا جیدا نامی خاتون سے کی جن کا تعلق وادئ سندھ (موجودہ پاکستان)سے تھا[95]۔ آپ کے گیارہ لڑکے اور چار لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ جن میں سے حضرت امام محمد باقر اور حضرت زید شہید مشہور ہیں۔

اولاد[ترمیم]

امام زین العابدین:
"وَاَمّا حَقُّ الزَّوجَةِ فَاَنْ تَعْلَمَ اَنَّ اللّه‏َ عَزَّوَجَلَّ جَعَلَها لَكَ سَكَنا وَاُنْسا فَتَعْلَمَ اَنَّ ذلِكَ نِعْمَةٌ مِنَ اللّه‏ِ عَلَيْكَ فَـتُـكْرِمَها وَ تَرْفُقَ بِها وَاِنْ كانَ حَقُّكَ اَوجَبَ فَاِنَّ لَها عَلَيْكَ اَنْ تَرْحَمَها"۔
(ترجمہ: زوجہ کا حق یہ ہے کہ تم جان لو کہ خداوند عز و جل نے اس کو تمہارے لئے سکون اور انسیت کا سبب قرار دیا ہے پس جان لو کہ یہ نعمت تم پر اللہ کی جانب سے ہے پس اس کا اکرام کرو اور اس کے ساتھ رواداری سے پیش آؤ، گو کہ تمہارا حق اس پر واجب تر ہے مگر یہ اس کہ حق ہے کہ تم اس کے ساتھ مہربان رہو)"۔ نقص حوالہ: نادرست <ref> ٹیگ;

بے نام حوالہ جات کا مواد ہونا چاہیے

شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ج 2، ص 621، ح 3214۔

تاریخی منابع میں منقول ہے کہ امام سجاد(ع) کی پندرہ اولادیں ہیں جن میں سے گیارہ( 11) بیٹے اور چار (4) بیٹیاں ہیں۔ [96] شیخ مفید کے مطابق امام سجاد(ع) کے فرزندوں کے نام کچھ یوں ہیں:[97]


  1. امام محمد باقر(ع)، جن کی والدہ ام عبد اللہ بنت امام حسن مجتبی(ع) ہیں۔
  2. عبداللہ
  3. حسن
  4. حسین اکبر، ان تینوں کی والدہ ام ولد تھیں۔
  5. زید
  6. عمر، ان دونوں کی والدہ ایک ام ولد تھیں۔
  7. حسین الاصغر
  8. عبدالرحمن
  9. سلیمان، ان تینوں کی والدہ ایک ام ولد تھیں۔
  10. علی، جو امام سجاد(ع) کے سب سے چھوٹے فرزند تھے۔
  11. خدیجہ ان کی والدہ ایک ام ولد تھیں۔
  12. محمد الاصغر ان کی والدہ ایک ام ولد تھیں۔
  13. فاطمہ
  14. علّیہ
  15. ام کلثوم، ان تینوں کی والدہ ایک ام ولد تھیں۔

سانچہ:خاتمہ

جلالت شان[ترمیم]

زین العابدین اپنے زمانے کے بہت ہی جلیل القدراور عالی مرتبت بزرگوں میں سے تھے، لوگ ان کی بہت زیادہ عزت وتکریم کیا کرتے تھے، مشہور واقعہ ہے کہ ہشام بن عبد الملک اپنے زمانہ خلافت سے قبل ایک دفعہ حج کے لیے گئے، بیت اللہ شریف کے طواف کے دوران میں حجر اسود کا استیلام کرنے کا ارادہ کیا، لیکن اژدھام کی وجہ سے نہیں کر پائے۔ اتنے میں حضرت علی بن حسین تشریف لائے، ایک چادر او رتہہ بندباندھے ہوئے، انتہائی خوب صورت چہرے والے، بہترین خوش بو والے، ان کی آنکھوں کے درمیان میں (پیشانی پر) سجدے کا نشان تھا، طواف شروع کیا او رجب حجر اسود کے قریب پہنچے تو لوگ ان کی ہیبت اور جلالت شان کی وجہ سے پیچھے ہٹے اور آپ نے اطمینان کے ساتھ استیلام کیا، ہشام کو یہ بات اچھی نہیں لگی، اہل شام میں سے کسی نے کہا یہ کون ہے جس کی ہیبت اور جلال نے لوگوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا؟ ہشام نے یہ سوچ کر کہ کہیں اہل شام ان کی طرف مائل نہ ہو جائیں، کہا میں نہیں جانتا کہ یہ کون ہیں؟ مشہور شاعر فرزدق قریب ہی کھڑا تھا، اس نے کہا میں انھیں جانتا ہوں۔ اس پر اس شامی نے کہا اے ابو فراس! یہ کون ہیں؟ اس وقت فرزدق نے زین العابدین کی تعریف میں بہت سارے اشعار کہے، ان میں سے چند یہ ہیں۔ هَذَا الَّذِي تَعْرِفُ البَطْحَاءُ وَطْأَتَهُ … وَالبَيْتُ يَعْرِفُهُ وَالحِلُّ وَالحَرَمُ هَذَا ابْنُ فَاطِمَةٍ إِنْ كُنْتَ جَاهِلَهُ … بِجَدِّهِ أَنْبِيَاءُ اللهِ قَدْ خُتِمُوا ترجمہ: یہ وہ شخص ہے جس کے چلنے کو بطحاء، بیت اللہ، حل اور حرم بھی جانتے ہیں، یہ حضرت فاطمہ کے فرزند ہیں، اگرچہ تم تجاہل سے کام لے رہے ہو، انھیں کے دادا ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کے ذریعہ انبیا کا سلسلہ ختم کیا گیا ہے۔ ہشام بن عبد الملک کو غصہ آیا اس نے فرزدق کو قید کرنے کا حکم دیا، ان کو مکہ ومدینہ کے درمیان میں ” عسفان“ نامی جگہ میں مقید کر دیا گیا، حضرت علی بن حسین کو پتہ چلا تو انھوں نے فرزدق کے پاس 12 ہزار دینار بھیجے او رکہا ابو فراس! اگر ہمارے پاس اس سے زیادہ ہوتے تو ہم وہ بھی بھجوادیتے، فرزدق نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند!میں نے جو کہا اللہ او راس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر کہا ہے او رمیں اس پر کچھ کمانا نہیں چاہتا، حضرت زین العابدین نے یہ کہہ کر واپس بھجوا دیا کہ تمہارے اوپر جو میرا حق ہے، اس کا واسطہ ہے کہ تم انھیں قبول کرلو، بے شک اللہ تیرے دل کے حال او رنیت کو جانتے ہیں۔ تو انھوں نے قبول کر لیا۔[98]

اقوال وخطبات[ترمیم]

زین العابدین کے چندبیش بہا اقوال:

  • جسم اگر بیمار نہ ہوتو وہ مست ومگن ہو جاتا ہے اور کوئی خیر نہیں ایسے جسم میں جو مست ومگن ہو۔[99]
  • دوستوں کا نہ ہونا پردیسی ( اجنبیت) ہے۔[100]
  • جو اللہ کے دیے ہوئے پر قناعت اختیار کر لے وہ لوگوں میں سب سے غنی آدمی ہو گا۔[78]
  • جو باتیں معروف نہیں وہ علم میں سے نہیں، علم تو وہ ہے جو معروف ہو اوراہل علم کا اس پر اتفاق ہو۔[101]
  • لوگوں میں سب سے زیادہ خطرے میں وہ شخص ہے جو دنیا کو اپنے لیے خطرے والی نہ سمجھے۔[101]
  • کوئی کسی کی ایسی اچھائی بیان نہ کرے جو اسے معلوم نہ ہو، قریب ہے کہ وہ اس کی وہ برائی بیان کر بیٹھے جو اس کے علم میں نہیں [102]
  • جن دو شخصوں کا ملاپ اللہ کی اطاعت کے علاوہ ہوا ہو تو قریب ہے کہ ان کی جدائی بھی اسی پر ہو۔[102]
  • اے بیٹے!مصائب پر صبر کرو اور حقوق سے تعرض نہ کرو اوراپنے بھائی کو اس معاملے کے لیے پسند نہ کرو جس کا نقصان تمہارے لیے زیادہ ہو اس بھائی کو ہونے والے فائدے سے ۔[103]
  • اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے گناہ گار مومن سے محبت فرماتے ہیں۔[104]

آپ کے بعض خطبات بہت مشہور ہیں۔ واقعہ کربلا کے بعد کوفہ میں آپ نے پہلے خدا کی حمد و ثنا اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذکر و درود کے بعد کہا کہ 'اے لوگو جو مجھے پہچانتا ہے وہ تو پہچانتا ہے جو نہیں پہچانتا وہ پہچان لے کہ میں علی ابن الحسین ابن علی ابن ابی طالب ہوں۔ میں اس کا فرزند ہوں جس کی بے حرمتی کی گئی جس کا سامان لوٹ لیا گیا۔ جس کے اہل و عیال قید کر دیے گئے۔ میں اس کا فرزند ہوں جسے ساحلِ فرات پر ذبح کر دیا گیا اور بغیر کفن و دفن کے چھوڑ دیا گیا۔ اور شہادتِ حسین ہمارے فخر کے لیے کافی ہے۔۔ ۔' ۔
دمشق میں یزید کے دربار میں آپ نے جو مشہور خطبہ دیا اس کا ایک حصہ یوں ہے:

۔۔۔ میں پسرِ زمزم و صفا ہوں، میں فرزندِ فاطمہ الزہرا ہوں، میں اس کا فرزند ہوں جسے پسِ گردن ذبح کیا گیا۔۔ ۔۔ میں اس کا فرزند ہوں جس کا سر نوکِ نیزہ پر بلند کیا گیا۔۔۔۔ ہمارے دوست روزِ قیامت سیر و سیراب ہوں گے اور ہمارے دشمن روزِ قیامت بد بختی میں ہوں گے۔۔ ۔[105][106][107][108]

یہ خطبہ سن کر لوگوں نے رونا اور شور مچانا شروع کیا تو یزید گھبرا گیا کہ کوئی فتنہ نہ کھڑا ہو جائے چنانچہ اس نے مؤذن کو کہا کہ اذان دے کہ امام خاموش ہو جائیں۔ اذان شروع ہوئی تو حضرت علی ابن الحسین خاموش ہو گئے۔ جب مؤذن نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کی گواہی دی تو حضرت علی ابن الحسین رو پڑے اور کہا کہ اے یزید تو بتا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیرے نانا تھے یا میرے؟ یزید نے کہا کہ آپ کے تو حضرت علی ابن الحسین نے فرمایا کہ 'پھر کیوں تو نے ان کے اہل بیت کو شہید کیا'۔ یہ سن کر یزید یہ کہتا ہوا چلا گیا کہ مجھے نماز سے کوئی واسطہ نہیں۔[105] اسی طرح آپ کا ایک اور خطبہ بھی مشہور ہے جو آپ نے مدینہ واپس آنے کے بعد دیا۔

امام سجاد اور واقعۂ کربلا[ترمیم]

کربلا[ترمیم]

امام سجاد(ع) واقعۂ کربلا میں اپنے والد امام حسین(ع) اور اولاد و اصحاب کی شہادت کے دن، شدید بیماری میں مبتلا تھے اور بیماری کی شدت اس قدر تھی کہ جب بھی یزیدی سپاہی آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کرتے، ان ہی میں سے بعض کہہ دیتے تھے کہ "اس نوجوان کے لیے یہی بیماری کافی ہے جس میں وہ مبتلا ہے"۔[109]

اسیری کے ایام[ترمیم]

عاشورا سنہ 61 کے بعد، جب لشکر یزید نے اہل بیت کو اسیر کرکے کوفہ منتقل کیا، تو ان میں سے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے علاوہ امام سجاد(ع) نے بھی اپنے خطبوں کے ذریعے حقائق واضح کیے اور حالات کی تشریح کی اور اپنا تعارف [110] کراتے ہوئے یزید کے کارندوں کے جرائم کو آشکار کر دیا اور اہل کوفہ پر ملامت کی۔[111]

امام سجاد(ع) نے کوفیوں سے خطاب کرنے کے بعد ابن زیاد کی مجلس میں بھی موقع پا کر چند مختصر جملوں کے ذریعے اس مجلس کے حاضرین کو متاثر کیا۔ اس مجلس میں ابن زیاد نے امام سجاد(ع) کے قتل کا حکم جاری کیا[112] لیکن حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے درمیان میں آ کر ابن زياد کے خواب سچا نہيں ہونے دیا۔

اس کے بعد جب یزیدی لشکر اہل بیت(ع) کو "خارجی اسیروں" کے عنوان سے شام لے گیا تو بھی امام سجاد علیہ السلام نے اپنے خطبوں کے ذریعے امویوں کا حقیقی چہرہ بے نقاب کرنے کی کامیاب کوشش کی۔

جب اسیران آل رسول(ص) کو پہلی بار مجلس یزید میں لے جایا گیا تو امام سجاد(ع) کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ امام(ع) نے یزید سے مخاطب ہوکر فرمایا: تجھے خدا کی قسم دلاتا ہوں، تو کیا سمجھتا ہے اگر رسول اللہ(ص) ہمیں اس حال میں دیکھیں!؟[113] یزید نے حکم دیا کہ اسیروں کے ہاتھ پاؤں سے رسیاں کھول دی جائیں۔[114]

اسیری کے بعد[ترمیم]

امام سجاد(ع) واقعۂ کربلا کے بعد 34 سال بقید حیات رہے اور اس دوران آپ نے شہدائے کربلا کی یاد تازہ رکھنے کی ہر کوشش کی۔
پانی پیتے وقت والد کو یاد کرتے تھے، امام حسین علیہ السلام کے مصائب پر گریہ کرتے اور آنسوں بہاتے تھے۔ ایک روایت کے ضمن میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول کہ امام سجاد(ع) نے (تقریبا) چالیس سال تک اپنے والد کے لیے گریہ کیا جبکہ دنوں کو روزہ رکھتے اور راتوں کو نماز و عبادت میں مصروف رہتے تھے، افطار کے وقت جب آپ کا خادم کھانا اور پانی لا کر عرض کرتا کہ آئیں اور کھانا کھائیں تو آپ(ع) فرمایا کرتے: "فرزند رسول اللہ بھوکے مارے گئے! فرزند رسول اللہ(ص) پیاسے مارے گئے!" اور یہی بات مسلسل دہراتے رہتے اور گریہ کرتے تھے حتی کہ آپ کے اشک آپ کے آب و غذا میں گھل مل جاتے تھے؛ آپ مسلسل اسی حالت میں تھے حتی کہ دنیا سے رخصت ہوئے۔[115]

معاصر تحریکیں[ترمیم]

امام سجاد علیہ السلام کے زمانے میں اور کربلا کے واقعے کے بعد مختلف تحریکیں اٹھیں جن میں سے اہم ترین کچھ یوں ہیں:

واقعۂ حَرَہ[ترمیم]

تفصیلی مضمون: واقعہ حرہ

کربلا کا واقعہ رونما ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد مدینہ کے عوام نے اموی حکومت اور یزید بن معاویہ کے خلاف قیام کرکے حرہ کی تحریک کا آغاز کیا۔ اس تحریک کی قیادت جنگ احد میں جام شہادت نوش کرنے والے حنظلہ غسیل الملائکہ کے بیٹے عبد اللہ بن حنظلہ کر رہے تھے اور اس قیام کا نصب العین اموی سلطنت اور یزید بن معاویہ اور اس کی غیر دینی اور غیر اسلامی روش کی مخالفت اور اس کے خلاف جدوجہد، تھا۔ امام سجاد(ع) اور دوسرے ہاشمیوں کی رائے اس قیام سے سازگار نہ تھی چنانچہ امام(ع) اپنے خاندان کے ہمراہ مدینہ سے باہر نکل گئے۔ امام زین العابدین(ع) کی نظر میں یہ قیام نہ صرف ایک شیعہ قیام نہ تھا بلکہ درحقیقت آل زبیر کی پالیسیوں سے مطابقت رکھتا تھا اور آل زبیر کی قیادت اس وقت عبد اللہ بن زبیر کررہا تھا اور عبد اللہ بن زبیر وہ شخص تھا جس نے جنگ جمل کے اسباب فراہم کیے تھے۔ یہ قیام یزید کے بھجوائے گئے کمانڈر مسلم بن عقبہ نے کچل ڈالا جس نے اپنے مظالم کی بنا پر مسرف کا لقب کما لیا۔ [116]

توابین کا قیام[ترمیم]

تفصیلی مضمون: قیام توابین

توابین کی تحریک واقعۂ کربلا کے بعد اٹھنے والی تحریکوں میں سے ایک تحریک تھی جس کی قیادت سلیمان بن صرد خزاعی سمیت شیعیان کوفہ کے چند سرکردہ بزرگ کر رہے تھے۔ توابین کی تحریک کا نصب العین یہ تھا کہ بنو امیہ پر فتح پانے کی صورت میں مسلمانوں کی امامت و قیادت کو اہل بیت(ع) کے سپرد کریں گے اور فاطمہ سلام اللہ علیہا کی نسل سے اس وقت علی بن الحسین(ع) کے سوا کوئی بھی نہ تھا جس کو امامت مسلمین سونپی جاسکے۔ تاہم امام علی بن الحسین(ع) اور توابین کے درمیان کوئی باقاعدہ سیاسی ربط و تعلق نہ تھا۔ [117]

مختار کا قیام[ترمیم]

تفصیلی مضمون: قیام مختار

مختار بن ابی عبید ثقفی کا قیام، یزید اور امویوں کی حکمرانی کے خلاف واقعۂ عاشورا کے بعد تیسری بڑی تحریک کا نام ہے (جو واقعۂ حرہ اور قیام توابین کے بعد شروع ہوئی۔ اس تحریک کے امام سجاد(ع) کے ساتھ تعلق کے بارے میں بعض ابہامات پائے جاتے ہیں۔ یہ تعلق نہ صرف سیاسی تفکرات کے لحاظ سے بلکہ محمد بن حنفیہ کی پیروی کے حوالے سے، اعتقادی لحاظ سے بھی مبہم اور اس کے بارے میں کوئی یقینی موقف اپنانا مشکل ہے۔ روایت ہے کہ جب "مختار" نے کوفہ کے بعض شیعیان اہل بیت(ع) کی حمایت حاصل کرنے کے بعد امام سجاد علیہ السلام کے ساتھ رابطہ کیا مگر امام(ع) نے خیر مقدم نہیں کیا۔[118]

اصحاب[ترمیم]

ایک روایت کے ضمن میں منقول ہے کہ امام سجاد(ع) کو صرف چند افراد کی معیت حاصل تھی: سعید بن جبیر، سعید بن مسیب، محمد بن جبیر بن مطعم، یحیی بن ام طویل، ابو خالد کابلی.[119]
شیخ طوسی، نے امام سجاد(ع) کے اصحاب کی مجموعی تعداد 173 بیان کی ہے۔ [120]
امام سجاد(ع) شیعیان اہل بیت(ع) کی قلت کا شکوہ کرتے تھے اور فرماتے تھے مکہ اور مدینہ میں ہمارے حقیقی پیروکاروں کی تعداد 20 افراد سے بھی کم ہے۔ [121]

تقیہ[ترمیم]

تفصیلی مضمون: تقیہ

امویعلوی تعلق کی کیفیت کے پس منظر کے پیش نظر امام سجاد(ع) کو اموی حکمرانوں کی شدید بدگمانی کا سامنا تھا اور امام(ع) کا کوئی معمولی سا کام بھی خطرناک نتائج پر ختم ہوسکتا تھا اور فطری سی بات تھی کہ اس قیمت پر کسی قسم کے اقدامات کرنا مناسب نہ تھا۔ اہم ترین دینی اور سیاسی اصول جس کے سائے میں امام سجاد(ع) زندگی بسر کر رہے تھے وہ تھا: "تقیّہ"۔
امام سجاد(ع) نہایت دشوار حالات میں زندگی بسر کر رہے تھے اور آپ کے پاس تقیہ کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا۔ اصولی طور پر یہی تقیہ ہی ہے جس نے اُس زمانے میں شیعیان آل رسول(ص) کو تحفظ دیا۔
روایت ہے کہ ایک شخص نے امام سجاد(ع) کی خدمت میں حاضر ہوکر پوچھا: زندگی کس طرح گزر رہی ہے؟ امام(ع) نے جواب دیا:
"زندگی اس طرح سے گزار رہے ہیں کہ اپنی قوم کے درمیان ویسے ہی ہیں جیسے کہ بنی اسرائیل آل فرعون کے درمیان تھے، ہمارے لڑکوں کو ذبح کر ڈالتے ہیں ہماری عورتوں کو زندہ رکھ لیتے ہیں؛ لوگ ہمارے بزرگ اور ہمارے سید و سردار پر سبّ اور دشنام طرازی کرکے ہمارے دشمنوں کی قربت حاصل کرتے ہیں؛ اگر قریش دوسرے عربوں کے سامنے فخر کرتے ہیں کہ رسول اللہ قریش میں سے تھے اور اگر عرب فخر عجم پر تفاخر کرتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ عرب تھے اور اگر قریش اس حوالے سے اپنے لیے فوقیت اور برتری کے قائل ہیں تو ہم اہل بیت کو قریش پر برتر ہونا چاہیے اور ہمیں ان کے سامنے اس فضیلت پر فخر کرنا چاہیے کیونکہ محمد(ص) ہم اہل بیت میں سے ہیں۔ مگر انھوں نے ہمارا حق ہم سے چھین لیا اور ہمارے لیے کسی بھی حق کے قائل نہيں ہیں۔ اگر تم نہيں جانتے کہ زندگی کس طرح گزر رہی ہے تو جان لو کہ زندگی اس طرح گزر رہی ہے جیسا کہ میں نے کہا"۔ راوی کہتا ہے کہ امام(ع) اس طرح سے بات کر رہے تھے کہ صرف قریب بیٹھے ہوئے افراد سن سکیں۔[122]

آثار اور کاوشیں[ترمیم]

حدیث امام سجاد(ع) کی التجا بدرگاہ پروردگار: "اللهم اجعلني أهابهما هيبة السلطان العسوف، وأبرهما بر الام الرؤف، واجعل طاعتي لوالدي وبري بهما أقر لعيني من رقدة الوسنان، وأثلج لصدري من شربة الظمأن حتى أوثر على هواي هواهما، وأقدم على رضاي رضاهما، وأستكثر برهما بي وإن قل، وأستقل بري بهما وإن كثر"۔
بار پروردگارا! مجھے یوں قرار دے کہ والدین سے اس طرح ڈروں جس طرح کہ کسی جابر بادشاہ سے ڈرا جاتا ہے اور اس طرح ان کے حال پر شفیق ومہربان رہوں (جس طرح شفیق ماں ) اپنی اولاد پر شفقت کرتی ہے اوران کی فرما نبرداری اوران سے حسن سلوک کے ساتھ پیش آنے کو میری آنکھوں کے لیے، چشم خواب آلود میں نیند کے خمار سے زیادہ، کیف افزا اور میرے قلب و روح کے لیے، پیاسے شخص کے لیے ٹھنڈے پانی سے زیادہ، دل انگیز قرار دے؛ حتی کہ میں ان کی خواہش کو اپنی خواہشات پر فوقیت دوں اور ان کی خوشنودی کو اپنی خوشی پر مقدم رکھوں اور جو احسان وہ مجھ پر کریں اس کو زیادہ سمجھوں خواہ وہ کم ہی کیوں نہ ہو اور ان کے ساتھ اپنی نیکی کو کم سمجھوں خواہ وہ زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔ [123]

صحیفہ سجادیہ اور رسالۃ الحقوق امام سجاد(ع) کی کاوشوں میں سے ہیں۔ [124]

صحیفہ سجادیہ، امام سجاد(ع) کی دعاؤں پر مشتمل کتاب ہے جو صحیفہ کاملہ، اخت القرآن، انجیل اہل بیت اور زبور آل محمد کے نام سے مشہور ہے۔

رسالۃ الحقوق بھی امام سجاد علیہ السلام سے منسوب رسالہ ہے جو روایت مشہورہ کے مطابق 50 حقوں پر مشتمل ہے اور زندگی میں ان کو ملحوظ رکھنا ہر انسان پر لازم ہے۔ پڑوسیوں کا حق، دوست کا حق، قرآن کا حق، والدین کا حق اور اولاد کا حق، ان حقوں میں شامل ہیں۔[125]

وصال[ترمیم]

خانوادئہ نبوت کے اس چشم وچراغ نے ساری زندگی سنتِ نبوی اورحضرات صحابہ کرام کے نقش قدم پر چل کر بالآخر داعی اجل کو لبیک کہا، ان کے سنہ وفات کے بارے میں اختلاف ہے ،،99,95, 94,93,92 اور100 ہجری کے مختلف اقوال منقول ہیں، مگر صحیح قول کے مطابق زین العابدین بروز منگل14 ربیع الاول94 ہجری میں دار فانی سے داربقاکی طرف کوچ کر گئے، جنت البقیع میں جنازہ پڑھا گیا اور وہیں پر مدفون ہوئے۔[126]

شہادت[ترمیم]

آپ کی شہادت اموی حاکم ولید بن عبد الملک کے زہر دینے سے ہوئی۔[127]۔ آپ کی شہادت کا سال 95 ہجری قمری [128] بعض نے 94 ہجری قمری[129] 92ہجری قمری[130] 93ہجری قمری[131] اور شہادت کی مشہور تاریخ18[132] محرم[133] بروز ہفتہ [134] لکھی گئی ہے بعض نے 14ربیع الاول[135] بدھ[136] بھی ذکر کی ہے۔

شہادت کے وقت عمر مبارک مشہور57 سال ہے[137]اور 59 سال[138] چار مہینے اور کچھ دن [139] بھی مذکور ہے۔

آپ نے امام علی علیہ السلام، امام حسن مجتبی علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کی حیات اور ادوار امامت کا ادراک کیا ہے اور معاویہ کی طرف سے عراق اور دوسرے علاقوں کے شیعیان آل رسول(ص) کو تنگ کرنے اور ان پر دباؤ بڑھانے کی سازشوں کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں۔

اہل سنت کی تاریخی روایات کے راوی محمد بن عمر الواقدی، نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے: "علی بن الحسین (زین العابدین(ع) نے 58 سال کی عمر میں وفات پائی" اور اس کے بعد رقمطراز ہے: "اس لحاظ سے امام سجاد(ع) 23 یا 24 سال کی عمر میں کربلا کے مقام پر اپنے والد امام حسین(ع) کی خدمت میں حاضر تھے۔[140]

نیز زہری نے بھی کہا ہے کہ علی بن الحسین(ع) 23 سال کے سن کے ساتھ کربلا میں اپنے والد کے ہمراہ تھے۔[141]

امام سجاد(ع) سنہ 94 (یا 95) ہجری میں اس زہر کے ذریعے جام شہادت نوش کرگئے جو ولید بن عبدالملک کے حکم پر انہيں کھلایا گیا تھا۔[142] آپ(ع) کو جنت البقیع میں چچا امام حسن مجتبی(ع) کے پہلو میں دفن کر دیے گئے۔[143]

جس طرح آپ کی جائے پیدائش مدینہ کے متعلق کسی نے اختلاف نہیں کیا اسی طرح مقام دفن مدینہ ہونے کے متعلق کسی نے اختلاف نہیں کیا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12282535z — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. Imam Ali ibn al-Hussein (2001)۔ The Complite Edition of the Treatise on Rights۔ Qum: Ansariyan Publications۔ صفحہ 16۔
  3. Imam Ali ubnal Husain 2009، صفحات۔ 7–10
  4. Sharif al-Qarashi 2000، صفحہ۔ 450
  5. M. M. Dungersi Ph.D. (دسمبر 1, 2013)۔ A Brief Biography of Ali Bin Hussein (as)۔ CreateSpace Independent Publishing Platform۔ آئی ایس بی این 1-4943-2869-0۔
  6. [2][3][4][5]
  7. ر ک :شہیدی، زندگانی علی بن الحسین(ع)، صص10-26.
  8. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج 5، ص 222؛ ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه، ج 15، ص 273.
  9. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج4،ص386؛ کسروی، موسوعہ رجال الکتب التسعۃ، ج 3، ص 64؛ ابوحاتم رازی، الجرح و التعدیل، ج 6، ص 178؛ دولابی، الکنی و الاسماء، ج 1، ص 147؛ سیوطی، طبقات الحفّاظ، ص 37؛ ذہبی المقتنی فی سرد الکنی، ج 1، ص 199؛ مزّی، تہذیب الکمال، ج 13، ص 236.
  10. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج 4، ص 386؛ ذہبی، العِبَر، ج 1، ص 83؛ مزّی، تہذیب الکمال، ج 13، ص 236؛ ابن تغری، النجوم الزاہرة، ج 1، ص 229؛ ابن خَلَّکان، وفیات الاعیان، ج 3، ص 266؛ ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، ج 7، ص 231؛ کسروی، موسوعۃ رجال الکتب التسعۃ، ج 3، ص 64.
  11. شیخ صدوق،علل الشرائع ،1/230
  12. اربلی ،کشف الغمہ،2/276
  13. ابن خَلَّکان، وفیات الاعیان، ج 3، ص 274؛ قلقشندی، صبح الاعشی، ج 1، ص 516؛ مسعودی، مروج الذهب، ج 3، ص 160؛ ثعالبی، ثمارالقلوب، ص 226؛ ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه، ج10، ص 79.
  14. کلینی، الکافی ج6 ص474۔
  15. نہیں مجھے توفیق مگر اللہ کی طرف سے: مجلسی، بحار الانوار، ج46 ص14۔
  16. رسوا اور بدبخت ہوا قاتل حسین بن علی کا: کلینی، وہی ماخذ ج6 ص474۔
  17. صدوق، الأمالی، ص 131۔
  18. اربلی ،کشف الغمہ2/285۔فتال نیشاپوری،روضۃ الواعظین،201۔محمد طبری،دلائل الامامہ 191۔کلینی،الکافی1/466۔شیخ مفید،الارشاد2/137 شیخ طبرسی،اعلام الوری 1/480۔
  19. فتال نیشاپوری،روضۃ الواعظین،201۔شیخ طبرسی،اعلام الوری 1/480۔
  20. شیخ طبرسی،اعلام الوری 1/480۔
  21. شیخ طبرسی،اعلام الوری 1/480۔ابن شہر آشوب،مناقب علی ابن ابی طالب،3/310 و311
  22. شیخ طبرسی،اعلام الوری 1/480۔ابن شہر آشوب،مناقب علی ابن ابی طالب،3/310
  23. شیخ طبرسی،اعلام الوری 1/480۔ابن شہر آشوب،مناقب علی ابن ابی طالب،3/310
  24. شیخ طبرسی،اعلام الوری 1/480۔ابن شہر آشوب،مناقب علی ابن ابی طالب،3/310
  25. شیخ طبرسی،اعلام الوری 1/480۔فتال نیشاپوری، روضۃ الواعظین،201۔
  26. اربلی ،کشف الغمہ2/285۔
  27. اربلی ،کشف الغمہ2/285۔فتال نیشاپوری،روضۃ الواعظین،201۔محمد طبری،دلائل الامامہ 191۔شیخ طبرسی،اعلام الوری 1/480۔
  28. محمد طبری،دلائل الامامہ 191۔شیخ مفید ،الارشاد2/137۔شیخ طبرسی،اعلام الوری 1/480۔
  29. فتال نیشاپوری،روضۃ الواعظین،201۔
  30. محمد طبری،دلائل الامامہ 191۔شیخ طبرسی،اعلام الوری 1/480۔
  31. شیخ مفید ،الارشاد2/137
  32. شیخ مفید ،الارشاد2/137
  33. محمد طبری،دلائل الامامہ 191۔شیخ طبرسی،اعلام الوری 1/480۔
  34. (تہذیب الکمال في أسماء الرجال:جلد20صفحہ382،الناشر: مؤسسہ الرسالہ بيروت،سیر اعلام النبلا :جلد4 صفحہ386الناشر: مؤسسہ الرسالہ بيروت،حلیۃ الاولیا:133/3،تذکرة الحفاظ:74/1،تہذیب التہذیب:304/7،الثقات:159/5،الجرح والتعدیل:229/6،التاریخ الکبیر:266/6،تاریخ الاسلام:180/3،الکاشف:37/2)
  35. شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطّاریہ ناشر مکتبۃ المد ینہ باب المدینہ کراچی صفحہ52
  36. تاریخ اسلام،181/3
  37. سیر اَعلام النبلا،386/4
  38. تہذیب الکمال ،402/20
  39. سیر اَعلام النبلا:386/4،تہذیب الکمال:383/20
  40. طبقات،211/5
  41. سیراعلام النبلا:399/4
  42. تاریخ الاسلام:181/3،الطبقات الکبری:211/5
  43. معرکۂ کربلا میں شرکت
  44. الطبقات:212,211/5،تاریخ الاسلام:181/3،سیر اعلام النبلا:387,386/4
  45. تہذیب الکمال:393/20،سیر اعلام النبلا:395/4
  46. حلیۃ الاولیاء:137,136/3،تہذیب الکمال:395,394/20،سیر اعلام النبلا:395/4
  47. تہذیب الکمال: 394,393/20،سیر اعلام النبلا:395/4
  48. الطبقات: 216/5،سیر اعلام النبلا:397/4
  49. تہذیب الکمال:383/20،سیر اعلام النبلا:387/4ِِِِِِِِِِِ،تہذیب التہذیب:304/7،المراسیل:139
  50. تاریخ ابن عساکر ،17/12ب
  51. طبقات،216/5
  52. حلیۃ الاولیاء،138,137/3
  53. طبقات،217,216/5
  54. تہذیب الکمال: 384,383/20، سیر اَعلام النبلا:387/4،تہذیب التہذیب:304/7
  55. الطبقات:218/5
  56. کافی، ج1، صص 188-189.
  57. مفید، الاختصاص، ص211؛ منتخب الاثر باب هشتم ص97؛ طبرسی، اعلام الوری باعلام الهدی، ج2، ص182-181؛ عاملی، اثبات الهداة بالنصوص و المعجزات، ج2، ص 285۔ جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ سورہ نساء کی آیت 59 (اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم) نازل ہوئی تو رسول اللہ(ص) نے 12 ائمہ کے نام تفصیل سے بتائے جو اس آیت کے مطابق واجب الاطاعہ اور اولو الامر ہیں؛ بحارالأنوار ج 23 ص290؛ اثبات الهداة ج 3،‌ ص 123؛ المناقب ابن شہر آشوب، ج1، ص 283۔ سورہ علی(ع) سے روایت ہے کہ ام سلمہ کے گھر میں سورہ احزاب کی آیت 33 (انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهرکم تطهیرا) نازل ہوئی تو پیغمبر نے بارہ اماموں کے نام تفصیل سے بتائے کہ وہ اس آیت کا مصداق ہیں؛ بحارالأنوار ج36 ص337، کفایہ الأثر ص 157۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ نعثل نامی یہودی نے رسول اللہ(ص) کے جانشینوں کے نام پوچھے تو آپ(ص) نے بارہ اماموں کے نام تفصیل سے بتائے۔ سلیمان قندوزی حنفی، مترجم سید مرتضی توسلیان، ینابیع المودة، ج 2، ص 387 – 392، باب 76۔
  58. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، ج 1، صص 486، 488؛ امین الاسلام فضل بن فضل بن حسن طبرسی، اعلام الوری باعلام الہدی، ص207
  59. شیخ مفید، الارشاد، مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات، ص 254; مجلسی، بحار الانوار، المکتبۃ الاسلامیۃ، ج 46، ص 12۔
  60. بخاری، رجال صحیح بخاری، ج 2، ص 527.
  61. ابن منجویه، رجال صحیح مسلم، ج2،ص53.
  62. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج 4، ص 386؛ م‍زی، تہذیب الکمال، ج 13، ص 237.
  63. ذهبی، العِبَر، ج 1، ص 83.
  64. ابن عبد ربه، عقدالفرید، ج 3، ص 169؛ ذهبی، سیر اعلام النبلاء، ج 4، ص 392.
  65. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج 4، ص 392.
  66. ذہبی، سیراعلام النبلاء، ج 4، ص 393.
  67. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج 4، ص 393.
  68. ابو نعیم اصفہانی، حلیة الاولیاء ج 3 ص 136؛ کشف الغمه ج 2 ص 77؛ مناقب ج 4 ص 154؛ صفة الصفوة ج 2 ص 154؛ خصال ص 616؛ علل الشرایع ص 231؛ بحار ص 90؛ بحوالہ شہیدی، زندگانی علی بن الحسین(ع)، صص 147-148.
  69. طبقات ج 5 ص 160؛ به نقل شهیدی، زندگانی علی بن الحسین(ع)، ص 148.
  70. کشف الغمه ج 2 ص 78؛ صفة الصفوة ج 2 ص 54؛ به نقل شهیدی، زندگانی علی بن الحسین(ع)، ص 148.
  71. کشف الغمه ج 2 ص .107، ابو نعیم اصفہانی، حلیة الاولیاء ج 3 ص 140؛ بحوالہ شہیدی، زندگانی علی بن الحسین(ع)، ص 148.
  72. حلیة الاولیاء ج3 ص 136، طبری حصہ 3 ص 2482، طبقات ابن سعد ج5 ص162؛ بحوالہ شہیدی، زندگانی علی بن الحسین(ع)، ص 148۔
  73. صفة الصفوة ج 2 ص 54؛ حلیة الاولیاء ج 3 ص 136؛ طبقات ج 5 ص 164؛ بحوالہ شهیدی، زندگانی علی بن الحسین(ع)، ص 148.
  74. کشف الغمه ج 2 ص 77؛ مناقب ج 4 ص 154؛ حلیة الاولیاء ج 3 ص 136؛ بحار ص 137؛ به نقل شهیدی، زندگانی علی بن الحسین(ع)، ص 148.
  75. سید الاهل، زین العابدین، صص 7، 47.
  76. الثقات:160,159/5
  77. تہذیب الکمال:390/20،سیر اعلام النبلا:392/4،تہذیب التہذیب:306/7
  78. ^ ا ب حلیۃ الاولیاء:135/3
  79. حلیۃ الاولیاء:133/3
  80. تہذیب الکمال: 386/20، سیر اَعلام النبلا:389/4
  81. الطبقات:216/5،تہذیب الکمال:390/20،سیر اَعلام النبلا:392/4
  82. حلیۃ الاولیاء:141/3،تہذیب الکمال: 389/20
  83. تہذیب الکمال:391/20،سیر اَعلام النبلا:393/4
  84. تاریخ ابن عساکر:19/12 ب، تہذیب الکمال: 390,389/20، سیر اعلام النبلا:392,391/4
  85. تاریخ ابن عساکر: 20/12، سیراَعلام النبلا:392/4،تہذیب الکمال:391/20
  86. مطالب السؤل از علامہ محمد ابن طلحہ شافعی صفحہ 262
  87. اعلام الوریٰ صفحہ 153
  88. مطالب السؤل از علامہ محمد ابن طلحہ شافعی
  89. حلیۃ الاولیاء:140/3، الطبقات: 219/5، تہذیب التہذیب:306/7
  90. حلیۃ الاولیاء:136,135/3،تہذیب الکمال:396/20،سیر اعلام النبلا: 393/4
  91. الطبقات:222/5،حلیۃالاولیاء:136/3،تہذیب الکمال:392/20
  92. تاریخ ابن عساکر:21/12أ،حلیہ الاولیاء: 136/3، تہذیب الکمال :392/20،سیر اعلام النبلا:393/4
  93. تاریخ ابن عساکر:21/12،حلیۃ الاولیاء:136/3، سیر اعلام النبلا:393/4،تہذیب الکمال:392/20
  94. تاریخ ابن عساکر: 12/21ب، تہذیب الکمال:393/20،سیر اعلام النبلا:394/4
  95. Rizvi, "A A Socio Intellectual History of the Isna Ashari Shias n in India", Vol. I, pp. 138–142, Ma’rifat Publishing House, Canberra, Australia (1986)
  96. مفید، الارشاد، ص380؛ ابن شہر آشوب، مناقب، ج4، ص189؛ ابن جوزی، تذکرة الخواص، ص333-332.
  97. المفید، الارشاد، بیروت: مؤسسة آل البیت(ع) لتحقیق التراث، 1414/1993، ص 155.
  98. سیر اَعلام النبلا: 399/4، تہذیب الکمال:402/20
  99. حلیۃ الاولیاء:134/3،سیر اعلام النبلا:396/4
  100. حلیۃ الاولیاء:134/3
  101. ^ ا ب تہذیب الکمال:398/20،سیر اعلام النبلا:391/4
  102. ^ ا ب تہذیب الکمال:398/20
  103. تہذیب الکمال:399/20،حلیۃالاولیاء:138/3
  104. حلیۃ الاولیاء :140/3، الطبقات: 219/5،تہذیب الکمال:391/20
  105. ^ ا ب مقتل ابی مخنف صفحہ 135۔ 136
  106. بحار الانوار جلد 10
  107. ریاض القدس جلد 2 صفحہ 328
  108. روضۃ الاحباب
  109. شیخ مفید، الارشاد، ج 2، ص 113 و طبرسی، اعلام الوری،ج 1، ص 469.
  110. مازندرانی، ابن شہر آشوب، مناقب آل ابیطالب، ج 3، ص 261 ؛ طبرسی، الاحتجاج، مشهد، ج 2، ص 305 و شیخ عباس قمی، منتهی الامال،ج 1، ص 733.
  111. سید بن طاووس، اللہوف ، ص 220-222؛ طبرسی، الاحتجاج، ج 2، ص 306؛ قمی، منتہی الامال، ج 1، ص 733.
  112. مجلسی، بحار الانوار ، ج 45، ص 117؛ سید بن طاووس، اللہوف، ص 228.
  113. سید بن طاووس، اللہوف ، ص 248 و ابن سعد، الطبقات الکبری، ج 10، ص 448 و حلی، مثیر الاحزان، ص 78 و ابومخنف، مقتل الحسین، ص 240.
  114. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج 10، ص 448.
  115. سید بن طاووس، اللہوف ، ص 290 و مجلسی، بحار الانوار، ج 45، ص 149 و شیخ عباس قمی، نفس المہموم ، ج 1، ص 794.
  116. دیکھیں: رمخشری، ربیع الابرار، ج1، ص353؛ طبری، تاریخ الطبری، ج5، ص245؛ دینوری، الامامه و السیاسه، ج1، ص208۔ حرہ کے واقعے میں یزیدی لشکر کے حملے میں مسلم بن عقبہ نے 700 عمائدین سمیت اہل مدینہ کے دس ہزار افراد کو قتل کیا۔ [خلیفة بن خیاط، تاریخ خلیفة بن خیاط، قسم1، ص291] ابن قتیبہ لکھتا ہے کہ یزید کے کمانڈر مسلم بن عقبہ نے صحابہ میں سے ستر افراد کو قتل کرکے ان کے سر تن سے جدا کر دیے [دینوری، ابو محمد ابن قتیبة الامامة والسیاسة، ج 1، ص 213- 212٫] مسلم بن عقبہ نے اہل مدینہ کے جان و مال کو غارت کرنے کے بعد یزید کے براہ راست حکم پر تین دن کی عرصے تک مدنی عوام کی ناموس کو اپنی سپاہ کے لیے مباح کر دیا اور ایک ہزار کنواری لڑکیوں کی بکارت زائل ہوئی اور حرہ کے بعد ہزاروں عورتوں نے بنا شوہر کے زنا کے بچوں کو جنم دیا جن کو اولاد الحرہ کا نام دیا گیا۔ ایک قول کے مطابق 10 ہزار کنواری لڑکیوں کو زيادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے بعد اہلیان مدینہ نے آزاد مسلمانوں کے طور پر نہيں بلکہ "عبد یزید" (یزید کے بندوں) کے طور پر یزید کی بیعت کی اور جس نے بیعت سے انکار کیا مسرف نے اس سے سپرد شمشیر کیا۔ سوائے علی بن عبد اللہ بن عباس کے جس کو مسرف کی فوج میں موجود اپنے رشتہ داروں نے بچا لیا۔ [مسعودی، ابو الحسن على، مروج الذهب، ج1، ص 328٫] تحریک حرہ کے فعال کارکنوں نے مسرف کی چڑھائی سے قبل ایک ہزار امویوں یا امویوں کے بہی خواہوں کو مدینہ سے نکال باہر کیا تو بعض اموی خاندانوں نے امام سجاد(ع) کے گھر میں پناہ لی اور جب مسرف کے فوجیوں نے شہر میں لوٹ مار کا آغاز کیا تو امام(ع) کا گھر مدنی مظلومین کے لیے پرامن ٹھکانے میں تبدیل ہوا تھا اور حتی کہ مسرف کی واپسی تک سو کے قریب خواتین اور بچے آپ کے گھر میں میں تھے اور ان کی ضروریات پوری ہوتی رہیں {طبرى‏، أبو جعفر محمد بن جریر، تاریخ طبرى ج 2، ص 482٫]۔
  117. دیکھیے: جعفری، تشیع در مسیر تاریخ، ص286.
  118. طوسی، رجال الکشی، ص126؛ طوسی، اختیار معرفة الرجال، ص 126.
  119. طوسی، اختیار معرفة الرجال، ص 115؛ طوسی، اختیار معرفة الرجال، ص 123
  120. طوسی، اختیار معرفة الرجال، ص 115.
  121. ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه، ج 4، ص 104، و نک: مجلسی، بحارالانوار، ج 46، ص 143؛ الغارات، ص 573.
  122. سید ابن طاووس، اللہوف، ص193؛ تاریخ سیاسی اسلام، رسول جعفریان، ج 3، ص 252
  123. صحیفہ سجادیہ، دعای 24، ص 152.
  124. دیکھیے: شہیدی، علی بن الحسین، ص191-169.
  125. شهیدی، علی بن الحسین، ص170-169.
  126. تہذیب الکمال: 404,403/20،سیر اعلام النبلا:400/4،الثقات:160/5،تہذیب التہذیب:307/7، تاریخ الاسلام:184/3،الطبقات:221/5،الکاشف:37/2
  127. علی بن یوسف حلی ،العدد القویہ316۔محمد بن جریر طبری،دلائل الامامہ،ص192۔ابن شہر آشوب، مناقب علی بن ابی طالب 3/311۔
  128. ابن شہر آشوب، مناقب علی بن ابی طالب 3/311۔کلینی،الکافی1/466۔محمد طبری،دلائل الامامہ 191۔کلینی،الکافی1/466۔شیخ مفید ،الارشاد2/137۔شیخ طبرسی،اعلام الوری 1/480۔ذہبی، سیر اعلام النبلاء4/400۔أحمد بن محمد كلاباذي،الہدايہ والإرشاد في معرفۃ أہل الثقہ والسداد2/527۔اربلی،کشف الغمہ، 2/294۔
  129. اربلی،کشف الغمہ، 2/294۔قاضی نعمان،شرح الاخبار3/275۔علی بن یوسف حلی ،العدد القویہ316۔ذہبی، سیر اعلام النبلاء:4/399و400۔ابن خشاب بغدادی،تاریخ موالید الائمہ،23۔أحمد بن محمد كلاباذي،الہدايہ والإرشاد في معرفۃ أہل الثقہ والسداد2/527۔
  130. محمد بن حبان بُستي، مشاهير علما الأمصار وأعلام فقهاء الأقطار104۔ ذہبی، سیر اعلام النبلاء4/400۔أحمد بن محمد كلاباذي،الہدايہ والإرشاد في معرفۃ أہل الثقہ والسداد2/527۔
  131. ذہبی، سیر اعلام النبلاء4/400
  132. محمد طبری،دلائل الامامہ 191۔شیخ طبرسی،اعلام الوری 1/480۔علی بن یوسف حلی ،العدد القویہ316۔اربلی،کشف الغمہ، 2/294۔ابن شہر آشوب، مناقب علی بن ابی طالب 3/311۔
  133. علی بن یوسف حلی ،العدد القویہ316۔شیخ طبرسی،اعلام الوری 1/480۔اربلی،کشف الغمہ، 2/294۔ابن شہر آشوب، مناقب علی بن ابی طالب 3/311۔
  134. شیخ طبرسی،اعلام الوری 1/480۔ابن شہر آشوب، مناقب علی بن ابی طالب 3/311۔
  135. ذہبی، سیر اعلام النبلاء4/400
  136. ذہبی، سیر اعلام النبلاء4/400
  137. ابن شہر آشوب، مناقب علی بن ابی طالب 3/311۔محمد طبری،دلائل الامامہ 191۔کلینی،الکافی1/466۔شیخ مفید ،الارشاد2/137۔شیخ طبرسی،اعلام الوری 1/480۔علی بن یوسف حلی ،العدد القویہ316۔
  138. ابن شہر آشوب، مناقب علی بن ابی طالب 3/311۔علی بن یوسف حلی ،العدد القویہ316۔
  139. علی بن یوسف حلی ،العدد القویہ316۔
  140. ابن‌سعد، طبقات الکبری، ج 5، ص 222؛ ابن منظور، مختصر تاریخ دمشق، ج 17، ص 256؛ اربلی، کشف الغمہ، ج 2، ص 191.
  141. ابن منظور، مختصر تاریخ دمشق، ج 17، ص231.
  142. شبراوی، الاتحاف بحب الاشراف، ص 143، مسعودی نے لکھا ہے کہ امام(ع) سنہ 95 ہجری میں رحلت کرگئے ہیں؛ دیکھیے: مسعودی، مروج الذہب، ج 3، ص 160
  143. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج 4، ص 386 و 391؛ مزی، تہذیب الکمال، ج 13، ص 238؛ س‍ی‍وطی، الطبقات الحفّاظ، ص 37؛ ابن خ‍ل‍ک‍ان، ‌وفیات الاعیان، ج 3، ص 269؛ مسعودی، مروج الذہب، ج 3، ص 169؛ اب‍ن‌ ک‍ث‍ی‍ر، البدایۃ والنّہایۃ، ج9، ص119.

مآخذ[ترمیم]

  • امام سجاد، صحیفہ سجادیہ۔
  • نہج البلاغہ، اردو ترجمہ مفتی جعفر حسین۔
  • قرآن مع اردو ترجمہ سید علی نقی نقوی (نقن)۔

سانچہ:صحیفہ سجادیہ سانچہ:امام سجاد(ع) سانچہ:چودہ معصومین