زین العابدین حسینی کاشانی
| سید | |
|---|---|
| زین العابدین حسینی کاشانی | |
| (عربی میں: زين العابدين الحسيني الكاشاني) | |
| اسکرپٹ نقص: فنکشن «fs» موجود نہیں ہے۔ | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | کاشان |
| وفات | 1630ء کی دہائی مکہ |
| وجہ وفات | ناگہانی قتل |
| مدفن | جنت المعلیٰ |
| شہریت | |
| مذہب | اسلام [1]، شیعہ اثنا عشریہ [1] |
| عملی زندگی | |
| استاذ | محمد امین استر آبادی |
| تلمیذ خاص | محمد مؤمن استرآبادی |
| پیشہ | عالم ، فقیہ ، محدث ، مصنف |
| پیشہ ورانہ زبان | عربی ، فارسی |
| اسکرپٹ نقص: فنکشن «fs» موجود نہیں ہے۔ | |
| درستی - ترمیم | |
سیّد زین العابدین بن نور الدین بن مراد حسینی کاشانی (وفات تقریباً 1040ھ / 1631ء) اوائل گیارہویں صدی ہجری کے ایک مسلمان عالم دین تھے۔ وہ ایران کے شہر کاشان میں ایک ہاشمی حسینی خاندان میں پیدا ہوئے اور بعد میں مکہ مکرمہ میں مقیم ہو گئے۔
وہ شیعہ اثناعشری فقیہ اور محدث تھے اور شیعہ روایات میں انھیں "شہداء" میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی مشہور اور واحد محفوظ تصنیف «مفرحة الانام فی تاسيس بيت اللہ الحرام» ہے، جس میں انھوں نے 1039ھ میں مکہ میں ہونے والے ایک اہم تاریخی واقعے (شدید بارش اور سیلاب) کا ذکر کیا ہے۔ یہ واقعہ بدھ کے دن 19 شعبان کو پیش آیا، جب شدید بارش کے باعث کعبہ شریف کو نقصان پہنچا۔ [2][3][4][5]
سیرت
[ترمیم]ان کا پورا نام زین العابدین بن نور الدین بن مراد بن علی بن مرتضیٰ حسینی کاشانی تھا۔ ان کی پیدائش کاشان (فارس) میں ہوئی، تاہم تاریخِ پیدائش معلوم نہیں۔ انھوں نے فقہ جعفری اور حدیث کی تعلیم محمد امین استرآبادی سے حاصل کی اور ان سے روایت بھی کی۔ ان کے شاگردوں میں محمد مؤمن استرآبادی اور عبد الرزاق مازندرانی شامل تھے۔
سیّد کاشانی کو ان کے علم اور 1039ھ/1630ء کے سیلاب کے بعد کعبہ کی بنیاد کی تجدید میں عملی شرکت کی وجہ سے خاص شہرت ملی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جب سیلاب سے کعبہ کی دیواریں منہدم ہوئیں تو 1040ھ/1631ء میں انھوں نے خود بنیاد میں پہلا پتھر رکھا اور تعمیر کے عمل میں حصہ لیا۔ بعد میں انھوں نے اس واقعے پر مذکورہ رسالہ تحریر کیا۔ شیعہ علما جیسے عبد الحسین امینی (کتاب شہداء الفضيلہ) اور محسن امین (کتاب أعيان الشيعة) نے ان کی تعریف کی ہے اور انھیں فضیلت والا عالم قرار دیا ہے۔
شہادت
[ترمیم]ان کی وفات کی درست تاریخ مذکور نہیں، لیکن روایات کے مطابق وہ تقریباً 1040ھ / 1631ء میں مکہ مکرمہ میں قتل کر دیے گئے۔ شیعہ مصادر کے مطابق انھیں بعض مخالفین نے ان کے تشیع اور اہلِ بیتؑ سے عقیدت کی وجہ سے قتل کیا۔ انھیں مکہ مکرمہ کے قبرستان جنت المعلیٰ میں دفن کیا گیا، جہاں انھوں نے پہلے سے اپنے لیے قبر تیار کر رکھی تھی۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ https://almerja.com/reading.php?idm=87406
- ↑ "السيد زين العابدين بن نور الدين بن مراد بن علي"۔ 2017-09-29 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-01-25
- ↑ "من مخطوطات مكة المكرمة: مفرحة الأنام في تأسيس بيت الله الحرام"۔ 2020-01-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-01-25
- ↑ حسين علي المصطفى (2016)۔ أعلام الشيعة في الحجاز: من القرن الثالث إلى القرن الحادي عشر (الأولى ایڈیشن)۔ القطيف، المملكة العربية السعودية: أطياف للنشر والتوزيع۔ ج المجلد الثاني۔ ص 327-332۔ ISBN:9786144266946
- ↑ "أعيان الشيعة - السيد محسن الأمين - ج ٧ - الصفحة ١٦٨"۔ 19 أبريل 2019 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-01-25
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت)