زین العابدین (مصور)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زین العابدین (مصور)
জয়নুল আবেদিন
1955ء میں عابدین
1955ء میں عابدین

معلومات شخصیت
پیدائش 29 دسمبر 1914[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کشور گنج ضلع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 28 مئی 1976 (62 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ڈھاکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
قومیت بنگلہ دیشی
عملی زندگی
تعليم
مادر علمی کلکتہ یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مصور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان بنگلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت کلکتہ یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
Independence Day Award Ribbon.jpg اعزاز یوم آزادی
Pride of Performance (ribbon).gif تمغائے حسن کارکردگی   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر

زین العابدین بنگلہ دیش کے مصور اور مجسمہ ساز تھے۔[3][4]

ولادت[ترمیم]

29 دسمبر 1914ء میں کشور گنج برطانوی مشرقی بنگال میں پیدا ہوئے۔[3]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

زندگی کا ابتدائی حصہ دریائے برھماپتر کے کنارے بسر ہوا۔ 1933 میں کولکتہ ( مغربی بنگال) کے گورنمنٹ آرٹ کالج میں شریک ہوئے۔ اسی زمانے میں انھوں نے اپنی پچپن کے یادیں جو دریائے برھماپتر کے کناروں پر بکھری ہوئی تھیں اسے اپنی تصاویر کا حصہ بنایا۔ اس کے بعد وہ لندن چلے گئے اور وہاں نیا مصوری کا بنگالی اسلوب متعارف کروایا۔[5]

بطور مصور[ترمیم]

ان کی تصاویر نیم تجریدی ہوتی تھیں۔ بعد میں انھوں نے بنگالی لوک ورثے اور اساطیر کے موضوعات پر پینٹگ کیں۔ 1944ء میں بنگال کی قحط سالی پر دلخراش اور حساس مصوری کرکے بہت شہرت کمائی۔ ان تصاویر کے پس منظر میں قومی جدوجہد، احتجاج، بغاوت، انسانی مساوات اور اعلی درجے کی فنکارانہ جمالیات پوشیدہ تھیں۔ زین العابدین ترقی پسندفنکاروں کے "کولکتہ گروپ " کے فعال رکن بھی رہے۔ اس حلقے میں شاہد سہروردی اور احمد علی ( جو بعد میں پاکستان آ گئے تھے) بھی شامل تھے۔ وہ بنگلہ دیش کی آزادی کے سر گرم حامی تھے۔ وہ اس تحریک کے ثقافتی بازو کے سرخیل بھی تھے۔ جو بنگالی قومیت، بنگالی شناخت اور مغربی پاکستان سے اپنی مکمل طور پر علیحدگی کی بات کرتا تھا انھوں نے پاکستان سے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے عدم تعلق کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور سڑکوں پر احتجاج میں بھی نظر آئے۔ زین العابدین نے گلہری کی دم سے اور چینی روشنائی کی مدد سے بھی مصوری کا تجربہ کیا۔ واٹر گلر، مومی رنگوں کو بھی استعمال کیا اس تکنیک کو " نوبانو" (NOBANNU) کا نام دیا۔۔ کچھ دن انہوں نے مغربی پاکستان میں بھی گزارے۔

وفات[ترمیم]

ان کا انتقال اکسٹھ (61) سال کی عمر میں عارضہ سرطان کے سبب 28 مئی 1976ء میں ڈھاکہ (بنگلہ دیش) میں ہوا۔[6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب https://rkd.nl/explore/artists/482286 — اخذ شدہ بتاریخ: 23 اگست 2017
  2. Benezit ID: http://oxfordindex.oup.com/view/10.1093/benz/9780199773787.article.B00200864 — بنام: Zainul Abedin — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — ISBN 978-0-19-977378-7
  3. ^ ا ب "زین العابدین"۔ artist.christies.com۔ Christie's۔ اصل سے جمع شدہ 17 اکتوبر 2015 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 مئی 2017۔ 
  4. Alom، Zahangir (29 دسمبر 2015)۔ "Homage to Shilpacharya Zainul Abedin"۔ The Daily Star۔ اصل سے جمع شدہ 5 جنوری 2016 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 مئی 2017۔ 
  5. Islam، Monwarul (29 دسمبر 2014)۔ "Shilpacharya Zainul Abedin’s birth centenary today"۔ New Age۔ اصل سے جمع شدہ 29 جون 2015 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 مئی 2017۔ 
  6. "Shilpacharya Zainul Abedin’s birth centenary today"۔ [[:en:The Independent (Bangladesh)|]] (Dhaka)۔ 29 December 2015۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ5 جنوری 2016 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 مئی 2017۔