سائل دھلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سائل دھلوی

سائل دہلوی ایک شاعر تھے۔

پیدائش[ترمیم]

تاریخ پیدائش : 29 مارچ 1864ء

ڈاکٹر سید اعجاز حسین کی رائے[ترمیم]

’’سائل ؔ کی غزلوں میں شوخی اور لطافت ساتھ ساتھ ہیں۔ کلام میں شگفتگی اور انبساط کا مخزن ہے۔ مگر ابتذال اور عامیانہ پن سے کوسوں دور۔ معشوقوں سے چھیڑ چھاڑ بھی ہے۔ لیکن حفظ مراتب کے ساتھ۔ جہاں اشعار مزیدار گفتگو کا مرقع پیش کرتے ہیں۔ وہاں دلکشی کی حد نہیں رہتی۔ پر گوئی کا یہ عالم تھا کہ سخت سے سخت زمین میں بھی بہت سے اشعار کہ دینا معمولی بات تھی۔ استاذی کا یہ حال تھا کہ اس مضمون کو چاہتے نہایت خوبصورتی سے عاشقانہ رنگ دیتے، شعر کی مضبوطی اور الفاظ کے در و بست کا خاص خیال رکھتے تھے ‘‘[1]

خاوردہلوی کی رائے[ترمیم]

’’نواب صاحب قبلہ شاعر سے زیادہ ایک انسان تھے۔ وہ دہلی کی تہذیب و تمدن کا آخری نمونہ تھے۔ شعر و ادب کے علاوہ بہت سی خوبیاں ان میں تھیں۔ بے مثال خطاط اور خوش نویس تھے۔ کشیدہ کاری میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔ .....غرض کہ ان میں وہ سب کمالات تھے جو اس دور کے رؤسا کا طرَّۂ امتیاز تھے ‘‘[2]

تعارف[ترمیم]

سراج الدین احمد خاں نام، سائل تخلص، سنہ ولات 1864ء۔ مقام ولادت دہلی اور والد کا نام نواب شہاب الدین احمد خاں ثاقب ابن ضیاء الدین احمد خاں جاگیر دار ریاست لو ہارو ہے۔ چار سال کی عمر میں سایۂ پدری سر سے اٹھ گیا اور اپنے جد بزرگوار کے آغوش شفقت میں پرورش پانے لگے۔

حالات زندگی[ترمیم]

فارسی کی تعلیم مولوی قاسم علی سے اور فنی کتابیں مرزا ارشد علی گور گانی سے پڑھیں اور انہیں کو ابتدائی کلام دکھایا۔ پہلی شادی نواب ممتاز حسن خاں کی بہن سے ہوئی تھی۔ چند سال کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ تو دوسرا عقد 24 سال کی عمر میں فصیح الملک نواب مرزا خاں داغ دہلوی کی دختر خواندہ سے ہوا۔ تین سال کی مشق میں جناب داغ کے تلامذہ ارشد میں جگہ پائی۔ شوق شعر گوئی کے علاوہ شہسواری اور پولو کا از حد شوق تھا اور بہترین ’’ جاکی ‘‘شمار ہوتے تھے۔ سائل دہلوی کا انتقال 15 ستمبر 1945 میں ہوا۔

سائل تخلص رکھنے کی وجہ[ترمیم]

رہا یہ سوال کہ سائل ؔ تخلص کیسے رکھا گیا؟تو آئیے!ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ محفل جمی۔ جس میں نواب احمد سعید خان یعنی سائل دہلوی کے چچا بھی موجود تھے۔ مسئلہ یہ زیر بحث آیا کہ سرا ج الدین احمد خاں کا تخلص کیا رکھا جائے؟اسی فکر میں سب غلطاں و پیچاں تھے کہ ایک شریف صورت انسان وارد ہوئے۔ چہرے مہرے سے اچھے آدمی لگتے تھے۔ پوچھا گیا کہ بھائی آپ کو ن ہیں؟کہا:حضور سائل ہوں ‘‘۔ چنانچہ اسی وقت سے نواب صاحب کو سائلؔ دہلوی کہا جانے لگا۔[3]

وفات[ترمیم]

تاریخ وفات : 15 ستمبر 1945 ء

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مختصر تاریخ ادب اردو، از:ڈاکٹر سید اعجاز حسین، ڈی، لٹ۔ صفحہ:160۔ مطبوعہ:1934ء
  2. دلی والے، مرتبہ:محمد صلاح الدین، مضمون :خار دہلوی، صفحہ:187، مطبوعہ:1986ء
  3. دس عالم شعرا از ظہیردانش عمری صفحہ 23