ساتھن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ساتِھن (ہندی: साथिन) یا ساتھین ایک اعزازی عہدہ ہے جو بھارت کی ریاست راجستھان کے دیہی علاقوں میں بے حد عام ہے۔ یہاں ہر ایک گرام (گاؤں کی) پنچایت میں ایک ساتھن ضرور ہوتی ہے جس کا چناؤ اس پنچایت کے علاقے کی مہیلا گرام سبھا (دیہی خواتین کی مجلس) کی جانب سے کیا جاتا ہے۔

انجام پانے والے کام[ترمیم]

ساتھنوں کی جانب سے یہ کام انجام پاتے ہیں:

  • پنجایتوں میں خواتین کی نمائندگی۔
  • دیہی خواتین کے مسائل کی یکسوئی اور انہیں عند الضرورت مشورے فراہم کرنا۔
  • سرکاری منصوبہ جات میں مختصس خواتین کے لیے تجویز کو رو بہ عمل لانا، گاؤں کی خواتین کو ان سے واقف کرانا اور انہیں استفادہ کرنے پر آمادہ کرنا۔
  • امراض نسواں کی روک تھام، ان کی تعلیم اور انسدادی تدابیر میں حصے داری۔
  • صحیح عمر میں لڑکیوں کی شادی کو یقینی بنانا۔
  • خواتین کی خواندگی کی ترغیب۔
  • دیگر خواتین سے متعلق امور پر کام کاج۔[1]

تعداد میں توسیع[ترمیم]

2018ء میں ریاست کی نو تشکیل شدہ 723 گرام پنچایتوں کے ساتھ ساتھ 2,252 گرام پنچایتوں میں خاتوں ساتھنوں کی بھرتی کا عمل جاری ہے۔ عہدہ حاصل کرنے کے لیے تعلیمی اہلیت دسویں کا امتحان پاس ہونا اور درخواست پیش کردہ گاؤں کی مقیم خاتون ہونا ہے۔ حکومت کے ذمے داروں کے مطابق یہ تقررات کا عمل سرعت سے مکمل ہوگا۔

یہاں یہ غور طلب ہے کہ راجستھان کی مہیلا ادھیکاریتا وبھاگ (محکمہ برائے تفویض اختیارات خواتین) نے 5 نومیر 2015ء کو 723 نئے گرام پنچایتوں کی تشکیل دے چکا ہے۔ ان تو تشکیل شدہ گرام پنچایتوں اور ساتھ ساتھ 2,252 گرام پنچایتوں میں متعین ساتھنوں کے لیے ہر مہینے کچھ اعزاری رقم مختص کی گئی ہے، جس سے ان کی سرگرمیوں اور گزر بسر کے اخراجات کی پا بہ جائی ممکن ہو سکے۔[2]

مسائل[ترمیم]

ساتھنوں کے کام دائرہ کافی وسیع ہے۔ ان کے کام صحیح دائرہ کسی تعریف میں بند نہیں۔ راجستھان کے کئی گاؤں میں جدید دور میں بھی مردوں کی حکومت اور ان کی ہی بالا دستی چلتی ہے۔ ایسے میں کئی بار ساتھنوں کا ٹکراؤ بااثر لوگوں سے ہوتا ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ راجستھان کی ساتھن بھنوری دیوی کی آبرو ریزی کا معاملہ ہے۔ یہ خاتون ایک کم عمر لڑکی کی شادی روکنا چاہتی تھی۔ تاہم اس سے راجستھان کے بااثر اور بارتبہ سیاسی رسوخ رکھنے والے لوگ غصے میں آ گئے اور ان لوگوں نے بھانوری دیوی کی آبرو ریزی کر ڈالی۔ بسی سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایم ایل اے کنہیا لال مینا نے تو ان خاطیوں کی تائید میںریالی بھی نکالی تھی۔ باوجود فعالیت پسند خواتین کے زبر دست احتجاج کے باوجود پورے ایک سال کے بعد عدالت میں ملزموں کے خلاف فرد جرم داخل کیا جا سکا۔ ملزمین میں سے پانچ کی گرفتاری عمل میں آئی۔ اس جد و جہد کی وجہ سے بھنوری دیوی کو نیرجا بھنوٹ انعام سے نوازا گیا تھا۔ یہ انعام کے ساتھ انہیں ایک لاکھ روپیے، ایک طلائی ٹروفی اور ایک توصیفی سند ملی۔ یہ انعام انہیں بھارت کے سابق صدر انتخابی کمیشن ٹی این سیشن نے دیا تھا۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]